#کالم

جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اصل روح

Untitled 17 1

فیصل زمان چشتی

اللہ تعالیٰ نے انسانیت پر بے شمار نعمتیں نازل فرمائی ہیں، مگر ان تمام نعمتوں میں سب سے عظیم نعمت ہدایت و رسالت کی نعمت ہے۔ انسان کو زندگی گزارنے کا مقصد، حق و باطل میں فرق، اچھے اور برے کی پہچان اور آخرت کی کامیابی کا راستہ انبیائے کرام علیہم السلام کے ذریعے معلوم ہوا۔ ان مقدس ہستیوں کے سلسلے کو اللہ تعالیٰ نے خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس پر مکمل فرمایا۔ آپ پوری انسانیت کے لیے رحمت بن کر تشریف لائے اور آپ کی تعلیمات نے ایک ایسے معاشرے کو بدل دیا جو جہالت، ظلم،تعصب،بدامنی اور اخلاقی پستی میں مبتلا تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت اسلامی تاریخ کا ایک عظیم اور مبارک واقعہ ہے۔ مسلمان آپ کی آمد کو اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمت سمجھتے ہیں۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے یعنی” ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا "۔ اس لیے نبی کریم کی ولادت کا ذکر محض ایک تاریخی واقعے کا بیان نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی اس عظیم رحمت کی یاد ہے جس نے پوری انسانیت کو ایمان، اخلاق، عدل، محبت اور ہدایت کا راستہ دکھایا۔ ربیع الاول کا مہینہ آتے ہی مسلمان اپنے دلوں میں محبتِ رسول کو تازہ کرتے ہیں۔ محافلِ میلاد منعقد ہوتی ہیں، نعتیں پڑھی جاتی ہیں، درود و سلام کا اہتمام کیا جاتا ہے، سیرتِ طیبہ بیان کی جاتی ہے، صدقات و خیرات کیے جاتے ہیں اور گھروں، مساجد اور گلیوں کو سجایا جاتا ہے۔ یہ سب محبت کے اظہار کی مختلف صورتیں ہیں، لیکن اس پورے عمل کی اصل روح یہ ہے کہ انسان رسول اللہ کی ذات، آپ کی تعلیمات اور آپ کے اسوہ? حسنہ سے حقیقی تعلق پیدا کرے۔ جشنِ عید میلاد النبی کی اصل روح صرف چراغاں، سجاوٹ، جلوس یا ظاہری تقریبات تک محدود نہیں۔ اس کی اصل روح محبتِ رسول ، اتباعِ سنت، اخلاقِ نبوی، حقوق العباد، ذکر و درود، قرآن سے تعلق، اور معاشرے میں عدل و انصاف قائم کرنا ہے۔ اگر میلاد کا ذکر ہماری زندگی میں نبی کریم کی سنت کو زندہ کرنے کا سبب بن جائے تو یہی اس مبارک موقع کا سب سے خوبصورت ثمر ہے۔ بعثتِ نبوی سے پہلے عرب معاشرہ مختلف اخلاقی اور سماجی برائیوں کا شکار تھا۔ قبائلی عصبیت عام تھی، طاقتور کمزور پر ظلم کرتا تھا، لڑائی جھگڑے معمول تھے، شراب اور جوا معاشرے میں پھیلے ہوئے تھے، عورتوں کے حقوق پامال کیے جاتے تھے اور بعض قبائل بیٹیوں کی پیدائش کو معیوب سمجھتے تھے اور انہیں زندہ درگور کر دیتے تھے۔ ایسے ماحول میں حضرت محمد مصطفیٰ تشریف لائے اور آپ نے انسان کو انسانی اقدار سکھائیں۔ آپ نے بتایا کہ اصل عزت مال، خاندان، قبیلے اور رنگ و نسل میں نہیں بلکہ تقویٰ میں ہے۔ آپ نے غلاموں کے ساتھ حسنِ سلوک، یتیموں کی کفالت، مسکینوں کی مدد، پڑوسیوں کے حقوق، والدین کی خدمت، عورتوں کے احترام اور بچوں سے محبت کی تعلیم دی۔ آپ نے صرف عبادات کی تعلیم نہیں دی بلکہ زندگی کے ہر شعبے کے لیے رہنمائی فراہم فرمائی۔ آپ مسجد میں عبادت کرنے والے بھی تھے، میدانِ جنگ میں سپہ سالار بھی، بازار میں اخلاق سکھانے والے بھی، گھر میں بہترین شوہر بھی، بچوں سے محبت کرنے والے بھی، صحابہ کے مربی بھی اور پوری امت کے خیر خواہ بھی۔اسی لیے آپ کی ولادت کو یاد کرنا دراصل اس عظیم ہستی کی آمد کو یاد کرنا ہے جس نے انسانیت کو زندگی کا ایک مکمل اور متوازن نظام عطا فرمایا۔ جشنِ میلاد النبی کا سب سے بنیادی پہلو محبتِ رسول ہے۔ ایک مسلمان کے ایمان کی تکمیل اس وقت ہوتی ہے جب اس کے دل میں رسول اللہ کی محبت دنیا کی تمام محبتوں سے زیادہ ہو جائے۔ محبت صرف زبان سے دعویٰ کرنے کا نام نہیں۔ حقیقی محبت انسان کے عمل میں ظاہر ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص کسی سے سچی محبت کرتا ہے تو وہ اس کی بات مانتا ہے، اس کے پسندیدہ کام اختیار کرتا ہے اور اس کی ناپسندیدہ چیزوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی اصول کے مطابق محبتِ رسول مکا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان آپ کی سنت کو اپنی زندگی میں جگہ دے۔ نماز کی پابندی، سچائی، امانتداری، وعدے کی پاسداری ، معافی، صبر، حیا، عدل، سخاوت، والدین سے حسنِ سلوک اور مخلوقِ خدا کے ساتھ رحم والا معاملہ کرے یہ سب محبتِ رسول کے عملی مظاہر ہیں۔ اگر کوئی شخص میلاد کی محفل میں محبت کے نعرے لگائے لیکن گھر میں والدین سے بدتمیزی کرے، کاروبار میں دھوکا دے، ملازم پر ظلم کرے، پڑوسی کو تکلیف دے، جھوٹ بولے یا وعدہ خلافی کرے تو اسے اپنی محبت کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے۔ محبتِ رسول کا تقاضا یہ ہے کہ نبی کریم کے اخلاق ہمارے کردار کا حصہ بنیں۔ اتباعِ رسول ہی محبت کا عملی ثبوت ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا یعنی "اے نبی! کہہ دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا” اس آیت میں محبت اور اتباع کا تعلق واضح ہو جاتا ہے۔ رسول اللہ سے محبت کا سب سے مضبوط ثبوت آپ کی پیروی ہے۔ جشنِ میلاد ہمیں یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنے آپ سے سوال کریں کیا ہماری زندگی میں سنتِ رسول موجود ہے؟ کیا ہم نماز کی پابندی کرتے ہیں؟ کیا ہماری زبان جھوٹ اور غیبت سے محفوظ ہے؟ کیا ہم والدین کی عزت کرتے ہیں؟ کیا ہم اپنے بچوں کے ساتھ شفقت سے پیش آتے ہیں؟ کیا ہم کاروبار میں دیانت داری اختیار کرتے ہیں؟ کیا ہم کمزوروں کا حق ادا کرتے ہیں؟ کیا ہم کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کرتے؟اگر میلاد کے موقع پر ہم ان سوالات کا جائزہ لیں اور اپنی زندگی میں اصلاح کا عزم کریں تو یہ جشن ہمارے لیے حقیقی معنوں میں بابرکت بن سکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ربیع الاول کو سیرت سیکھنے کا مہینہ بنائیں۔ گھروں میں سیرت کی کتابیں پڑھی جائیں، بچوں کو رسول اللہ کے اخلاق اور واقعات سنائے جائیں، نوجوانوں کے لیے سیرت کے مطالعاتی پروگرام ہوں اور مساجد میں نبی کریم کی زندگی کے مختلف پہلوو¿ں پر گفتگو کی جائے۔ سیرتِ طیبہ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ مشکل حالات میں صبر کیسے کیا جاتا ہے، دشمنوں کے ساتھ عدل کیسے کیا جاتا ہے، کامیابی کے بعد عاجزی کیسے اختیار کی جاتی ہے، غریبوں کے ساتھ محبت کیسے کی جاتی ہے اور معاشرے میں امن کیسے قائم کیا جاتا ہے۔ اگر ہم میلادِ رسول کی خوشی میں سیرتِ نبوی سے یہ سبق لے لیں کہ معافی، برداشت اور صلح کو فروغ دینا ہے تو ہمارے گھروں اور معاشرے میں حقیقی تبدیلی آ سکتی ہے۔ ہمیں میلاد کے موقع پر صرف گلیاں نہیں سجانی چاہییں بلکہ اپنے دل بھی سجانے چاہییں۔ صرف گھروں کو روشن نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنے کردار کو سنتِ نبوی کی روشنی سے منور کرنا چاہیے۔ صرف نعتیں نہیں پڑھنی چاہییں بلکہ نعت میں بیان ہونے والی محبت کو عمل میں ڈھالنا چاہیے۔ صرف جلسے نہیں کرنے چاہییں بلکہ اپنی زندگی کو سیرتِ مصطفیٰ کا عملی نمونہ بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ آج اگر ہم رسول اللہ کی سیرت کو اپنی ذاتی، خاندانی، معاشرتی اور قومی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کریں تو ہمارے معاشرے میں حقیقی انقلاب آ سکتا ہے۔ جھوٹ کی جگہ سچ، نفرت کی جگہ محبت، ظلم کی جگہ عدل، خود غرضی کی جگہ ایثار، بددیانتی کی جگہ امانت، بے سکونی کی جگہ امن اور مایوسی کی جگہ امید پیدا ہو سکتی ہے اور ہم جشن عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اصل روح تک پہنچ سکتے ہیں۔ اللہ پاک ہمارے علم و عمل اور زندگی کے ہر شعبے میں برکتیں اور رحمتیں نازل فرمائے آمین ثم آمین۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے