پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس وقت کی ضرورت، بڑے صوبوں کی تقسیم سے عوام کو ریلیف دینے پر قومی ڈائیلاگ ناگزیر
قاسم علی
سچائیاں
پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی، انتظامی مسائل، وسائل کی غیر مساوی تقسیم اور عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے چیلنجز نے موجودہ انتظامی ڈھانچے پر نظرثانی کی ضرورت کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ ملک میں مو¿ثر حکمرانی، متوازن ترقی اور عوام تک اختیارات کی منتقلی کے لیے نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل پر سنجیدہ قومی مکالمے کی ضرورت ہے۔ سیمینارز، ڈائیلاگ اور پالیسی فورمز پر اس موضوع کو زیرِ بحث لانا وقت کا تقاضا ہے، کیونکہ ایک مضبوط ریاست کی بنیاد صرف بڑے ترقیاتی منصوبوں پر نہیں بلکہ ایسے انتظامی نظام پر بھی ہوتی ہے جو عام شہری کے مسائل کو بروقت حل کر سکے۔پاکستان جیسے آبادی اور جغرافیائی لحاظ سے بڑے ملک میں یہ سوال اہم ہے کہ کیا موجودہ انتظامی تقسیم عوام کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے؟ کیا ایک ہی صوبائی دارالحکومت سے دور دراز علاقوں کے مسائل کو یکساں توجہ اور رفتار کے ساتھ حل کیا جا سکتا ہے؟ کیا وسائل کی تقسیم اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے لیے علاقائی سطح پر زیادہ بااختیار انتظامی ڈھانچے کی ضرورت نہیں؟ ان سوالات کا جواب نئے انتظامی یونٹس کے تصور کو محض سیاسی بحث کے بجائے بہتر حکمرانی کے ایک سنجیدہ آپشن کے طور پر دیکھنے میں پوشیدہ ہے۔پاکستانی پنجاب اس بحث کی ایک نمایاں مثال ہے۔ 2023ء کی مردم شماری کے مطابق پنجاب کی آبادی تقریباً 12 کروڑ 76 لاکھ 88 ہزار ہے۔ اتنی بڑی آبادی کے لیے تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ، زراعت، شہری ترقی، روزگار اور امن و امان کے معاملات کو مو¿ثر انداز میں چلانا ایک بڑا انتظامی چیلنج ہے۔ دوسری جانب بھارتی پنجاب کی آبادی تقریباً تین کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ دونوں خطوں کا تقابل یہ واضح کرتا ہے کہ آبادی اور انتظامی ذمہ داریوں کے حجم میں نمایاں فرق موجود ہے، اگرچہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام کا فیصلہ صرف آبادی کے اعداد و شمار پر نہیں بلکہ مکمل انتظامی اور معاشی جائزے پر ہونا چاہیے۔لاہور پنجاب کا سیاسی، انتظامی، تعلیمی اور معاشی مرکز ہے۔ صوبائی حکومت کے اہم ادارے اور بڑے انتظامی فیصلے اسی شہر سے وابستہ ہیں۔ اس مرکزیت کے فوائد اپنی جگہ، لیکن جب صوبے کی آبادی 12 کروڑ سے تجاوز کر جائے تو ہر علاقے کی مخصوص ضروریات کو یکساں رفتار سے پورا کرنا ایک مشکل کام بن جاتا ہے۔ جنوبی پنجاب، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، راجن پور، رحیم یار خان اور دیگر دور دراز علاقوں کے مسائل اپنی نوعیت کے اعتبار سے مختلف ہیں۔ کہیں زراعت اور آبپاشی بنیادی ضرورت ہے، کہیں اعلیٰ تعلیم اور طبی سہولتوں کی کمی اہم مسئلہ ہے، جبکہ بعض علاقوں میں صنعتی سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بڑھانے کی ضرورت ہے۔ایسے حالات میں نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل پر غور اس لیے ضروری ہے کہ فیصلوں کا عمل عوام کے قریب لایا جا سکے۔ جب علاقائی سطح پر بااختیار انتظامیہ موجود ہو تو ترقیاتی ضروریات کی شناخت، منصوبوں کی ترجیحات کا تعین، سرکاری محکموں کی نگرانی اور عوامی شکایات کا ازالہ زیادہ مو¿ثر انداز میں ممکن ہو سکتا ہے۔ تاہم اس مقصد کے لیے صرف نئے دفاتر قائم کرنا کافی نہیں ہوگا، بلکہ ان اداروں کو واضح اختیارات، مالی وسائل اور جواب دہی کے مو¿ثر نظام سے بھی منسلک کرنا ہوگا۔نئے انتظامی یونٹس کے حق میں سب سے اہم دلیل متوازن علاقائی ترقی ہے۔ کسی بھی صوبے کے تمام اضلاع معاشی، جغرافیائی اور سماجی لحاظ سے یکساں نہیں ہوتے۔ اگر ترقیاتی منصوبے مقامی ضروریات کے مطابق ترتیب دیے جائیں تو وسائل کے بہتر استعمال اور محروم علاقوں کی ترقی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ علاقائی سطح پر منصوبہ بندی سے مقامی صنعت، زراعت، سیاحت، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو ان کی حقیقی ضروریات کے مطابق ترجیح دی جا سکتی ہے۔مثال کے طور پر جنوبی پنجاب میں زراعت، آبپاشی، لائیو اسٹاک، زرعی صنعت اور دیہی معیشت کو مرکزیت حاصل ہے۔ اگر ان شعبوں کے لیے علاقائی سطح پر مضبوط منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی کا نظام قائم کیا جائے تو مقامی وسائل کو بہتر طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان جیسے علاقوں کی ضروریات کو بھی مقامی جغرافیے، آبادی اور معاشی امکانات کی بنیاد پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی طرح پوٹھوہار اور دیگر علاقوں کے لیے ان کی مخصوص ضروریات کے مطابق انتظامی سہولتوں اور اختیارات کی تقسیم پر غور کیا جا سکتا ہے۔یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کا مطلب لازماً ہر علاقے کو مکمل صوبائی حیثیت دینا نہیں۔ بعض علاقوں میں نئے صوبے کا قیام موزوں ہو سکتا ہے، جبکہ دیگر علاقوں میں بااختیار علاقائی سیکریٹریٹ، مضبوط ڈویڑنل انتظامیہ یا مالی اختیارات رکھنے والی مقامی حکومتیں زیادہ مو¿ثر حل ثابت ہو سکتی ہیں۔ اصل مقصد انتظامی نقشے میں تبدیلی برائے تبدیلی نہیں بلکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے مناسب ترین نظام کا انتخاب ہونا چاہیے۔نئے انتظامی یونٹس کے قیام پر سیمینارز اور ڈائیلاگ اس لیے بھی اہم ہیں کہ اس موضوع پر فیصلے جذبات یا سیاسی نعروں کے بجائے شواہد کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔ ماہرینِ انتظامیہ، معاشیات، قانون، سیاسیات، مقامی حکومتوں، سول سوسائٹی اور منتخب نمائندوں کو ایک مشترکہ مکالمے میں شامل کیا جائے۔ آبادی، رقبے، سفر کے فاصلے، سرکاری خدمات کی دستیابی، بجٹ کی تقسیم اور ترقیاتی ضروریات کے اعداد و شمار سامنے رکھ کر یہ طے کیا جا سکتا ہے کہ کن علاقوں میں انتظامی تبدیلی زیادہ فائدہ مند ہوگی۔اس معاملے میں عوامی رائے کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔ جن علاقوں کے لیے نئے انتظامی یونٹس تجویز کیے جائیں، وہاں کے شہریوں، تاجروں، کسانوں، اساتذہ، طلبہ، خواتین اور مقامی نمائندوں سے مشاورت کی جائے۔ اس طرح نہ صرف مقامی ضرورتوں کی بہتر شناخت ممکن ہوگی بلکہ نئے انتظامی ڈھانچے کے لیے عوامی اعتماد بھی پیدا ہوگا۔ انتظامی اصلاحات کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب ان کے مقاصد واضح ہوں اور عوام کو ان کے فوائد عملی طور پر نظر آئیں۔تاہم نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے مالیاتی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ نئے دفاتر، سیکریٹریٹس، اسمبلیوں اور دیگر اداروں کے قیام پر اخراجات آئیں گے۔ اگر ان اخراجات کی مناسب منصوبہ بندی نہ ہو تو عوامی وسائل پر اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے۔ اس لیے کسی بھی تجویز پر عمل درآمد سے پہلے لاگت اور فوائد کا جامع جائزہ لینا ضروری ہے۔ موجودہ سرکاری عمارتوں کے استعمال، ڈیجیٹل خدمات میں اضافے، محکموں کی مو¿ثر تنظیمِ نو اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کے ذریعے نئے انتظامی ڈھانچے کو زیادہ کفایتی بنایا جا سکتا ہے۔وسائل کی منصفانہ تقسیم بھی اس عمل کا بنیادی حصہ ہونی چاہیے۔ نئے انتظامی یونٹس کے مالی وسائل، محصولات، ترقیاتی بجٹ اور وفاقی منتقلیوں کے لیے شفاف اصول وضع کیے جائیں۔ پسماندہ علاقوں کو ان کی ضروریات کے مطابق وسائل فراہم کرنا ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ مالیاتی نظم و ضبط، آڈٹ اور عوامی جواب دہی کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔ اگر نئے یونٹس کو وسائل اور اختیارات تو مل جائیں لیکن ان کی کارکردگی کی نگرانی نہ ہو تو مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مشکل ہوگا۔پاکستان میں کسی صوبے کی حدود تبدیل کرنے کے لیے آئینی تقاضوں کی تکمیل بھی ضروری ہے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 239(4) کے تحت کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی کل رکنیت کے کم از کم دو تہائی ارکان کی منظوری درکار ہوتی ہے، جبکہ اس کے بعد پارلیمان میں آئینی طریقہ کار مکمل کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے حوالے سے کسی بھی تجویز کو آئینی، جمہوری اور شفاف طریقے سے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔نئے انتظامی یونٹس کی بحث کے ساتھ مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ صفائی، پانی، نکاسی? آب، مقامی سڑکوں، پارکوں اور شہری سہولتوں جیسے مسائل کا براہِ راست تعلق بلدیاتی اداروں سے ہے۔ اگر مقامی نمائندوں کو مناسب مالی وسائل، قانونی تحفظ اور انتظامی اختیارات فراہم کیے جائیں تو عوام کے بہت سے مسائل صوبائی دارالحکومت تک پہنچنے سے پہلے حل کیے جا سکتے ہیں۔ یوں نئے انتظامی یونٹس اور بااختیار مقامی حکومتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہوئے بہتر حکمرانی کا مو¿ثر ماڈل تشکیل دے سکتی ہیں۔اس تمام بحث میں بنیادی نکتہ یہ ہے کہ انتظامی یونٹس کی تشکیل کو قومی وحدت کے خلاف نہیں بلکہ بہتر حکمرانی، متوازن ترقی اور ریاستی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے تناظر میں دیکھا جائے۔ پاکستان کی مضبوطی اس بات میں ہے کہ ہر علاقے کے شہریوں کو یکساں مواقع، بنیادی سہولتیں اور ترقی کے مناسب امکانات میسر ہوں۔ کسی علاقے کو انتظامی سہولت فراہم کرنا یا مقامی سطح پر اختیارات بڑھانا اسی وقت مفید ثابت ہوگا جب اس سے قومی وسائل کا بہتر استعمال اور شہریوں کی زندگی میں حقیقی بہتری آئے۔پاکستان کو اب اس موضوع پر ایک جامع اور نتیجہ خیز قومی مکالمے کی ضرورت ہے۔ سیمینارز اور ڈائیلاگ میں نئے انتظامی یونٹس کے حق میں پیش کیے جانے والے دلائل کو تحقیق، اعداد و شمار اور قابلِ عمل تجاویز سے مضبوط کیا جائے۔ حکومت، سیاسی جماعتیں اور متعلقہ ادارے اس بات پر غور کریں کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے میں کہاں اصلاحات کافی ہوں گی اور کہاں نئے یونٹس کا قیام ناگزیر ہو سکتا ہے۔ اس عمل کے لیے واضح معیار، عوامی مشاورت، مالیاتی منصوبہ بندی اور آئینی طریقہ کار کو بنیادی حیثیت دی جانی چاہیے۔حقیقت یہ ہے کہ انتظامی یونٹس کی تشکیل کا مقصد نئے عہدے، نئے دفاتر یا نئی سیاسی تقسیم پیدا کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ عوام کو بہتر ہسپتال، معیاری تعلیم، روزگار، صاف پانی، بہتر سڑکیں اور فوری سرکاری خدمات میسر ہوں۔ اگر نئے انتظامی یونٹس اس مقصد کے حصول میں مددگار ثابت ہوتے ہیں تو ان پر سنجیدگی سے غور کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں بہتر حکمرانی کی جانب پیش رفت اسی وقت ممکن ہوگی جب انتظامی فیصلوں کا مرکز سیاسی مفادات کے بجائے عوامی ضرورتیں ہوں اور اختیارات کی تقسیم کے ساتھ جواب دہی کا نظام بھی مضبوط بنایا جائے۔






