#کالم

بلھے شاہ! پنجابی زبان کا شیکسپیئر

tasneem kusar

تسنیم کوثر

بابا بلھے شاہ کا نام بر صغیر پاک و ہند میں بسنے والے اور خاص طور پر پنجابی زبان سے انسیت رکھنے والوں کے لیے کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ جس طرح انگریزی ادب میں ولیم شیکسپیئر اور اردو ادب میں غالب کا تذکرہ لازم و ملزوم ہے، اسی طرح پنجابی زبان کا تذکرہ بابا بلھے شاہ کے بغیر نامکمل ہے ۔پنجابی زبان کے اس عظیم شاعر کا اصل نام سید عبداللہ شاہ ہے۔ آپ ضلع بہاولپور اچ گیلانیاں میں سید سخی محمد درویش کے گھر تولد ہوئے۔ بعد میں وہ اچ گیلانیاں چھوڑ کر ضلع ساہیوال چلے آئے۔ پھر ضلع قصور میں پانڈو کی بھٹیاں میں آباد ہو گئے اور وہاں امام مسجد کے فرائض منصبی سنبھال لئے۔روایت ہے کہ آپ کا شجرہ نسب حضرت غوث الاعظم عبدالقادر جیلانی سے ملتا ہے۔ بلھے شاہ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ اس کے بعد انہیں غلام مرتضی قصوری مخدوم کے مدرسے میں داخل کرا دیا گیا۔ یہاں سے بلھے شاہ نے تفسیر قران، حدیث، فقہ کا علم حاصل کیا ۔فارغ التحصیل ہوئے تو اسی مدرسے میں کچھ عرصہ درس و تدریس کے فرائض سرانجام دیتے رہے مگر جلد ہی ان کا جی اوب گیا ،من میں اضطراب کی لہریں مچلنے لگیں اور بلھے شاہ یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ
علموں بس کریں او یار
بلھے شاہ کا یہ اضطراب کسی مرشد کامل کا متلاشی تھا۔ اسی کھوج میں وہ بٹالہ ضلع گرداسپور پہنچ گئے اور پھر یہی تلاش انہیں عنایت شاہ قادری تک لے آئی۔ بلھے شاہ نے جب عنایت شاہ قادری کو اپنا مرشد مان لیا تو انہیں اپنے رشتہ داروں اور لوگوں سے بہت سے طعنے ملنے لگے کہ سید ہو کر ایک آرائیں کو اپنا مرشد بنا لیا ہے مگر آپ نے سب طعنوں میہنوں کو برداشت کیا اور اپنے مرشد کا دامن نہ چھوڑا اور کہا :
جیہڑا سانوں سید آکھے دوزخ ملن سزائیاں
جیہڑا سانوں آرائیں آکھے بہشت پینگھاں پائیاں
بلھے شاہ کو اپنے مرشد سے بہت عقیدت تھی اور وہ بھی ایسی جیسی مولانا رومی کو شمس الدین تبریزی سے، جیسی امیر خسرو کو نجام الدین اولیا سے اور جیسی مادھو کو لعل حسین سے تھی۔ بلھے شاہ ذات پات کی تفریق کے قائل تھے اور نہ بغیر عمل کے علم کے حامی۔ ان کا کہنا تھا :
نہ میں مومن وچ مسیتاں
نہ میں وچ کفر دی ریتاں
نہ میں پاکاں وچ پلیتاں
نہ میں موسی نہ فرعون
بلیھا، کی جاناں میں کون
بلھے شاہ نام نہاد عالموں کے خلاف تھے اور اپنے اشعار میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے تھے :
پڑھ پڑھ کتاباں علم دیاں تو نام رکھ لیا قاضی
ہتھ وچ پھڑ کے تلوار تے نام رکھ لیا غازی
مکے مدینے گھم آیا تے نام رکھ لیا حاجی
او بلیھا حاصل کی کیتا؟جے توں رب نہ کیتا راضی
بابا بلھے شاہ کو رب نے یہ خوبی عطا کی تھی کہ وہ اپنے کلام کے ذریعے لوگوں کو سمجھانے اور سیدھی راہ دکھانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ انہوں نے ہمیشہ یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ انسان فانی ہے اور اس کی کوئی شناخت نہیں ،اس کی کوئی وقعت و حیثیت نہیں۔ اس نے مٹی کے ساتھ مٹی ہو جانا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ امن کا پیغام دیا ،اپنے اشعار کے ذریعے معاشرے کے سدھار کی کوشش کی، اپنے مرشد کا ساتھ نہ چھوڑا اور انہی کی پیروی کرتے ہوئے اپنی تعلیمات لوگوں تک پہنچائیں۔ بلھے شاہ نے علم حاصل کرنے سے منع نہیں کیا مگر اس علم پر عمل کرنے کی ترغیب پر زور دیا اور کہا :
پڑھ پڑھ علم لگاویں ڈھیر
قران کتاباں چار چفیر
کردے چانن وچ انھیر
باجوں راہبر خبر نہ سار
علموں بس کریں او یار
بلھے شاہ حق سچ کے حامی تھے ۔انھوں نے لوگوں کی پرواہ کیے بغیر اپنا مشن جاری رکھا ۔یہی وجہ ہے کہ ان کی راہ میں رکاوٹ بننے والے لوگ کسی کو یاد نہیں مگر بابا بلھے شاہ کا نام صدیاں گزر جانے کے بعد بھی روشن ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے