#کالم

گاڑی کی ہی نہیں ،انسانی فٹنس بھی ضروری ہے ؟

Untitled 5

جاویدایازخان

گذشتہ دنوں میرا کالم "فٹنس سرٹیفکیٹ ” شائع ہوا جو گاڑیوں کی فٹنس کے بارےمیں تھا تو مجھے کئی دوستوں کے پسندیدگی کے فون اور پیغامات ملے اور ساتھ ہی یہ سوال بھی کیا گیا کہ "فٹنس صرف گاڑی کی ہی کیوں انسان کی کیوں نہیں ؟ "تو مجھے اپنا ایک واقعہ یاد آگیا جب ایک ویران سے راستے پر ایک شخص میری کار کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا میں نے کار روکی تو کار کے سامنے لیٹ گیا تھا اور باوجود کوشش کے اٹھنے کو تیار نہ تھا۔بار بار ہارن بجانے پر وہ مجھے نیچے اترنے کا اشارہ کرتا تھا۔میرا اندازہ یہ تھا کہ یہ شخص یا تو پاگل ہے یاپھر نشے میں دھت ہے یا پھر کوئی واردات کرنا چاہتا ہے ؟ میں پریشانی کے عالم میں گاڑی سے اترنا بھی نہ چاہتا تھا۔میری خوش قسمتی کہہ لیں کہ ایک اور گاڑی سامنے سے آگئی جس میں کئی لوگ سوار تھے۔انہوں نے نیچے اتر کر اسے پکڑنا چاہا تو وہ دوڑ گیا اور یوں میرا بھی بھلا ہوگیا بعد میں پتہ چلا کہ وہ منشیات کا عادی تھا۔ایسے ہی ایک مرتبہ رحیم یارخان سے آتے ہوے ایک شخص نے میری گاڑی کا شیشہ ڈنڈا مار کر توڑ دیا میں نے گاڑی روکی تو پتہ چلا کہ یہ ایک ذہنی معذور ہے جس نے میری ہی نہیں بلکہ گزرنے والی ہر گاڑی کو نقصان پہچانے کی کوشش کی تھوڑی دیر میں اس پاگل کے وارث آگئے اور اسے پکڑ کر لے گئےلیکن گاڑیوں کا نقصان تو ہو چکا تھا ۔ایسے ہی گذشتہ دنوں ایک خبر کے مطابق خان پور میں ایک فاترالعقل شخص نے راہ گیروں پر اینٹوں سے حملہ کردیا جس سے کئی راہ گیر شدید زخمی ہو گئے۔کل ہی ملتان کی ایک ویڈیو دیکھ رہا تھا جہاں ایک گاڑی سوار نے جان بوجھ کر ایک پندرہ سالہ یتیم بچے وسیم کو کچل دیا پتہ نہیں یہ حادثہ تھا یا پھر پب جی گیم کا اثر یاپھر کسی ویب سائٹ کے ذہنی مریض کی کاروائی جس کی باعث ایک معصوم بچہ جان سے گیا۔اطلاع کے مطابق ملزم گرفتار ہو گیا ہے سزا بھی ضرور ہوگی مگر وہ ہنستا کھیلتا بچہ تو واپس نہیں آسکتا۔سڑکوں پر اس طرح کے واقعات معمول بنتے جارہے ہیں۔ناجانے کب کوئی کہیں بھی آپ پر حملہ کر دے؟ یہ معاشرتی المیہ ہر جانب انسانی جانوں سےکھیلتا نظر آتا ہے۔اس واقعہ کی ویڈیو دیکھ کر دل لرزکر رہ جاتا ہے۔اتنی سفاکیت اور بےدردی اس سے قبل بہت کم دیکھی اور سنی ہے۔اس یتیم بچے کی مسخ لاش کو رات کی تاریکی میں چپ چاپ دفن کردیا گیا۔سوال یہ ہے کہ ایسے ذہنی مریضوں کو سڑکوں پر اسطرح کھلا پھرنے کی اجازت کیوں ہوتی ہے ؟آج کیوں غصے اور عدم برداشت کا مظاہرہ سڑکوں پر جابجا دکھائی دیتا ہے ؟ ہر شخص جھگڑنے کے لیے ہمہ وقت تیار بیٹھا ہوتا ہے۔ذہنی مریض سڑکوں پر خطرناک حرکات کرتے اکثر دکھائی دیتے ہیں۔ایسے ذہنی مریضوں کا بروقت علاج بہت سی انسانی جانوں اور خود ان کو بھی محفوظ رکھ سکتا ہے۔آج ہمارا معاشرہ شدید ترین عدم برداشت کی لہر سے نبرد آزما ہے۔آخر کیوں ؟ ہم بڑی بڑی سوسائٹیوں ،سڑکوں گلیوں ،محلوں ،تفریحی مقامات پر بھی محفوظ نہیں ہیں ؟ ناجانے کیوں ؟سڑکوں پر حادثے کی صورت میں بڑے بڑےبظاہر سمجھدار اور سنجیدہ لوگ بھی خود پر قابو نہیں رکھ پاتے اور جذباتی ہوکر سخت کلامی اور مارپیٹ تک پہنچ جاتے ہیں۔میں نے کبھی کسی طاقتور کو اپنی غلطی کی معافی مانگتے نہیں دیکھا لیکن کمزور بے گناہ ہوکر بھی معافی مانگ کر ہی جان چھڑاتا ہے۔سڑکیں محض راستوں کانشان نہیں ہوتیں، یہ انسانی رویّوں، تہذیب و تمدن اور شعور و آگہی کی آئینہ دار بھی ہوتی ہیں۔ ان پر رواں دواں گاڑیوں کی صحت و سلامتی کے لیے فٹنس سرٹیفکیٹ ضروری سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ایک خراب بریک، کمزور انجن یا بے قابو رفتار کسی قیمتی جان کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہے۔ مگر ایک سوال ایسا بھی ہے جو اکثر ہماری نگاہوں سے اوجھل رہتا ہے کہ ان سڑکوں پر اترنے والے انسانوں کی فٹنس کا سرٹیفکیٹ کون جاری کرے گا؟ان کی ذہنی اور جسمانی حالت کیسے چیک ہوگی ؟ گاڑی کے بریک فیل ہو جائیں تو حادثہ جنم لیتا ہے، لیکن انسان کے صبر و برداشت کے بریک فیل ہو جائیں تو سڑکیں میدانِ جنگ بن جاتی ہیں۔ انجن کی خرابی گاڑی کو بے قابو کرتی ہے، مگر غصے، انا، ضد اور عدم برداشت کی خرابی انسان کو بے لگام کر دیتی ہے۔ پھر ذرا سی بات پر ہارن چیخنے لگتے ہیں، زبانیں زہر اگلنے لگتی ہیں، مٹھیاں تن جاتی ہیں اور بعض اوقات معمولی سا اختلاف زندگی بھر کا پچھتاوا بن جاتا ہے۔گاڑی ہی نہیں انسان کی فٹنس بھی ضروری ہے۔ یاد رکھیے، سڑک پر صرف پہیوں والی گاڑیاں نہیں چلتیں، وہاں انسانی جذبات، خواہشات، جلد بازیاں اور انا بھی سفر کرتی ہیں۔ محفوظ سفر کے لیے گاڑی کا درست ہونا جتنا ضروری ہے، اس کے اسٹیئرنگ پر بیٹھے انسان کا باشعور، ذمہ دار اور متحمل ہونا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ہم فٹنس سرٹیفکیٹ کے مفہوم کو محض انجن، بریک اور ٹائروں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اسے انسانی کردار، اخلاق اور رویّوں سے بھی جوڑیں۔ کیونکہ سڑکوں پر ہونے والے ہر تصادم کے پیچھے کوئی نہ کوئی انسانی کوتاہی بھی ہو سکتی ہے۔ گاڑی کی فٹنس مشین کو سفر کے قابل بناتی ہے، مگر انسان کی فٹنس معاشرے کو سفر کے قابل بناتی ہے۔ اور شاید کسی مہذب معاشرے کی اصل پہچان یہی ہے کہ وہاں گاڑیوں کے پہیوں سے پہلے انسانوں کے رویّوں کو درست رکھنے کی فکر کی جاتی ہے۔کم ازکم پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیور حضرات جن کے کندھوں پر بےشمار جانوں کی ذمہ داری ہوتی ہے ان کا ہر ماہ میڈیکل چیک اپ لازمی ہوناچاہیے اور ایک جسمانی اور ذہنی فٹنس کا سرٹیفکیٹ بھی لائسنس کے ہمراہ ضرور موجود ہونا چاہیے۔ ہم گاڑیوں کے ٹائروں، انجن، بریکوں اور دھوئیں کی جانچ تو کرتے ہیں، مگر ان ہاتھوں کی تربیت کو ضروری نہیں سمجھتے جو اسٹیئرنگ تھامتے ہیں، ان ذہنوں کی اصلاح کی فکر نہیں کرتے جو ٹریفک قوانین کو اپنی توہین سمجھتے ہیں، اور ان رویّوں پر غور نہیں کرتے جو معمولی سی بات پر گالی، دھمکی اور تصادم پر اتر آتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سڑکوں پر حادثات صرف مشینوں کی خرابی سے نہیں، انسانوں کے رویّوں کی خرابی سے بھی جنم لیتے ہیں۔ ٹریفک قوانین کی پابندی، برداشت، احساسِ ذمہ داری، دوسروں کے حق کا احترام اور غصے پر قابو پانا بھی سڑک پر چلنے کے بنیادی تقاضے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم فٹنس کے تصور کو محض گاڑی کے انجن اور بریکوں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ ڈرائیونگ کی تربیت، قانون کی پاسداری اور انسانی رویّوں کی اصلاح کو بھی اہمیت دیں۔ آخرکار، سڑکیں صرف منزل تک پہنچنے کا ذریعہ نہیں، انسانی تہذیب، شعور اور کردار کی آزمائش بھی ہیں۔ کیونکہ گاڑی کا فٹنس سرٹیفکیٹ حادثے کے امکان کو تو شاید کم کر سکتا ہے، لیکن انسان کی تربیت، برداشت اور ذمہ داری کا شعور ہی ہماری سڑک کو محفوظ معاشرے کی علامت بنا سکتا ہے۔بےشک گاڑیوں کی فٹنس ایک مثبت قدم ہے مگر انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے اس جانب توجہ دینا شاید اس سے بھی زیادہ ضروری امر ہے۔کیونکہ ایک ذہنی اور جسمانی طور پر صحت مند اور سمجھدار شخص اپنی گاڑی کی فٹنس پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتا۔

گاڑی کی ہی نہیں ،انسانی فٹنس بھی ضروری ہے ؟

22/10/2026 DAILY SARZAMEEN LAHORE

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے