#کالم

نرخ نامے بے بس کیوں ؟

Untitled 5

جاویدایازخان

گذشتہ روز بیگم کے ساتھ خریداری کے لیے بڑے عرصہ بعد جانے کا اتفاق ہوا تو پتہ چلا کہ کچھ بھی نرخ نامے کے مطابق فروخت نہیں ہو رہا۔نرخ نامہ تو آویزاں دکھائی دیتا ہے لیکن چیزیں اس کاغذ پر سستی مگر بازار میں مہنگی ہیں۔نرخ تو درج ہے کوالٹی نہیں لکھی گئی۔گوشت کی قیمت نرخ نامے پر درج قیمت سے دوگنی دیکھ کر قصائی سے پوچھا بھائی یہ نرخ نامہ تو کچھ اور بتا رہا ہے تو وہ کہنے لگا یہ نرخ نامے کی کاپی بھی ہمیں پیسوں سے ملتی ہے۔پھر میرا گوشت بھی تو بغیر پانی لگا ہے۔دوسرے نرخ نامے پر ریٹ لکھا گیا ہے کوالٹی اور معیار نہیں کٹے کا گوشت گاےیا بیل کے گوشت سے مہنگا ہوتا ہے ۔اچھی کوالٹی کا اچھا ریٹ ہوتا ہے۔پھر آپ کسی بڑے ڈیپارٹمنٹل اسٹور کی نسبت تو کم قیمت ہی خرید رہے ہیں۔ہمارا دودھ والا ویسے تو سب کو ایک سو اسی سے لیکر دو سو روپے کلو تک دودھ دیتا ہے مگر خالص دودھ کسی صورت بھی دو سو بیس سے کم نہیں دیتا۔شاید ارباب اختیار نرخ مقرر کر سکتے ہیں معیار اور کوالٹی برقرار نہیں رکھ پاتے۔پھلوں اور سبزی کے دام ہر جگہ مختلف ہوتے ہیں۔یہاں تک کہ ریٹ مقرر ہونے کے باوجود ڈبل روٹی (بریڈ ) کی یکساں قیمتیں اور یکساں کوالٹی کی نہیں ہیں۔المیہ یہ ہے کہ نرخ نامے میں ریٹ تو لکھ دیا جاتا ہے مگر کوالٹی نہیں لکھی جاتی۔عام روٹی کی قیمت تو سرکاری ہے مگر وزن اور سائز کا پتہ نہیں ہوتا۔سعودی عرب میں دیکھا تھا کہ پھل کے ہر دانے پر کوالٹی کااسٹیکر لگا ہوتا ہے اور ہر کھانے والی چیز پر معیاد کی تاریخ بھی درج ہوتی ہے۔ایل پی جی کی قیمت ،مقدار اور کوالٹی مانپنے کا کوئی پیمانہ نظر نہیں آتا البتہ ہر روز ایک نیا اور منفرد ریٹ سامنے آتا ہے۔آجکل تو پیٹرول کا ریٹ ہر روز بدلتا ہے اور پیمانہ کیسے چیک کیا جاسکتا ہے ؟ پہلے ترازو کا پلڑا خریدار کے جانب جھکتا تھا مگر آج بیچنے والے کی جانب جھکا ہوتا ہے۔کئی مرتبہ شک ہوا تو گھر آکر وزن چیک کرنا پڑا تو ہمیشہ کم ہی نکلتا ہے۔گوشت یا چکن کی صفائی کے نام پر پندرہ سے بیس فیصد وزن کم کردینا تو معمول بن گیا ہے۔پہلے زمانے میں بغیر ریٹ لسٹ اور نگرانی کے بھی وزن ،مقدار ،پیمائش اور معیار برقرار ہوا کرتا تھا میرے ایک بزرگ جو دودھ بیچتے تھے ہر ایک کلو دودھ کے بعد آدھ پاو دودھ احتیاط کے طور پر زیادہ ڈال دیتے تھے۔گوشت والا صفائی کے بعد گوشت ترازو پر رکھ کر وزن پورا کرتا تھا۔ہمارے ایک بزرگ ترازو میں وزن کے باٹ کے ساتھ ایک لفافہ یا شاپر رکھا کرتے تھے تاکہ وزن مین کمی کا گناہ نہ ہونے پاے ۔اور اس کے باوجود اشیاءکا پلڑا جھکا ہو اہوتا تھا۔ سرکاری نرخ نامہ شاید اس ملک کی وہ دستاویز بن چکا ہے جسے دیوار پر تو آویزاں کیا جاتا ہے، مگر بازار میں اس کی قیمت نہیں رہتی۔ کاغذ پر آٹا، چینی، دال، سبزی، گوشت اور دیگر اشیائے ضروریہ کے نرخ کچھ اور ہوتے ہیں، جبکہ دکان کے ترازو پر عوام سے وصول کی جانے والی قیمت کچھ اور۔ سوال یہ ہے کہ اگر سرکار نرخ مقرر کرتی ہے تو پھر ان نرخوں پر عمل کون کروائے گا؟ مہنگائی صرف قیمتوں کے بڑھنے کا نام نہیں، یہ گھر کے بجٹ کے سکڑنے، خواہشوں کے مرنے اور ضروریات کے درمیان انتخاب پر مجبور ہونے کا نام بھی ہے۔ ایک طرف سرکاری نرخ نامہ عام آدمی کو تسلی دیتا ہے کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں قابو میں ہیں، دوسری طرف بازار میں قدم رکھتے ہی وہی شہری محسوس کرتا ہے کہ نرخ نامہ شاید کسی اور دنیا کے لیے جاری ہوا تھا۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق 24 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں ضروری اشیائ پر مشتمل حساس قیمتوں کا اشاریہ 0.99 فیصد بڑھا، جبکہ سالانہ بنیاد پر اضافہ 11.92 فیصد ریکارڈ ہوا۔ یہ اعداد صرف اعداد نہیں، لاکھوں گھروں کے ماہانہ بجٹ کی کہانی ہیں۔ اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ تاجر سرکاری نرخ سے زیادہ قیمت کیوں وصول کرتا ہے؛ سوال یہ بھی ہے کہ سرکاری نرخ نامہ نافذ کیوں نہیں ہو پاتا؟ اگر نرخ نامہ موجود ہے، متعلقہ افسران موجود ہیں، مارکیٹ کمیٹیاں موجود ہیں، پرائس کنٹرول کا نظام موجود ہے تو پھر نگرانی کا وہ ہاتھ کہاں ہے جو ناجائز منافع خوری کو روک سکے؟ قیمت مقرر کرنا نسبتاً آسان کام ہے، مگر اس قیمت پر عمل درآمد کرانا اصل انتظامی امتحان ہے۔ صرف جرمانے، چھاپے اور چند دکانیں سیل کر دینا مستقل حل نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نرخ مقرر کرنے کے ساتھ سپلائی چین، تھوک منڈی، ذخیرہ اندوزی، مصنوعی قلت اور ناجائز منافع خوری کے پورے نظام کو دیکھا جائے۔ کیونکہ مہنگائی کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس کا بوجھ ہر شخص پر برابر نہیں پڑتا۔ محدود آمدنی والا گھرانہ جب آٹے، دال، دودھ، گوشت اور سبزی میں سے کسی ایک چیز کو کم کرتا ہے تو وہ صرف خرچ کم نہیں کرتا، اپنے معیارِ زندگی کا ایک حصہ قربان کرتا ہے۔ اگر سرکاری نرخ نامہ صرف دیوار کی زینت بن جائے اور بازار اپنی مرضی کے نرخ پر چلنے لگے تو پھر سوال نرخ کا نہیں، ریاستی اختیار کی معنویت کا بن جاتا ہے۔پھل فروش شاید نرخ نامے کے مطابق کچھ دیتا بھی ہے تو وہاں معیار اور کوالٹی کا مسئلہ سامنے آتا ہے۔چھوٹے بڑے اور غیر معیاری پھل چند اچھے پھلوں کے ساتھ دیکر وہ اپنا حساب برابر کر لیتا ہے۔سوال یہ بھی ہے کہ فروخت ہونے والی اشیائ کا معیار کون چیک کرے ؟ ہر پھل کی کئی کئی کوالٹی مختلف ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں۔سوال یہ بھی ہے کہ سرکاری ریٹ اور دوکاندار کی مرضی یہ الگ الگ چیزیں کیوں ہوتی ہیں ؟قیمت اور معیار کون طے کرتا ہے ؟ سرکار یا بازار ؟ ہمارے دیواروں پر لگے نرخ نامے آخر اتنے بے بس کیوں ہوتے ہیں ؟ عوام کو سبزی منڈی یا بازار میں ہی نہیں بلکہ ڈاکٹروں کی فیس ،علاج ، الٹرا ساونڈ ،لیبارٹری ٹسٹ ،ایکسرے اور دیگر ٹسٹوں میں بھی نرخ ناموں کی ضرورت ہے جہاں ہر ایک کا اپنا اپنا الگ ریٹ ہے۔فاسٹ فوڈ کا ایک ہی سائز کا برگر پچاس روپے سے لے کر تین سو روپے تک مل رہا ہےکیوں ؟ یا تو کوالٹی کا مسئلہ ہے یا پھر ناجائز منافع خوری ہے ؟ پیٹرو ل پمپ کا پیمانہ اور بسا اوقات ریٹ بھی الگ الگ ہوتے ہیں۔آدمی جاے تو جاے کہاں ؟ آج اگر ایک شہری سرکاری نرخ نامہ ہاتھ میں لے کر دکان دار کے سامنے کھڑا ہو اور جواب ملے کہ ”صاحب! یہ ریٹ تو کاغذ پر ہے“ تو یہ صرف ایک دکاندار کا جملہ نہیں، پورے نظام کے لیے سوالیہ نشان ہے۔مہنگائی کا یہ سفر اگر اسی طرح جاری رہا تو اس کے رنگ صرف بازار کی قیمتوں میں نہیں، گھروں کے چولہوں، بچوں کی خوراک، بزرگوں کی ضروریات اور متوسط طبقے کی زندگی میں بھی دکھائی دیں گے۔ نرخ نامہ دیوار پر لگانے سے بازار سستا نہیں ہوتا؛ نرخ نامے کو بازار میں نافذ کرنا پڑتا ہے۔ اور جس دن عوام کو سرکاری نرخ اور بازار کے نرخ میں فرق ختم ہوتا دکھائی دینے لگے گا، شاید اسی دن انہیں محسوس ہوگا کہ ریاست صرف قیمت مقرر نہیں کرتی، اپنے شہری کی قوتِ خرید کی حفاظت بھی کرتی ہے۔باوجود کوشش کے نرخ نامے اور بازار کا فرق ختم ہونے کا نام ہی لے رہا ااور دوسری جانب مہنگائی کے بارے میں ورلڈ بینک کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق خطے میں غربت میں سب سے زیادہ اضافہ ہمارے ملک میں ہوا ہے۔جو یقینا” ایک لمحہ فکریہ ہے۔اس لیے معیار ،مقدار اور نرخ وہ چیزیں ہیں جو ایک غریب آدمی کے بجٹ میں دراڑڈال دیتی ہیں۔سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ سب حکومت نے کرنا ہے یا پھر ہماری انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری بھی ہے ؟اس کے لیے وزن اور معیار میں گڑبڑ یا ملاوٹ اور ناجائز منافع خوری کو ا?خر ہم گناہ کیوں نہیں سمجھتے ؟

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے