#کالم

اقدار اور کردار سیرت النبی ﷺکی روشنی میں

Untitled 7

آپا منزہ جاوید اسلام آباد

اقدار اور کردار کسی بھی معاشرے کی اصل بنیاد ہوتے ہیں۔ جب اقدار مضبوط ہوں تو کردار نکھر جاتا ہے، اور جب کردار سنور جائے تو قومیں ترقی، امن اور وقار کی راہ پر گامزن ہو جاتی ہیں۔ تاریخِ انسانی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جن معاشروں نے اخلاقی اصولوں کو نظرانداز کیا وہ زوال کا شکار ہوئے، اور جنہوں نے اخلاق کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا وہ دنیا کے لیے مثال بن گئے۔ اسلام نے انسانیت کو جو سب سے بڑا تحفہ دیا وہ کردار کی اصلاح ہے، اور اس اصلاح کا کامل ترین نمونہ ہمیں سیرتِ رسولِ اکرم ﷺ میں نظر آتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو پوری انسانیت کے لیے نمونہ بنا کر بھیجا۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہوتا ہے کہ یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ نبی ﷺ کی سیرت صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر پہلو—معاشرت، معاملات، اخلاق اور کردار—کو محیط ہے۔ نبی کریم ﷺ کی پوری زندگی اعلیٰ اقدار کا عملی اظہار ہے، اسی لیے قرآنِ مجید نے آپ ﷺ کے اخلاق کو عظیم قرار دیا۔
نبی کریم ﷺ کی زندگی سچائی اور امانت کا روشن نمونہ ہے۔ نبوت سے پہلے بھی آپ ﷺ کو الصادق اور الامین کہا جاتا تھا۔ اہلِ مکہ، جو بعد میں آپ ﷺ کے سخت مخالف بن گئے، وہ بھی اپنی امانتیں آپ ﷺ کے پاس رکھواتے تھے۔ ہجرت کے موقع پر بھی آپ ﷺ نے حضرت علیؓ کو اس لیے مکہ میں چھوڑا کہ لوگوں کی امانتیں ان کے اصل حق داروں تک پہنچا دی جائیں۔ یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلام میں کردار کی بنیاد سچائی اور امانت پر رکھی گئی ہے، نہ کہ ذاتی فائدے پر۔
عدل و انصاف نبی کریم ﷺ کے کردار کا ایک نمایاں پہلو ہے۔ آپ ﷺ نے ہمیشہ انصاف کو رشتہ داری، طاقت اور حیثیت سے بالاتر رکھا۔ ایک موقع پر جب ایک معزز خاندان کی عورت کے جرم پر سفارش کی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم سے پہلے قومیں اسی لیے ہلاک ہوئیں کہ وہ طاقتور کو چھوڑ دیتی تھیں اور کمزور پر قانون نافذ کرتی تھیں۔ اس فرمان سے واضح ہوتا ہے کہ اسلامی اقدار میں انصاف محض ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ معاشرتی بقا کی ضمانت ہے۔
نبی کریم ﷺ کی زندگی صبر، حلم اور برداشت کی بے مثال تصویر ہے۔ مکہ میں آپ ﷺ پر ظلم کیے گئے، طائف میں پتھر مارے گئے، مگر آپ ﷺ نے کبھی ذاتی انتقام کو ترجیح نہیں دی۔ اس موقع پر بددعا کے بجائے آپ ﷺ کی زبان سے ہدایت کی دعا نکلی۔ یہ وہ کردار ہے جو انسان کو اخلاقی بلندی پر فائز کرتا ہے اور سیرتِ نبی ﷺ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ اصل عظمت غصے پر قابو پانے اور تکلیف میں صبر کرنے میں ہے۔
رسول اللہ ﷺ سراپا رحمت تھے۔ قرآنِ مجید نے آپ ﷺ کو رحمتٌ للعالمین قرار دیا۔ آپ ﷺ نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں کے ساتھ بھی شفقت کا برتاؤ کرتے تھے۔ یتیموں سے محبت، بیواؤں کی دل جوئی، غلاموں کو آزادی دینا اور بیماروں کی عیادت آپ ﷺ کی روزمرہ زندگی کا حصہ تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ یہ تعلیم ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کردار کی اصل خوبصورتی نرمی، محبت اور ہمدردی میں ہے۔
فتحِ مکہ کا موقع سیرتِ نبی ﷺ کا وہ روشن باب ہے جہاں عفو و درگزر اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے۔ برسوں کے مظالم، اذیتوں اور دشمنی کے باوجود نبی کریم ﷺ نے عام معافی کا اعلان فرمایا اور دشمنوں کو آزاد کر دیا۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ معافی کمزوری نہیں بلکہ اعلیٰ کردار اور اخلاقی طاقت کی علامت ہے۔ اگر آج کے معاشرے میں بھی یہ صفت پیدا ہو جائے تو بہت سے جھگڑے اور نفرتیں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں۔
نبی کریم ﷺ کی زندگی سادگی اور تواضع کا عملی نمونہ تھی۔ آپ ﷺ سربراہِ مملکت، قاضی اور سپہ سالار ہونے کے باوجود عام لوگوں کی طرح زندگی گزارتے تھے۔ خود کام کرنا، زمین پر بیٹھنا اور محتاجوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا آپ ﷺ کی عاجزی کا ثبوت ہے۔ یہ پہلو ہمیں سکھاتا ہے کہ حقیقی عظمت اقتدار میں نہیں بلکہ انکساری میں ہے۔
سیرتِ نبی ﷺ میں اقدار اور کردار کی عملی جھلک خطبۂ حجۃ الوداع میں اپنے عروج پر نظر آتی ہے، جو انسانی تاریخ کا ایک عظیم اخلاقی منشور ہے۔ اس خطبے میں نبی کریم ﷺ نے جان، مال اور عزت کی حرمت کو واضح فرمایا اور اعلان کیا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں، فضیلت کا معیار صرف تقویٰ ہے۔ آپ ﷺ نے عورتوں کے حقوق کی حفاظت، امانتوں کی ادائیگی، ظلم سے اجتناب اور باہمی بھائی چارے کو لازم قرار دیا۔ سود، جاہلیت کی رسوم اور ناانصافی کو ختم کرنے کا اعلان کر کے آپ ﷺ نے واضح فرما دیا کہ اسلام ایک عادل اور متوازن معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے۔ خطبۂ حجۃ الوداع درحقیقت سیرتِ نبی ﷺ کا خلاصہ ہے، جو ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اعلیٰ اقدار ہی مضبوط کردار کو جنم دیتی ہیں اور یہی کردار ایک صالح معاشرے کی تشکیل کا ضامن بنتا ہے۔
آج کا معاشرہ اخلاقی زوال، خود غرضی اور عدم برداشت کا شکار نظر آتا ہے۔ اگر ہم سیرتِ نبی ﷺ کی روشنی میں اپنی زندگیوں کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے بیشتر مسائل اخلاقی کمزوریوں کا نتیجہ ہیں۔ سچائی، انصاف، صبر، رحم اور عفو وہ اقدار ہیں جو اگر فرد کی زندگی میں آ جائیں تو پورا معاشرہ سنور سکتا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ سیرتِ نبی ﷺ محض تاریخ نہیں بلکہ ایک زندہ ضابطۂ حیات ہے۔ یہ ہمیں ایک اچھا انسان، ایک ذمہ دار شہری اور ایک باکردار مسلمان بننے کا راستہ دکھاتی ہے۔ اگر ہم اپنی زندگیوں میں نبی کریم ﷺ کے کردار کو اپنانے کی کوشش کریں تو ہماری اقدار بھی مضبوط ہوں گی اور ہمارا کردار بھی، کیونکہ کردار کے بغیر قومیں اور اقدار کے بغیر انسان اپنی پہچان کھو دیتا ہے۔

اقدار اور کردار سیرت النبی ﷺکی روشنی میں

معیشت کے الاؤ پر عوام

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے