سوشل میڈیا، فحاشی اور معاشرتی بے حسی،ہم کس طرف جارہے ہیں
ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
ٹیکسلا میں معروف ٹک ٹاکر شمسو بی بی عرف عائشہ گلمانہ کا قتل محض ایک فرد کا قتل نہیں، بلکہ ہمارے سامنے کئی ایسے سوالات چھوڑ گیا ہے جن کا تعلق سوشل میڈیا، ہماری نئی نسل، اخلاقی تربیت، قانون اور مجموعی معاشرتی رویوں سے ہے۔ 14 اگست کو عائشہ گلمانہ اپنی بہن اور بھائی کے ہمراہ گاڑی میں جا رہی تھیں کہ موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے فائرنگ کر دی۔ گولی لگنے سے وہ جاں بحق ہوئیں جبکہ ان کی کم عمر بہن بھی زخمی ہوئی۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دیں اور مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا۔عائشہ کی زندگی، اس کا طرزِ گفتگو، اس کی ویڈیوز یا اس کا سوشل میڈیا مواد کسی کو پسند تھا یا ناپسند، یہ ایک الگ بحث ہے۔ کسی انسان کے کردار یا طرزِ زندگی سے اختلاف ہمیں اس کی زندگی چھین لینے کا اختیار نہیں دیتا۔ ناحق قتل، ناحق قتل ہے۔ کسی عورت کے لباس، ویڈیو، گفتگو یا طرزِ زندگی کو اس کے قتل کا جواز بنانا ایک ایسے خطرناک ذہنی رویے کو جنم دیتا ہے جس میں قاتل کے بجائے مقتول ہی کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔اسی لیے عائشہ کے قتل کو ابھی ”غیرت کے نام پر قتل“، کسی عاشق کا انتقام یا کسی اور مخصوص محرک کا نتیجہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق پولیس مختلف پہلوو¿ں سے تفتیش کر رہی ہے، جبکہ ایف آئی آر میں مالی معاملات اور مبینہ دھمکیوں کا ذکر بھی سامنے آیا ہے۔ حتمی فیصلہ تفتیش اور عدالت کو کرنا ہے۔لیکن اس واقعے سے الگ ایک بڑا سوال ضرور موجود ہے: پاکستانی معاشرہ سوشل میڈیا کے اس بے قابو سیلاب کو کس حد تک سنبھال پا رہا ہے؟TikTok ہو، YouTube ہو یا دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارم، بنیادی طور پر یہ ٹیکنالوجی کے ذرائع ہیں۔ چاقو سے پھل بھی کاٹا جا سکتا ہے اور کسی کو زخمی بھی کیا جا سکتا ہے۔ مسئلہ صرف ٹیکنالوجی نہیں، اس کا استعمال اور وہ معاشی نظام بھی ہے جو زیادہ views، likes، gifts اور followers کو کامیابی کا پیمانہ بنا دیتا ہے۔ جب توجہ ہی کرنسی بن جائے تو بعض لوگ توجہ حاصل کرنے کے لیے ہر حد عبور کرنے لگتے ہیں۔یہاں سے ایک خطرناک دوڑ شروع ہوتی ہے۔پہلے عام ویڈیو، پھر سنسنی، پھر غیر مہذب گفتگو، پھر ذاتی زندگی کی نمائش، پھر تنازعات اور بعض اوقات ایسا مواد جس کا واحد مقصد لوگوں کو مشتعل کرنا اور زیادہ سے زیادہ ناظرین حاصل کرنا ہوتا ہے۔ جو جتنا چونکائے، وہ اتنا زیادہ دیکھا جائے؛ اور جو جتنا زیادہ دیکھا جائے، اس کے لیے اتنی ہی زیادہ کمائی کے امکانات پیدا ہوں۔ یوں اخلاق اور تہذیب کے مقابلے میں ”وائرل ہونے“ کی خواہش غالب آنے لگتی ہے۔لیکن اس سارے مسئلے کو صرف خواتین کے لباس یا مواد تک محدود کرنا بھی درست نہیں۔ غیر مہذب زبان استعمال کرنے والے مرد، عورتوں کو ہراساں کرنے والے اکاو¿نٹس، جعلی خبریں پھیلانے والے، خطرناک prank بنانے والے، بچوں کو views کے لیے استعمال کرنے والے اور نفرت و تشدد کو کاروبار بنانے والے سب اسی مسئلے کا حصہ ہیں۔اس سے کہیں زیادہ لرزا دینے والا واقعہ حال ہی میں کراچی کے قیوم آباد میں سامنے آیا، جہاں ڈیڑھ سالہ بچی کی موت کے بعد پولیس نے اس کے ایک 17 سالہ قریبی رشتہ دار کو مبینہ جنسی زیادتی اور قتل کے الزام میں گرفتار کیا۔ پولیس کے مطابق ابتدائی شواہد جنسی تشدد کی طرف اشارہ کر رہے تھے، جبکہ حتمی طبی رائے کا انتظار کیا جا رہا تھا۔ڈیڑھ سال کی بچی!یہ دو الفاظ لکھتے ہوئے قلم کانپتا ہے۔ اس عمر میں بچہ انسانوں کے درمیان فرق تک نہیں جانتا۔ اسے صرف محبت، تحفظ اور آغوش کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہمارے معاشرے میں اتنی کم عمر بچی بھی محفوظ نہیں تو سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ مجرم کون تھا؛ سوال یہ بھی بنتا ہے کہ ہم اپنے بچوں کے گرد کس قسم کا حفاظتی، اخلاقی اور قانونی حصار قائم کر رہے ہیں؟یہاں ایک بات سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ ایسے جرم کو محض ”جنسی محرومی“ یا sexual frustration کہہ دینا اس کی مکمل نفسیاتی تشریح نہیں۔ جنسی جرائم انتہائی پیچیدہ ہوتے ہیں۔ ان میں طاقت اور تسلط کی خواہش، تشدد، مجرمانہ رویے، شخصیت کے مسائل، ماحول، مواقع، بچوں کی غیر محفوظ رسائی اور دوسرے عوامل شامل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ فحش مواد دیکھنے یا کسی شخص کو جنسی تعلق میسر نہ ہونے سے وہ لازماً جنسی مجرم بن جاتا ہے، نہ سائنسی طور پر مناسب ہے اور نہ سماجی طور پر۔البتہ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ مسلسل جنسی نوعیت کے مواد، غیر حقیقی جسمانی تصورات اور عورت یا مرد کو محض جسم بنا کر پیش کرنے والی ڈیجیٹل ثقافت نوجوان ذہنوں پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟ ہمیں اس سوال پر جذباتی نعروں کے بجائے ماہرینِ نفسیات، ماہرینِ تعلیم، والدین، مذہبی و سماجی دانش وروں اور قانون سازوں کی مشترکہ گفتگو درکار ہے۔اصل مسئلہ شاید یہ ہے کہ ہم نے بچوں کے ہاتھ میں اسمارٹ فون تو دے دیا، مگر اس کے ساتھ شعور نہیں دیا۔ایک بچہ اپنے کمرے میں بیٹھا پوری دنیا دیکھ سکتا ہے۔ والدین سمجھتے ہیں کہ بچہ گھر میں ہے، لہٰذا محفوظ ہے، لیکن اس کے موبائل کی سکرین کے دوسری طرف کون موجود ہے؟ وہ کیا دیکھ رہا ہے؟ کس سے بات کر رہا ہے؟ کون اسے manipulate کر رہا ہے؟ کس قسم کی ویڈیوز کا الگورتھم اسے بار بار دکھا رہا ہے؟ اکثر والدین کو کچھ معلوم نہیں۔یہ صورتِ حال صرف پابندی کا مطالبہ نہیں کرتی بلکہ ڈیجیٹل تربیت کا تقاضا کرتی ہے۔TikTok پر مکمل پابندی ایک ممکنہ پالیسی بحث ضرور ہے، مگر ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ اگر کل TikTok بند کر دیا جائے تو کیا غیر اخلاقی مواد ختم ہو جائے گا؟ یا وہ کسی دوسرے پلیٹ فارم پر منتقل ہو جائے گا؟ مسئلے کا مستقل حل صرف ایک ایپ بند کرنا نہیں بلکہ مو¿ثر عمر کی پابندی، بچوں کے لیے parental controls، قابلِ اعتراض مواد کی فوری moderation، شکایات پر تیز کارروائی، غیر قانونی مواد کے خلاف قانون کا نفاذ اور اسکولوں میں digital literacy کی تعلیم ہے۔والدین کی ذمہ داری اس سے بھی زیادہ ہے۔ جس طرح ہم بچے کو رات گئے اجنبی لوگوں کے درمیان اکیلا نہیں چھوڑتے، اسی طرح اسے انٹرنیٹ کی لامحدود دنیا میں بغیر نگرانی کے چھوڑ دینا بھی دانش مندی نہیں۔ بچے کے موبائل کی نگرانی جاسوسی نہیں، مناسب عمر تک تربیت اور حفاظت کا حصہ ہونی چاہیے۔اسی طرح ہمیں اپنے معاشرتی دوہرے معیار پر بھی غور کرنا ہوگا۔ ایک طرف ہم فحش یا متنازع مواد بنانے والوں کو لاکھوں views دیتے ہیں، ان کی live streams دیکھتے ہیں، انہیں gifts بھیجتے ہیں، ان کے جھگڑوں کو share کرتے ہیں اور پھر دوسری طرف انہی لوگوں کو معاشرتی زوال کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ اگر غیر معیاری مواد لاکھوں لوگ نہ دیکھیں تو وہ کاروبار کیسے بنے؟ہم جس چیز کو دیکھتے ہیں، الگورتھم ہمیں وہی چیز مزید دکھاتا ہے۔لہٰذا سوشل میڈیا کی اصلاح صرف حکومت یا کمپنیوں کی ذمہ داری نہیں؛ صارف بھی اس زنجیر کا حصہ ہے۔ ہم جس مواد کو like، share اور follow کرتے ہیں، دراصل اسی بازار میں اپنا ووٹ ڈال رہے ہوتے ہیں۔عائشہ گلمانہ کے قتل اور کراچی کی معصوم بچی کے واقعے کو ایک ہی سادہ فارمولے میں بند کرنا درست نہیں، لیکن دونوں واقعات ہمیں اپنے معاشرے کے دو خوفناک چہرے ضرور دکھاتے ہیں: تشدد کی بڑھتی ہوئی قبولیت اور انسانی جان و حرمت کی گھٹتی ہوئی قدر۔ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ سکھانا ہوگا کہ عورت کوئی شے نہیں، بچہ کسی کی خواہش کا ہدف نہیں، اختلاف قتل کا جواز نہیں، اور آزادی کا مطلب اخلاقی و قانونی ذمہ داریوں سے آزادی نہیں۔ریاست کو قانون نافذ کرنا ہوگا۔ سوشل میڈیا کمپنیوں کو اپنی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔ تعلیمی اداروں کو ڈیجیٹل اخلاقیات سکھانا ہوں گی۔ والدین کو بچوں کے قریب آنا ہوگا۔ اور معاشرے کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کس مواد کو عزت، شہرت اور پیسہ دیتا ہے۔صرف TikTok بند کر دینے سے شاید مسئلہ ختم نہ ہو، لیکن سوشل میڈیا کو مکمل طور پر بے لگام چھوڑ دینا بھی حل نہیں۔ ہمیں آزادی? اظہار اور معاشرتی تحفظ کے درمیان وہ لکیر کھینچنا ہوگی جہاں تخلیقی صلاحیت کو آزادی ملے لیکن جرم، استحصال، بچوں کو نقصان پہنچانے والے مواد اور واضح غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے کوئی جگہ نہ ہو۔ہمیں سب سے بڑھ کر اپنے اندر انسان کی حرمت کا احساس دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔کیونکہ مسئلہ صرف موبائل کی سکرین پر آنے والی چند ویڈیوز کا نہیں رہا۔مسئلہ یہ ہے کہ کہیں سکرین کی چمک میں ہماری اجتماعی حس، ہماری تہذیب اور ہمارے بچوں کا محفوظ مستقبل دھندلا تو نہیں رہا؟






