#بغیر زُمرہ

پنجاب میں ایم پی ایز اور پولیس آمنے سامنے، استحقاق کمیٹی کیوں متحرک ہو گئی؟

new desingjjjjj

تحریر رانا طارق رفیق

پنجاب میں عوامی نمائندوں اور پولیس افسران کے درمیان کشیدگی کھل کر سامنے آنے لگی ہے۔ ایک طرف سیاسی ناراضگی کے بعد ڈی پی او حافظ آباد

کا تبادلہ کیا گیا، جبکہ دوسری جانب ڈی پی او قصور اور ڈی پی او جھنگ کو اراکین اسمبلی کی شکایات پر پنجاب اسمبلی کی استحقاق کمیٹی کے سامنے پیش ہونا پڑا۔ اسی دوران تقریباً 70 اراکین اسمبلی نے پولیس اور سی سی ڈی کے خلاف مختلف شکایات اسمبلی میں جمع کرا رکھی ہیں۔ یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا پولیس افسران عوامی نمائندوں کی جائز شکایات اور سفارشات کو نظر انداز کر رہے ہیں، یا پھر بعض اراکین اسمبلی اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے انتظامی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں؟ حقیقت جو بھی ہو، عوام کی جانب سے پولیس پر بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی شکایات پہلے ہی موجود تھیں، اب انہی نوعیت کی آوازیں منتخب نمائندوں کی جانب سے بھی بلند ہو رہی ہیں۔
حافظ آباد میں ایک تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ایم پی اے کے بیٹے کے واش روم استعمال کرنے کے معاملے پر سیاسی اختلاف پیدا ہوا۔ ذرائع کے مطابق تارڑ اور بھٹی خاندان کی وزیراعلیٰ پنجاب سے شکایت کے بعد سابق ڈی پی او حافظ آباد کامران حامد کو اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑا۔
قصور میں رکن پنجاب اسمبلی ملک احمد سعید نے ڈی پی او آفتاب پھلروان کے خلاف تحریکِ استحقاق جمع کرائی۔ اس معاملے میں آر پی او شیخوپورہ سمیت متعلقہ افسران کو استحقاق کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر ارکان کے سخت سوالات کے جواب دینا پڑے۔ اسمبلی ذرائع کے مطابق اس معاملے پر اسپیکر پنجاب اسمبلی کی ناراضی کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
جھنگ میں رکن اسمبلی رانا شہباز نے شکایت کی کہ احمد پور سیال کے ایس ایچ او واصف نول نے ان کی سفارش نظر انداز کرتے ہوئے ایک مقدمے میں 25 ہزار روپے رشوت لی۔ اس معاملے پر ڈی پی او جھنگ، ڈی ایس پی احمد پور سیال اور ایس ایچ او کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران کمیٹی نے ایس ایچ او پر غلط بیانی کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے عہدے سے ہٹانے کی سفارش کر دی۔
بعد ازاں اپوزیشن رکن شعیب امیر نے ایک نئی تحریکِ استحقاق جمع کرائی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ جھنگ پولیس نے استحقاق کمیٹی کے سامنے جھوٹ بول کر ایوان کا استحقاق مجروح کیا، لہٰذا ڈی پی او جھنگ کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔
یہ تینوں واقعات مختلف اضلاع سے تعلق رکھتے ہیں، تاہم یہ ایک بڑے رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ دو برسوں تک بیوروکریسی نسبتاً مضبوط پوزیشن میں تھی اور عوامی نمائندوں کی شکایات کے باوجود افسران کو استحقاق کمیٹی کے سامنے کم ہی طلب کیا جاتا تھا۔ سابق آئی جی پنجاب عثمان انور کے دور میں بھی شاذ و نادر ہی کسی پولیس افسر کو اسمبلی کمیٹی کے سامنے پیش ہونا پڑا، تاہم پولیس قیادت میں تبدیلی کے بعد افسران کی پیشیوں میں واضح اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
صرف پولیس ہی نہیں بلکہ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے متعلق ایک تحریکِ استحقاق پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری احمد رضا سرور بھی پنجاب اسمبلی کی استحقاق کمیٹی کے سامنے پیش ہو چکے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسمبلی اب بیوروکریسی کے احتساب میں زیادہ فعال کردار ادا کر رہی ہے۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا بیوروکریسی عوامی نمائندوں کے ساتھ بہتر ورکنگ ریلیشن شپ قائم کرنے میں کامیاب ہو گی، یا اسمبلی کمیٹیوں میں پیشیوں کا سلسلہ مزید بڑھے گا؟ اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ ایم پی ایز اور بیوروکریسی کے درمیان جاری اس سرد جنگ کا کوئی عملی فائدہ عام شہری کو بھی پہنچے گا، یا یہ محض اختیارات، انا اور اثر و رسوخ کی کشمکش تک محدود رہے گی۔ تحریر رانا طارق رفیق

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے