جب آفتابِ ہدایت طلوع ہوا
زاہد اقبال ملک
کائنات سے جہالت کے اندھیرے چھٹ گئے جب آفتابِ ہدایت طلوع ہوا۔یتیموں،مسکینوں اور بے کسوں کو سائبان اور سہارا مل گیا جب آفتابِ ہدایت طلوع ہوا۔محکوم مظلوم عورت کو عظمت عزت اور تکریم کا مقام ملا جب آفتابِ ہدایت طلوع ہوا۔غلامی کی زنجیروں میں جکڑے انسانوں کو آزادی اور وقار کا احساس ملا جب آفتابِ ہدایت طلوع ہوا۔مظلوموں کو انصاف کی روشنی نصیب ہوئی جب آفتابِ ہدایت طلوع ہوا۔دنیا کی تاریخ میں بعض دن ایسے ہوتے ہیں جو صرف وقت کے صفحات کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ پوری انسانیت کی تقدیر بدل دیتے ہیں۔ ربیع الاول کا مبارک مہینہ بھی اپنے دامن میں ایک ایسا ہی عظیم اور مقدس لمحہ سمیٹے ہوئے ہے جب سرزمینِ مکہ مکرمہ پر وہ آفتابِ ہدایت طلوع ہوا جس کی روشنی نے جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں کو شکست دی۔ وہ عظیم ہستی جنہیں ربِ کائنات نے رَحمَت للعَالَمِینَ بنا کر بھیجا ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ ہیں۔میلادِ مصطفیٰ محض ایک تاریخی واقعہ یا خوشی کا دن نہیں بلکہ یہ ہمیں اس عظیم مقصد کی یاد دلاتا ہے جس کے لیے حضور نبی اکرم دنیا میں تشریف لائے۔ آپ کی آمد نے ایک ایسے معاشرے کو زندگی عطا کی جہاں ظلم کو قانون طاقت کو حق اور کمزور کو بے بس سمجھا جاتا تھا۔ بیٹیوں کو زندہ درگور کیا جاتا انسانوں کو رنگ نسل اور قبیلے کی بنیاد پر تقسیم کیا جاتا اور طاقتور کمزوروں کے حقوق غصب کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا تھا۔ ایسے ماحول میں نبیِ رحمت کی آمد انسانیت کے لیے صبحِ نو کا پیغام بن کر آئی۔ آپ نے انسان کو انسان کی عزت کرنا سکھایا غلام کو آزادی اور وقار کا درس دیا عورت کو عزت و تحفظ عطا کیا یتیموں اور مساکین کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا اور معاشرے کے کمزور طبقات کو ان کے حقوق سے روشناس کرایا۔ آپ نے واضح فرمایا کہ انسان کی عظمت دولت اقتدار یا خاندان میں نہیں بلکہ تقویٰ کردار اور انسانیت کی خدمت میں ہے۔ میلادِ مصطفی کا حقیقی تقاضا صرف چراغاں جلوسوں اور محافل تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا اصل ح±سن ہمارے کردار اور عمل میں نظر آنا چاہیے۔ اگر ہم واقعی عاشقانِ رسول ہیں تو ہمیں اپنی زندگیوں میں سچائی دیانت انصاف برداشت محبت اور خدمتِ خلق کو جگہ دینا ہوگی۔ ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنا ہوگا کہ کیا ہمارے معاملات رویے اور زبان نبی اکرم کی تعلیمات کی عکاسی کرتے ہیں؟ آج ہمارا معاشرہ نفرت عدم برداشت اور باہمی اختلافات کا شکار ہے۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی دوڑ میں ہم محبت اور اخوت کے دامن سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں سیرتِ مصطفیٰ ہمارے لیے سب سے روشن چراغِ راہ ہے۔ آپ نے دشمنوں کو معاف کر کے دنیا کو درگزر کا درس دیا اور فتح کے موقع پر انتقام کے بجائے عفو و کرم کی ایسی مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آج انسان سائنس اور ٹیکنالوجی کی بلندیوں کو چھو رہا ہے مگر اخلاقی اقدار کی کمزوری بھی نمایاں ہے۔ معلومات کے بے پناہ ذرائع موجود ہیں لیکن حکمت برداشت اور دوسروں کے احترام کا جذبہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے دور میں سیرتِ طیبہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حقیقی ترقی صرف مادی آسائشوں کا نام نہیں بلکہ اعلیٰ اخلاق انصاف اور انسانیت کی سربلندی کا نام ہے۔خصوصاً نوجوان اگر اپنی صلاحیتوں کو ذاتی کامیابی کے ساتھ قوم و معاشرے کی تعمیر کے لیے بھی استعمال کریں اور کردار و عمل میں سیرتِ نبوی کو اپنائیں تو مایوسی بے راہ روی اور اخلاقی انتشار کے بہت سے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ محبتِ رسول کا سب سے بڑا ثبوت صرف دعویٰ نہیں بلکہ اطاعت اور اتباع ہے۔ اگر ہمارے دلوں میں واقعی عشقِ رسول موجود ہے تو اس کی خوشبو ہمارے اخلاق سے محسوس ہونی چاہیے۔ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک پڑوسیوں کے ساتھ خیرخواہی رشتہ داروں سے محبت اور ضرورت مندوں کے ساتھ ہمدردی ہی اس محبت کا عملی اظہار ہے۔ میلادِ مصطفیٰ دراصل تجدیدِ عہد کا دن ہے عہد اس بات کا کہ ہم اپنے پیارے نبیِ رحمت کی محبت کو محض نعروں اور الفاظ تک محدود نہیں رکھیں گے بلکہ اسے اپنے کردار کی روشنی بنائیں گے۔ ہم نفرت کے بجائے محبت ظلم کے بجائے انصاف اور اختلاف کے بجائے اخوت کو فروغ دینے کی کوشش کریں گے۔ آئیے! اس مبارک موقع پر ہم اپنے دلوں میں یہ عہد تازہ کریں کہ ہم سیرتِ طیبہ کو اپنی زندگیوں کا رہنما بنائیں گے اور اپنے قول و عمل سے محبت اور رحمت کا وہ پیغام عام کریں گے جو ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ لے کر دنیا میں تشریف لائے تھے۔ کیونکہ حقیقی امن محبت اور کامیابی کا راستہ اسی در سے ہو کر گزرتا ہے جس در پر انسانیت کو عزت دلوں کو سکون اور زندگی کو مقصد ملا۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ کی سچی محبت نصیب فرمائے آپ کی سیرت و س±نت کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے معاشرے کو محبت امن اور اخوت کا گہوارہ بنائے۔ آمین۔






