#کالم

شفقت اللہ مشتاق: خدمتِ خلق اور تصوف کے شاعر

Untitled 11

پروفیسر ڈاکٹر محمد جلال عارف

ایک منجھے ہوئے بیوروکریٹ کی روحانی شاعری پر ایک نظر

شفقت اللہ مشتاق پاکستان کی سول سروس کے ان معدودے چند افسران میں شمار ہوتے ہیں جنہیں ریونیو کے شعبے پر گہری اور مستند دسترس حاصل ہے۔ اپنی طویل بیوروکریٹک زندگی میں انہوں نے نہ صرف قوانین و ضوابط کی پیچیدگیوں کو سمجھا بلکہ ان کے جدید اور مؤثر نفاذ کے لیے عملی اقدامات بھی کیے۔ ریونیو انتظامیہ جیسے مشکل اور حساس شعبے میں، جہاں فائلوں کے انبار اور برسوں پرانے تنازعات معمول کی بات ہیں، ان کی عرق ریزی اور فہم نے انہیں ہم عصر افسران میں ایک ممتاز مقام دیا۔ مگر ان کی شناخت محض ایک منجھے ہوئے سرکاری افسر کی نہیں بلکہ ایک ایسے دردمند دل رکھنے والے انسان کی ہے جس نے خدمتِ خلق کو اپنی زندگی کا محور بنایا۔

دفتری ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ شفقت اللہ مشتاق کی شخصیت کا ایک اور روشن پہلو ان کی شاعری ہے، جس میں تصوف اور روحانیت کے گہرے اثرات نمایاں ہیں۔ ان کا کلام محض الفاظ کی آرائش نہیں بلکہ اس مشاہدے اور تجربے کا نچوڑ ہے جو انہوں نے برسوں کی سرکاری اور سماجی زندگی میں حاصل کیا۔ دفتر کی چار دیواری میں انسانی فطرت کے مختلف روپ دیکھنے کا تجربہ، طاقت اور اقتدار کے عارضی پن کا مشاہدہ، اور عام آدمی کی مشکلات سے قربت، یہ سب عناصر مل کر ان کی شاعری کو ایک منفرد گہرائی عطا کرتے ہیں۔ ان کے ہاں دنیا کی بے ثباتی، وقت کی گردش، اور ظالم و مظلوم کے انجام جیسے موضوعات بار بار جھلکتے ہیں، جو تصوف کی روایتی فکر سے ہم آہنگ ہیں۔

ان کے ایک منتخب کلام میں وہ کہتے ہیں:

ہم نے دریاؤں کو چڑھتے اور اترتے دیکھا ہے

جاں سے مارنے والوں کو پھر خود بھی مرتے دیکھا ہے

جن کے ہنگاموں پر دنیا کرتی تھی توبہ توبہ

ایسے ظالم لوگوں کو بھی توبہ کرتے دیکھا ہے

ان چاروں مصرعوں میں دریا کے چڑھاؤ اور اتار کو زندگی کے عروج و زوال کی علامت کے طور پر برتا گیا ہے۔ شاعر یہ پیغام دیتا ہے کہ طاقت، جبر اور ظلم کی چمک دمک عارضی ہوتی ہے، اور جو لوگ دوسروں کی جان لینے پر تلے رہتے ہیں، وقت کا پہیہ انہیں بھی موت کی آغوش میں لے جاتا ہے۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ جن ظالموں کے ہنگاموں سے دنیا کانپتی اور توبہ کرتی تھی، آخرکار وہی خود توبہ کی راہ اپناتے دیکھے گئے۔ یہ خیال براہِ راست تصوف کی اس تعلیم سے جڑا ہے کہ اللہ کی رحمت کا دروازہ ہر انسان کے لیے کھلا رہتا ہے، خواہ وہ کتنا ہی سرکش کیوں نہ رہا ہو۔ یہی وہ نکتہ ہے جو ان کے کلام کو محض شکایت یا مایوسی کی شاعری بننے سے بچا لیتا ہے اور اسے امید اور رحمت کے پیغام کی طرف موڑ دیتا ہے۔

شفقت اللہ مشتاق کی شاعری اور ان کی سرکاری زندگی میں ایک عجیب مطابقت نظر آتی ہے۔ جس طرح انہوں نے ریونیو کے پیچیدہ نظام میں انصاف اور شفافیت کو یقینی بنانے کی کوشش کی، اسی طرح ان کی شاعری میں بھی انصاف، احتساب اور بالآخر رحمت کا پیغام غالب ہے۔ ایک افسر کی حیثیت سے وہ روزانہ ایسے معاملات سے دوچار ہوتے رہے جن میں طاقتور اور کمزور کے مابین توازن قائم رکھنا ان کی ذمہ داری تھی، اور یہی تجربہ ان کے اشعار میں ایک فطری روانی کے ساتھ ڈھل جاتا ہے۔ ان کے کلام میں تصوف کی سادگی اور خدمتِ خلق کا جذبہ ایک دوسرے میں گندھے ہوئے محسوس ہوتے ہیں، جو اسے عام مشاعرے کی شاعری سے الگ اور فکر انگیز بناتے ہیں۔ یہاں کوئی مصنوعی تکلف یا زبردستی کی رنگینی نہیں بلکہ ایک باشعور اور تجربہ کار انسان کی اندرونی کیفیت کا اظہار ہے۔

بحیثیت مجموعی، شفقت اللہ مشتاق ایک ایسی نادر شخصیت کے طور پر ابھرتے ہیں جو دفتری ذمہ داری، انتظامی مہارت اور روحانی فکر کو یکجا کیے ہوئے ہیں۔ ایسے افراد کم ہی ملتے ہیں جو دن بھر فائلوں اور قوانین کی دنیا میں رہ کر بھی اپنے اندر کے شاعر اور صوفی کو زندہ رکھ سکیں۔ ان کی شاعری صرف جمالیاتی تسکین کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں معاشرتی انصاف، عارضی دنیاوی طاقت کی بے ثباتی، اور روحانی بالیدگی کے سبق واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ ان کا کلام پڑھنے والے کو نہ صرف جمالیاتی لطف دیتا ہے بلکہ اسے اپنے اردگرد کی دنیا اور اس میں طاقت کے بہاؤ کو نئے سرے سے سمجھنے کی دعوت بھی دیتا ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے