ستلج ایک فلم، ایک دریا اور تاریخ کے بند دریچوں پر دستک
تحریر: ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
یہ بھارت کی ایک پنجابی فلم ہے جس کا نام "ستلج” ہے۔ ایک ایسی فلم جس نے ریلیز ہوتے ہی صرف فن اور سینما کی دنیا میں نہیں بلکہ سیاست، تاریخ اور اظہارِ رائے کے حلقوں میں بھی بحث چھیڑ دی۔ دو دن بعد اس فلم کا بھارت میں دستیاب نہ رہنا ایک بار پھر اس سوال کو سامنے لے آیا کہ کیا طاقت کے ذریعے تاریخ کے سوالات کو ہمیشہ کے لیے خاموش کیا جا سکتا ہے؟
ستلج صرف پانی کا بہتا ہوا دریا نہیں بلکہ پنجاب کی تاریخ کا زندہ گواہ ہے۔ اس کے کناروں نے بادشاہتوں کا عروج و زوال دیکھا، تقسیمِ ہند کا درد دیکھا، ہجرت کے قافلے دیکھے اور وہ سیاسی طوفان بھی دیکھے جنہوں نے پنجاب کی سرزمین پر گہرے نشان چھوڑے۔
بھارتی پنجاب کی جدید تاریخ کا ایک نہایت حساس باب 1980 اور 1990 کی دہائی کے حالات ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب خالصتان تحریک، ریاستی کارروائیاں، تشدد، خوف اور انسانی حقوق کے سوالات ایک ساتھ سامنے آئے۔ ہزاروں خاندان اس دور کی تلخ یادیں آج بھی اپنے سینوں میں محفوظ کیے ہوئے ہیں۔
"ستلج” کی کہانی اسی حساس پس منظر سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھلڑا کی زندگی اور جدوجہد سے متاثر بتائی جاتی ہے، جنہوں نے پنجاب میں لاپتا افراد کے معاملے پر آواز اٹھائی۔ ان کی جدوجہد نے یہ سوال پیدا کیا کہ ریاستی طاقت اور عام شہری کے حقوق کے درمیان توازن کہاں ہونا چاہیے.
کسی بھی ملک کے لیے قومی سلامتی اہم ہوتی ہے، مگر اسی کے ساتھ انسانی حقوق، انصاف اور اظہارِ رائے بھی ایک مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں۔ اگر تاریخ کے کسی باب میں تکلیف ہے تو اس کا حل خاموشی نہیں بلکہ تحقیق، مکالمہ اور حقیقت کا سامنا ہے۔
مودی دور میں بھارت کے اندر اظہارِ رائے کے حوالے سے مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ بعض ناقدین کا خیال ہے کہ حساس سیاسی یا تاریخی موضوعات پر بات کرنا پہلے سے زیادہ مشکل ہوا ہے، جبکہ حکومت کے حامی اسے قومی مفادات اور سلامتی کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔
یہی کشمکش "ستلج” جیسی فلموں کو بحث کا مرکز بنا دیتی ہے۔
دنیا بھر میں سینما نے ہمیشہ مشکل موضوعات اٹھائے ہیں۔ جنگیں، ریاستی فیصلے، عوامی تحریکیں اور انسانی المیے فلموں کا حصہ بنتے رہے ہیں۔ ایک فلم لازمی نہیں کہ مکمل تاریخ ہو، لیکن یہ تاریخ پر سوال اٹھانے کا ذریعہ ضرور بن سکتی ہے۔
پنجاب کی سرزمین ہمیشہ مزاحمت، محبت اور صوفیانہ فکر کی زمین رہی ہے۔ یہاں بابا فرید کی آواز بھی گونجی، بلھے شاہ کا پیغام بھی پھیلا اور وارث شاہ نے انسان کے دکھ کو لفظ دیے۔ اسی پنجاب نے تقسیم کے زخم بھی برداشت کیے اور سیاسی بحران بھی دیکھے۔
ستلج دریا بھارت اور پاکستان کے جغرافیے سے گزرتا ہے، مگر اس کی یادیں صرف سرحد کے ایک طرف محدود نہیں۔ پنجاب کی ثقافت، زبان اور تاریخ دونوں طرف کے لوگوں کو ماضی کی مشترکہ داستان سناتی ہے۔
کسی فلم کو پسند یا ناپسند کرنا ہر انسان کا حق ہے۔ اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے تنقید بھی ہو سکتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا کسی خیال کو مکمل روک دینا مسائل کا حل ہے.
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جن باتوں کو دبایا جاتا ہے وہ اکثر مزید طاقت سے واپس آتی ہیں۔ کتابیں، شاعری، فلمیں اور فن انسانی یادداشت کا حصہ بن جاتے ہیں۔
"ستلج” ایک فلم سے بڑھ کر اس بحث کی علامت بن گئی ہے کہ معاشرے اپنے ماضی سے کیسے نمٹتے ہیں۔ کیا وہ مشکل سوالات کا سامنا کرتے ہیں یا انہیں وقت کے اندھیروں میں چھوڑ دیتے ہیں؟
دریا کی فطرت بہنا ہے۔ اسے روکنے کے لیے بند تو بنائے جا سکتے ہیں مگر پانی اپنا راستہ تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی طرح تاریخ اور سچ کے سوالات بھی کسی نہ کسی صورت سامنے آتے رہتے ہیں۔
ستلج بہتا رہے گا، پنجاب کی کہانیاں زندہ رہیں گی اور آنے والی نسلیں پوچھتی رہیں گی کہ ماضی سے ہم نے کیا سیکھا۔
کیونکہ قوموں کی اصل طاقت صرف اپنی کامیابیوں کو یاد رکھنے میں نہیں بلکہ اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے میں ہوتی ہے۔






