#کالم

جہدِ مسلسل سے افکارِ تازہ تک — فکر و دانش کی ایک یادگار شام

Untitled 1

منشاقاضی

کتاب محض کاغذ کے اوراق پر ثبت الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک عہد کی فکری روداد، ایک شخصیت کے تجربات کا نچوڑ اور آنے والی نسلوں کے لیئے شعور و آگہی کا چراغ بھی ہوتی ہے۔ بعض کتابیں زندگی کے واقعات بیان کرتی ہیں، بعض ذہنوں کو نئے سوالات سے آشنا کرتی ہیں اور کچھ ایسی بھی ہوتی ہیں جو قاری کو اپنے ضمیر، اپنے کردار اور اپنے اجتماعی وجود کا جائزہ لینے پر آمادہ کرتی ہیں۔ گزشتہ روز قائداعظم لائبریری، لاہور کے اقبال ہال میں ملک کے ممتاز دانشور، مصنف، کالم نگار اور سابق انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار احمد چیمہ کی تصانیف ”جہدِ مسلسل“، ”افکارِ تازہ“ اور ”سمجھتا ہوں جسے حق“ کی تقریبِ پذیرائی اسی فکری روایت کا ایک روشن حوالہ بن کر سامنے آئی۔یہ محض چند کتابوں کی تقریبِ رونمائی یا رسمی پذیرائی نہ تھی، بلکہ علم و ادب، قانون و انصاف، سیاست و سماج اور فکری بصیرت سے وابستہ نامور شخصیات کا ایسا اجتماع تھا جس میں کتاب کے وسیلے سے کردار، سچائی، اصول پسندی اور انسانی زندگی کے بنیادی سوالات زیرِ بحث آئے۔ اقبال ہال میں تین گھنٹے تک جاری رہنے والی اس تقریب میں سامعین کی مسلسل موجودگی اور آخر وقت تک ہال کا بھرا رہنا اس امر کی علامت تھا کہ سنجیدہ گفتگو، معتبر شخصیات اور معیاری ادب کے لیے ہمارے معاشرے میں آج بھی گہری دلچسپی موجود ہے۔تقریب کی صدارت معروف سکالر، مفکر اور دانشور لفظوں کے خالق ، پروفیسر احمد جاوید نے کی۔ ان کی علمی و فکری شخصیت نے اس محفل کو ایک خاص وقار عطا کیا۔ ان کے علاوہ سابق چیف جسٹس جناب انوار الحق جن کی شخصیت کا افتخار محفل کو وقار عطا کرتا ہے، معروف صحافی اور دانشور مجیب الرحمن شامی جن کی خطابت ایک زمانے میں فصاحت و بلاغت کو نذر آتش کر دیتی تھی، سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق ، ممتاز قانون دان حامد خان ایڈووکیٹ، سلطنتِ عمان کے سابق اعزازی قونصلیٹ جنرل جاوید نواز گفتگو طرازی میں جن کا مثیل ملنا مشکل ہے۔ آپ کی تقریر کیا تھی ؟ واقعات کی ایک آبشار تھی اور حالات کی ٹھوس اور سنگلاخ چٹانوں کو بھی جنم دے رہی تھی۔ ذوالفقار احمد چیمہ صاحب کے دیرینہ دوستوں میں سے ایک ہیں۔ جاوید نواز کو بولنے کا فن آتا ہے۔ آپ کی تقریر یادگار رہے گی۔ بہت سارے سامعین میں سے مجھے فون آیا ہے کہ ہمیں جاوید نواز صاحب کی پوری تقریر کی وڈیو بھیجو ، سابق طالب علم راہنما حسیب احمد اور کشمیری راہنما نصیب اللہ گردیزی اور پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ بشریٰ بدستور فون کر رہی ہیں کہ جاوید نواز کی تقریر کی وڈیو ہمیں چاہیئے۔ سابق وفاقی سیکرٹری طارق نجیب نجمی کی تقریر بڑی دلجمی سے سامعین نے سماعت کی، ڈائریکٹر جنرل نیپا فاروق مظہر کا خطاب ذوالفقار چیمہ کی دیانت داری ، احساس اور ذمہ داری کے ستونوں پر استوار تھا، ہمایوں احسان کا سب سے بڑا احسان یہ تھا کہ انہوں نے طوالت پر اختصار کو ترجیع دی ، ایف سی کالج کے شعب? اردو کی سربراہ ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ بولتی نہیں موتی رولتی ہے وہ تو کمال کی خطیبہ اور حق گوئی کی پیکرِ متحرک ہیں ، ہوم اکنامکس یونیورسٹی کی ڈائریکٹر اسٹوڈنٹس افیئرز ڈاکٹر مصباح جبیں کا تجربہ بول رہا تھا اور مشاہدہ بلاغت کی طرف بڑھ رہا تھا واقعی آپ ایک باکمال مقررہ ہیں، آپ کے سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کی اور اظہارِ خیال کیا۔تقریب کی نظامت ڈاکٹر شیریں اسد نے نہایت خوش اسلوبی، متانت اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ انجام دی۔ حفظِ مراتب کا پورا خیال رکھا اور مقررین کے خیالات، موضوع کی سنجیدگی اور سامعین کی دلچسپی کے درمیان ایک خوب صورت ربط برقرار رکھنا ان کی نظامت کا نمایاں وصف تھا۔ سید تنویر عباس تابش نے انہیں خوب داد دی۔ ذوالفقار احمد چیمہ کی شخصیت کا ایک اہم اور نمایاں پہلو یہ ہے کہ ان کی زندگی کے تجربات کا دائرہ محض سرکاری ملازمت یا انتظامی ذمہ داریوں تک محدود نہیں رہا۔ پولیس سروس میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے، قومی اداروں میں خدمات انجام دینے، مشاہدات و تجربات سے گزرنے اور معاشرتی زندگی کے مختلف رنگوں کو قریب سے دیکھنے کے بعد انہوں نے قلم کے ذریعے اپنے تجربات کو فکری سرمایہ بنانے کی کوشش کی۔ ان کی تحریروں میں منصب کی چمک دمک سے زیادہ اصولوں کی اہمیت، اختیار سے بڑھ کر ذمہ داری اور کامیابی سے زیادہ کردار کی معنویت نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ایک سرکاری افسر جب اپنے تجربات کو تحریر میں ڈھالتا ہے تو اس کے سامنے محض واقعات کی ترتیب قائم کرنا مقصود نہیں ہوتا؛ اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ ان واقعات سے معاشرے کو کیا سبق مل سکتا ہے۔ اختیار کے استعمال میں دیانت، مشکل حالات میں اصولوں پر قائم رہنا، اداروں کی ساکھ کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینا اور حق بات کہنے کی جر?ت ایسے موضوعات ہیں جو انتظامی زندگی کے تجربات کو وسیع تر سماجی معنویت عطا کرتے ہیں۔ ذوالفقار احمد چیمہ کی تصانیف کو اسی تناظر میں دیکھنا ان کی فکری کاوشوں کو سمجھنے کا ایک بامعنی راستہ ہے۔ ان کی کتابوں کے عنوانات بھی اپنی جگہ ایک فکری تسلسل کی نشان دہی کرتے ہیں۔ ”جہدِ مسلسل“ انسان کی جدوجہد، استقامت اور مقصد سے وابستگی کا استعارہ ہے؛ ”افکارِ تازہ“ ذہن کی بیداری، سوال اٹھانے اور روایت کو نئے زاویوں سے دیکھنے کی دعوت دیتا ہے؛ جب کہ ”سمجھتا ہوں جسے حق“ اپنے اندر اعتقاد، فکری وابستگی اور سچائی کے تعین کا ایک بنیادی سوال سموئے ہوئے ہے۔ ان تینوں عنوانات کو یکجا کیا جائے تو ایک ایسی فکری مثلث تشکیل پاتی ہے جس کے ایک گوشے پر عمل، دوسرے پر فکر اور تیسرے پر حق و صداقت کا تصور جلوہ گر ہوتا ہے۔ اس تقریب کی اہمیت محض مقررین کی فہرست یا شرکائے محفل کی تعداد میں نہیں تھی، بلکہ اس فکری تنوع میں تھی جو ایک ہی چھت تلے جمع ہوا۔ عدلیہ، صحافت، سیاست، قانون، تعلیم، انتظامیہ اور ادب سے وابستہ شخصیات کی موجودگی نے اس نشست کو کئی جہتوں سے اہم بنا دیا۔ جب مختلف شعبوں کے اہلِ علم ایک مصنف کی تحریروں پر گفتگو کرتے ہیں تو کتاب کا مطالعہ ایک انفرادی تجربے سے نکل کر اجتماعی مکالمے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ سابق چیف جسٹس انوار الحق کی شرکت نے عدل و انصاف اور آئینی شعور کے تناظر میں اس محفل کی معنویت بڑھائی۔ مجیب الرحمن شامی کی موجودگی نے صحافت اور قومی مباحث کی روایت سے اس تقریب کا رشتہ جوڑا، جب کہ خواجہ سعد رفیق کی شرکت نے سیاسی و سماجی تجربات کے زاویئے کو نمایاں کیا۔ حامد خان ایڈووکیٹ جیسے ممتاز قانون دان، تعلیمی اداروں سے وابستہ شخصیات اور انتظامی تجربہ رکھنے والے مقررین کی موجودگی اس امر کی عکاس تھی کہ کتاب مختلف شعبوں کے درمیان مکالمے کا مو¿ثر ذریعہ بن سکتی ہے۔ پروفیسر احمد جاوید کی زیرِ صدارت منعقد ہونے والی یہ نشست اس اعتبار سے بھی قابلِ توجہ تھی کہ اس میں علم و ادب کو محض رسمی تحسین تک محدود رکھنے کے بجائے سنجیدہ فکری سرگرمی کے طور پر برتا گیا۔ کسی معاشرے کی علمی زندگی کا معیار اس بات سے متعین ہوتا ہے کہ وہاں کتاب کو کتنی توجہ دی جاتی ہے، مصنف کے خیالات پر کس قدر غور کیا جاتا ہے اور اختلاف و اتفاق کو کس درجے کی علمی شائستگی کے ساتھ اظہار کا موقع ملتا ہے۔والفقار احمد چیمہ کی تصانیف کے عنوانات اپنے اندر جو معنوی جہات رکھتے ہیں، وہ آج کے معاشرتی حالات میں خصوصی اہمیت اختیار کر لیتی ہیں۔ ہم ایک ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں معلومات کی فراوانی کے باوجود فکری یکسوئی کم ہوتی دکھائی دیتی ہے؛ اظہار کے ذرائع بڑھ گئے ہیں، لیکن دلیل، تحقیق اور تحمل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ ایسے ماحول میں کتاب کی طرف رجوع دراصل اپنے فکری توازن کی بازیافت بھی ہے۔”جہدِ مسلسل“ ہمیں یہ سوچنے کی دعوت دیتا ہے کہ زندگی میں اصل کامیابی کسی ایک منزل تک پہنچنے کا نام نہیں، بلکہ اصولوں کے ساتھ سفر جاری رکھنے میں پوشیدہ ہے۔ ”افکارِ تازہ“ ذہن کو جمود سے نکالنے اور بدلتے ہوئے حالات میں نئی بصیرت پیدا کرنے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ ”سمجھتا ہوں جسے حق“ قاری کے سامنے یہ بنیادی سوال رکھتا ہے کہ حق کی پہچان محض ذاتی رائے سے ہوتی ہے یا اس کے لیئے مطالعہ، دلیل، اخلاقی جرات اور اپنے موقف پر نظرثانی کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔ یہ سوالات کسی ایک مصنف، ادارے یا شعبے تک محدود نہیں۔ ان کا تعلق پوری اجتماعی زندگی سے ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیئے دیانت اور انصاف، سیاست کے لیئے اصول اور عوامی خدمت، صحافت کے لیئے سچائی اور تعلیم کے لیئے فکری آزادی بنیادی قدریں ہیں۔ جب ادب اور فکری تحریر ان اقدار کو زیرِ بحث لاتی ہے تو اس کا دائرہ اثر کتاب کے صفحات سے کہیں آگے پھیل جاتا ہے۔تقریب کا تین گھنٹے تک جاری رہنا اور ہال کا آخر وقت تک بھرا رہنا اس بات کا قابلِ ذکر پہلو تھا کہ سامعین نے اس محفل کو محض ایک رسمی ادبی سرگرمی نہیں سمجھا۔ مقررین اور سامعین کے معیار کو شرکائے تقریب نے بے حد سراہا اور اسے ایک شاندار، باوقار اور یادگار نشست قرار دیا۔کسی تقریب کی کامیابی کا اندازہ صرف اسٹیج پر موجود شخصیات سے نہیں لگایا جا سکتا؛ اس کا اصل پیمانہ سامعین کی توجہ، گفتگو کا معیار اور موضوع کے ساتھ ان کی فکری وابستگی بھی ہے۔ جب لوگ طویل نشست کے باوجود اپنی جگہ موجود رہیں تو یہ اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ انہیں گفتگو میں کوئی ایسی معنویت محسوس ہو رہی ہے جو روزمرہ کی سطحی مصروفیات سے مختلف ہے۔قائداعظم لائبریری کا اقبال ہال اس روز اسی علمی و ادبی روایت کا گواہ بنا۔ کتابوں کے حوالے سے ہونے والی ایسی نشستیں نہ صرف مصنف کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہیں بلکہ معاشرے میں مطالعے، تنقیدی شعور اور علمی مکالمے کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہیں۔ ذوالفقار احمد چیمہ کی تصانیف کی یہ تقریبِ پذیرائی ایک ایسی ادبی و فکری سرگرمی تھی جس نے کتاب، صاحبِ کتاب اور اہلِ علم کے درمیان ایک بامعنی تعلق کو نمایاں کیا۔ ”جہدِ مسلسل“، ”افکارِ تازہ“ اور ”سمجھتا ہوں جسے حق“ کی پذیرائی دراصل ان سوالات کی طرف مراجعت بھی ہے جو کسی بھی زندہ معاشرے کے لیئے ناگزیر ہوتے ہیں: انسان اپنے مقصد سے کس طرح وابستہ رہتا ہے؟ فکر کو تازگی کیسے عطا کی جاتی ہے؟ اور حق کی پہچان کے لیئے کردار، علم اور بصیرت کا کیا کردار ہے؟اس تقریب کی اصل معنویت یہی تھی کہ اس نے اہلِ علم کو ایک جگہ جمع کیا، کتاب کو گفتگو کا مرکز بنایا اور سامعین کو سنجیدہ فکری تبادلے کا موقع فراہم کیا۔ ایسی محفلیں معاشرے کی روحانی و علمی زندگی میں چراغ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ چراغ صرف مصنف کے نام کو روشن نہیں کرتے بلکہ قاری کے ذہن میں بھی سوال، جستجو اور خود احتسابی کی ایک نئی شمع فروزاں کرتے ہیں۔کیونکہ کتاب کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ اسے پڑھا جائے یا اس کی تعریف کی جائے، بلکہ یہ ہے کہ اس کے الفاظ انسانی فکر میں وسعت، کردار میں استقامت اور زندگی میں سچائی کے لیئے نئی گنجائش پیدا کر دیں۔ یہی وہ منزل ہے جہاں جہدِ مسلسل، افکارِ تازہ اور حق کی جستجو ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو کر علم و عمل کی ایک روشن روایت تشکیل دیتے ہیں۔ ذوالفقار احمد چیمہ وہ خوش بخت انسان ہیں جن سے ہر اچھا انسان محبت کرتا ہے۔ یہ دولت میں نے کسی بیوروکریٹ کے حصے میں نہیں دیکھی۔ سچائی اور راست بازی کے اس پیکرِ خاکی میں اقبال کی خودی عود کر آئی ہے

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے