علم کی بلندیوں تک پہنچانے والے محرکات
ڈاکٹر راشد دانش انصاری
انسان کی زندگی میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اس کی صلاحیتوں کو پہچانتی، اس کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا حوصلہ دیتی اور اس کی کامیابی کو اپنی خوشی سمجھتی ہیں۔ ایسے لوگ محض زبانی ہمدردی تک محدود نہیں رہتے بلکہ عملی طور پر زندگی کے دشوار راستوں پر معاون و مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی انسان کی کامیابی کے پس منظر میں اس کی اپنی محنت اور مستقل مزاجی کے ساتھ بعض ایسے مخلص کردار بھی موجود ہوتے ہیں جن کی حوصلہ افزائی، رہنمائی اور عملی معاونت اس کے سفر کو نئی سمت عطا کرتی ہے۔میری زندگی کا تعلیمی سفر بھی اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک عام، سادہ مزاج اور درویش منش معلم کی حیثیت سے تدریسی فرائض انجام دیتے ہوئے علم و تحقیق سے وابستگی کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ ایم اے اردو کی تعلیم بطور پرائیویٹ امیدوار حاصل کرنے کے بعد علمی تشنگی نے مزید آگے بڑھنے کی تحریک دی۔ چنانچہ لیڈز یونیورسٹی لاہور سے ایم فل کیا اور پھر ڈاکٹریٹ کی منزل کے حصول کے لیے تحقیقی سفر کا آغاز کیا۔ یہ سفر بلاشبہ محنت، مستقل مزاجی، صبر اور استقامت کا متقاضی تھا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ڈاکٹریٹ کی منزل حاصل ہوئی، مگر اس کامیابی کے پس منظر میں کچھ ایسے مخلص کردار بھی تھے جنہوں نے میری علمی جستجو کو مہمیز دی اور میرے عزم کو تقویت بخشی۔جب میں اپنے سفرِ تعلیم پر نظر ڈالتا ہوں تو محسوس کرتا ہوں کہ منزل تک پہنچنے کی خوشی اپنی جگہ، لیکن ان محرکات کی اہمیت اس سے کہیں زیادہ ہے جنہوں نے منزل کا خواب دیکھنے، اس کے لیے جدوجہد کرنے اور مشکلات کے باوجود آگے بڑھتے رہنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ کردار ہیں جن کا اعتراف انسان کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ان مخلص کرداروں میں ایک منہ بولا خاندان خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ اس خاندان کی منہ بولی ماں کی شفقت، منہ بولی بہن کی محبت اور منہ بولے بھائی کی معاونت نے میرے تعلیمی سفر میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے مجھے محض ایک شناسا یا تعلق دار نہیں سمجھا بلکہ اپنے خاندان کا حصہ جانا۔ میری خوشی کو اپنی خوشی اور میری کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھا۔ ان کی حوصلہ افزائی، رہنمائی اور عملی تعاون نے مجھے یہ احساس دلایا کہ خلوص اور اپنائیت کے رشتے انسان کی زندگی میں غیر معمولی تبدیلی لانے کی قوت رکھتے ہیں۔میرے لیے یہ حقیقت باعثِ افتخار ہے کہ ایک دیہی ماحول میں پرورش پانے والے، جولاہے کے گھرانے سے تعلق رکھنے والے ایک سادہ معلم کی علمی ترقی میں ایسے لوگوں نے اپنا کردار ادا کیا جن کے لیے انسانی صلاحیت اور محنت، خاندانی پس منظر اور معاشرتی حیثیت سے زیادہ اہمیت رکھتی تھی۔ انہوں نے میری علمی جستجو کی حوصلہ افزائی کی اور اس یقین کو مضبوط کیا کہ اگر انسان کے اندر آگے بڑھنے کا جذبہ موجود ہو اور اسے مخلص رہنمائی و معاونت میسر آ جائے تو محدود وسائل بھی اس کی راہ کی حتمی رکاوٹ نہیں بن سکتے۔یہاں ایک اہم معاشرتی حقیقت بھی قابلِ غور ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے باصلاحیت نوجوان اور محنتی افراد ایسے ہیں جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے، تحقیق کے میدان میں آگے بڑھنے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن مناسب رہنمائی، حوصلہ افزائی اور وسائل کی کمی کے باعث اپنی منزل تک نہیں پہنچ پاتے۔ ایسے افراد کے لیے کسی مخلص انسان کا تعاون زندگی بدل دینے والا ثابت ہو سکتا ہے۔ کبھی ایک حوصلہ افزا جملہ، کبھی ایک بروقت مشورہ اور کبھی عملی معاونت کا ایک قدم انسان کے لیے کامیابی کے نئے دروازے کھول دیتا ہے۔تعلیم صرف ڈگری حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ شعور، کردار اور شخصیت کی تعمیر کا عمل ہے۔ اسی طرح کسی کی تعلیمی ترقی میں معاونت کرنا محض ایک فرد کی مدد نہیں بلکہ پورے معاشرے کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ اگر معاشرے کے صاحبِ حیثیت افراد، اہلِ علم اور صاحبِ بصیرت شخصیات باصلاحیت نوجوانوں کی رہنمائی کو اپنا سماجی فریضہ سمجھ لیں تو علم و تحقیق کے میدان میں نمایاں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دوسروں کی کامیابی کو حسد یا مسابقت کی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی کریں اور جہاں ممکن ہو، ان کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔میرے نزدیک کسی انسان کی عظمت کا ایک اہم پیمانہ یہ بھی ہے کہ وہ دوسروں کو کس حد تک آگے بڑھنے میں مدد دیتا ہے۔ اپنے لیے کامیابی حاصل کرنا یقیناً قابلِ قدر ہے، لیکن کسی دوسرے انسان کی صلاحیتوں کو نکھارنا، اس کے خوابوں کو تقویت دینا اور اسے اس کی منزل تک پہنچنے میں مدد فراہم کرنا اس سے بھی زیادہ قابلِ تحسین عمل ہے۔ ایسے افراد معاشرے کا حقیقی سرمایہ ہوتے ہیں، کیونکہ ان کی کوششوں سے صرف ایک فرد نہیں بلکہ اس سے وابستہ کئی زندگیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔میں اپنے ان تمام مخلص محسنوں، بالخصوص اپنی منہ بولی ماں، منہ بولی بہن، منہ بولے بھائی اور ان کے پورے خاندان کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ ان کی محبت، دعاو¿ں، حوصلہ افزائی اور عملی تعاون نے میرے علمی سفر میں اہم کردار ادا کیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کے خلوص کا بہترین اعتراف محض شکریے کے الفاظ نہیں بلکہ علم، کردار اور عمل کے ذریعے اس اعتماد کی لاج رکھنا ہے جو انہوں نے مجھ پر کیا۔آج ڈاکٹریٹ کی منزل حاصل کرنے کے بعد میری نگاہ میں کامیابی کا مفہوم پہلے سے زیادہ واضح ہے۔ کامیابی صرف اپنے خوابوں کی تعبیر پانے کا نام نہیں بلکہ ان لوگوں کو یاد رکھنے کا نام بھی ہے جنہوں نے خواب دیکھنے اور انہیں پورا کرنے کا حوصلہ دیا۔ جو لوگ دوسروں کی ترقی میں خوشی محسوس کرتے ہیں، ان کے لیے راستے ہموار کرتے ہیں اور اپنی محبت و خلوص سے ان کی زندگی میں مثبت تبدیلی لاتے ہیں، وہ حقیقی معنوں میں قابلِ تحسین ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں ایسے کرداروں کی قدر کریں اور اس روایت کو فروغ دیں کہ ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق کسی دوسرے کی تعلیمی، فکری یا عملی ترقی میں حصہ ڈالے۔ ممکن ہے ہماری معمولی سی معاونت کسی طالب علم کے لیے اعلیٰ تعلیم کا راستہ کھول دے، کسی استاد کے اندر تحقیق کا نیا جذبہ پیدا کر دے یا کسی باصلاحیت نوجوان کو اپنی منزل تک پہنچنے کا حوصلہ عطا کر دے۔میرا یقین ہے کہ انسان کی اصل بلندی صرف اپنی منزل حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ ان ہاتھوں کو یاد رکھنے میں بھی ہے جنہوں نے سفر میں اسے سہارا دیا۔ حقیقی کامیابی وہی ہے جو انسان کو اپنی ذات سے بلند ہو کر دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کا شعور عطا کرے






