مسلمانوں کیخلاف عالمی سازش ؟
اج کا اداریہ
پاکستان میں غیر ملکی خواتین سے ناروا رویے کے حوالے سے جو دھول اڑائی گئی ہے اسکا محض مقصد دھوکہ دہی ‘ فراڈ کے عالمی نیٹ ورک سے نظریں ہٹا کر اس واقعے کو سیاسی رنگ دینے کی نظر سے ہی دیکھا گیا تاہم اس کیس کا ایک تیسرا پہلو بھی ہوسکتا ہے جس طرف کسی کا دھیان نہیں گیا وہ ہے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی عالمی سازش !حال ہی میں برطانوی حکومت نے نوعمر لڑکیوں کا جنسی استحصال کرنے والے گروہ کے سرغنہ کو پاکستان بھجوانے کے لیے قانون کو تبدیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ ہوم سیکریٹری قانون میں تبدیلی کریں گی تاکہ روچڈیل کے ’گرومنگ گینگ‘ (نابالغوں کو جنسی استحصال کے لیے پھنسانے والے گروہ) کے سرغنہ شبیر احمد کو ملک بدر کیا جا سکے جس کا تعلق پاکستان سے ہے۔شبیر احمد جو لڑکپن میں ہی پاکستان چھوڑ گیا تھا۔برطانوی معاشرے میں بڑا ہوا۔جوانی گزری اب بڑھاپے میں اس پر گرومنگ گینگ کاسرغنہ قراردیکرملک بدرکرنے منصوبہ بندی کی جارہی ہے تاکہ پاکستان اور مسلمانوں کے حوالے سے عالمی سطح پر منفی تاثر کو ابھارا جاسکے۔
واضح رہے کہ شبیر احمد کو
روچڈیل کے ’گرومنگ گینگ‘ (نابالغوں کو جنسی استحصال کے لیے پھنسانے والے گروہ) کا سرغنہ کے طور پر عدالت میں پیش کرکے سزا دلوائی گئی تھی ۔73 سالہ شبیر احمد، جنھیں اُن کے متاثرین ’ڈیڈی‘ کے نام سے جانتے تھے، کو گذشتہ ہفتے جیل سے رہا کیا گیا۔شبیر احمد کے پاس برطانیہ اور پاکستان کی دوہری شہریت تھی مگر 2012 میں کم عمر لڑکیوں کے ساتھ متعدد مرتبہ ریپ اور جنسی جرائم میں ملنے والی سزا کے بعد اُن کی برطانوی شہریت ختم کر دی گئی تھی تاہم متاثرین کو بتایا گیا تھا کہ شبیر احمد کو پاکستان ڈی پورٹ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ 55 برس پرانا ایک قانون ان کی ملک بدری کی راہ میں رکاوٹ ہے۔شبیر احمد کو برطانیہ سے نکالنے کے لیے قانون میں تبدیلی کے مطالبات سامنے آنے کے بعد برطانوی وزیراعظم سر کیئر سٹارمر نے وزیرِ داخلہ کو اس مقدمے کا جائزہ لینے کی ہدایت کی تھی۔معلوم ہوا ہے کہ 73 سالہ شبیر احمد جیل سے رہا ہونے کے بعد اب 24 گھنٹے عملے کی نگرانی والی رہائش گاہ میں رہتے ہیں جہاں وہ جی پی ایس سے منسلک الیکٹرانک نگرانی کا ٹیگ پہنے ہوئے ہیں۔ہوم آفس نے کہا ہے کہ اگر شبیر احمد نے شرائط کی خلاف ورزی کی تو انھیں فوری طور پر دوبارہ جیل بھیج دیا جائے گا۔آن لائن شائع ہونے والی دستاویزات میں کہا گیا کہ امیگریشن ایکٹ 1971 کی شقوں کے تحت شبیر کو پاکستان واپس بے دخل نہیں کیا جا سکتا۔اس قانون کے مطابق چونکہ شبیر احمد سنہ 1973 سے پہلے برطانیہ پہنچے تھے اور بیدخلی پر غور کیے جانے سے قبل کم از کم پانچ سال برطانیہ میں رہے ہیں، اس لیے ان کی ملک بدری پر پابندی ہے۔
یہ خبر سامنے آنے کے بعد روچڈیل گینگ کے متاثرین میں سے ایک نے کہا کہ اب وہ ’اپنی سلامتی کے بارے میں خوفزدہ‘ محسوس کرتی ہیں۔متاثرہ خاتون، جنھیں 12 سال کی عمر سے جنسی حملوں کا نشانہ بنانے کا آغاز کیا گیا تھا، نے بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ کو بتایا کہ شبیر احمد روچڈیل، اولڈہم اور مڈلٹن میں اچھی طرح جانے جاتے تھے۔انھوں نے کہا کہ اگرچہ وہ ان علاقوں میں موجود نہ بھی ہوں، تب بھی وہ (شبیر) وہاں کے لوگوں سے رابطہ کر سکتا ہے، جس کی وجہ سے وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں۔اُن کا کہنا ہے کہ مقدمے کے اختتام پر انھیں بتایا گیا تھا کہ سزا پوری ہونے کے بعد تمام مجرموں کو ملک بدر کر دیا جائے گا، لیکن اب تک ایسا نہیں ہوا۔اُن کے بقول ’ہمیں بار بار ایسے وعدے کیے گئے جو پورے نہیں ہوئے۔ 2022 میں اینڈی برنہم، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سر کیئر سٹارمر کے بعد وزیر اعظم بن سکتے ہیں، نے کنزرویٹو حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ گرومنگ گینگ کے ارکان کو بیدخل کرنے کے لیے ’اپنے اختیار میں موجود ہر ممکن اقدام‘ کرے۔روچڈیل سے رُکن پارلیمان پال واغ نے ڈیلی ٹیلیگراف کو بتایا کہ ’روچڈیل کے لوگ چاہتے ہیں کہ انھیں ملک سے باہر نکالا جائے اور یہ بالکل ناقابل قبول ہے کہ پاکستان کی حکومت انھیں واپس لینے سے انکار کر رہی ہے۔’اگر شہریت کے قانون میں ترمیم کی ضرورت ہے تو وزرا کو اس پر غور کرنا چاہیے۔‘ 2008 کے اوائل سے دو سال تک، شبیر احمد نے ایسے افراد کے گروہ کی قیادت کی جو روچڈیل میں 12 سال تک کی کم عمر لڑکیوں کو الکوحل اور منشیات دیتے اور پھر جنسی استحصال کے لیے ایک دوسرے کے حوالے کرتے تھے۔جبکہ شبیر نے مقدمے کے دوران ہی جج کو ’نسل پرست‘ کہا مقدمے کو جھٹلایا اور یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے یورپی عدالتِ انسانی حقوق سے رجوع کیا کہ انھیں منصفانہ ٹرائل کا حق نہیں ملا۔ 2012 میں لیورپول کراؤن کورٹ نے انھیں 19 سال قید کی سزا سنائی، وہ ان نو افراد میں شامل تھے جنھیں روچڈیل گرومنگ گینگ کے مقدمے میں پانچ لڑکیوں کے خلاف جرائم پر سزا ہوئی۔مزید کارروائی میں مانچسٹر کراؤن کورٹ نے انھیں ایک لڑکی کے ساتھ ایک دہائی سے زائد عرصے تک ریپ اور جنسی استحصال کا مجرم قرار دیا۔ استغاثہ کے مطابق شبیر احمد نے متاثرہ لڑکی کو اپنی ’ملکیت‘ کے طور پر استعمال کیا اور اسے باقاعدگی سے ریپ کا نشانہ بنایا۔
2014 میں احمد نے اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کی، تاہم اپیل کورٹ نے اُن کا مؤقف مسترد کرتے ہوئے سزا برقرار رکھی تھی۔2016 میں شبیر احمد نے انسانی حقوق کی بنیاد پر ملک بدری کے خلاف بھی قانون چیلنج کیا، جس میں انھوں نے اپنے خلاف مقدمات کو سازش قرار دیا، تاہم یہ کوششیں بھی کامیاب نہ ہو سکیں۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ 2012 میں بچوں کے ساتھ جنسی جرائم میں اُن کی سزا دراصل مسلمانوں کو ’قربانی کا بکرا‘ بنانے کی ایک سازش تھی۔یہ بات انھوں نے مانچسٹر کراؤن کورٹ میں قائم فرسٹ ٹئیر امیگریشن ٹربیونل کے سامنے پیشی کے دوران کہی، جہاں وہ برطانوی شہریت ختم کیے جانے کے فیصلے کے خلاف اپیل کر






