#کالم

ظلم کا تازیانہ اور مسلتا ہوا بچپن. ملتان کا المناک واقعہ اور ہماری اجتماعی بے حسی

ashraf asmi

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ

ملتان کی ایک نجی ہاو¿سنگ سکیم کی سڑک پر تیز رفتار گاڑی کا ٹائر جب پندرہ سالہ وسیم عباس کے وجود پر چڑھا، تو صرف ایک یتیم محنت کش بچے کا سانس نہیں ٹوٹا بلکہ ہمارے معاشرتی ضمیر، انسانیت اور عدل کے کھوکھلے دعوو¿ں کا بھی جنازہ نکل گیا۔ مظفر گڑھ کا رہائشی یہ مظلوم بچہ اپنے خاندان کی کفالت کی خاطر الیکٹریشن کا کام سیکھنے اور مزدوری کرنے کے لیے اپنے گھر اور ایک یتیم خانے کے سائے سے نکل کر ملتان پہنچا تھا۔ لیکن جب اس نے جبری مشقت، تشدد اور نامساعد حالات سے تنگ آ کر کام چھوڑنے اور بھاگنے کی کوشش کی، تو ٹھیکیدار کے غرور اور فرعونیت نے اس کا تعاقب کیا۔ پہلے پیدل اور پھر سنگدلانہ انداز میں گاڑی سے اس کا پیچھا کیا گیا اور پے در پے گاڑی سے ٹکر مار کر اسے بے دردی سے کچل دیا گیا۔ سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگز اور عینی شاہدین کے بیانات اس بات کے گواہ ہیں کہ یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ ایک ننگِ انسانیت اور سفاکانہ قتلِ عمد تھا جس نے ہر حساس دل کو دہلا کر رکھ دیا ہے۔یہ فاجعہ کسی ایک فرد کی فرعونیت کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پسِ پردہ وہ گہرے اور بھیانک معاشرتی عوامل کارفرما ہیں جو ہمارے سماج کی جڑوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں چائلڈ لیبر اور بچوں سے مشقت کروانا ایک عام اور تسلیم شدہ روایت بن چکا ہے، جہاں قوانین کا وجود صرف کاغذ کی حد تک محدود ہے۔ جب نو عمر بچوں کو کام کی جگہوں پر بھیجا جاتا ہے تو انہیں ایک انسان کے بجائے محض سستا اور بے زبان مزدور سمجھا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ہمارے سماج میں سرائیت کر جانے والی شدید طبقاتی تقسیم نے بااثر اور صاحبِ ثروت طبقے کے اندر یہ زہریلی سوچ پروان چڑھائی ہے کہ وہ قانون اور انسانی اقدار سے بالاتر ہیں۔ جب کوئی غریب بچہ یا مزدور اپنے حقوق، اپنی جان یا اپنی خودداری کے تحفظ کی بات کرتا ہے تو اسے سرکشی اور نافرمانی قرار دے کر اس طرح کی درندگی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ واقعہ ہمارے معاشرے میں مسلسل بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور اخلاقی تنزلی کا وہ آئینہ ہے جس میں ہم سب کا چہرہ داغدار نظر آتا ہے۔معاشی محرومیاں اس المیے کا وہ دوسرا رخ ہیں جو معصوم بچوں کو پھولوں کی عمر میں موت کے منہ میں دھکیلتی ہیں۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، افراطِ زر اور بے روزگاری کے باسی طوفان نے غریب اور بے سہارا خاندانوں کو اس حد تک مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو سکول بھیجنے کی بجائے کام پر بھیجنے پر مجبور ہیں۔ اگر وسیم عباس کا خاندان معاشی طور پر مستحکم ہوتا اور اس کے سر پر یتیمی کا سایا نہ ہوتا تو وہ اس عمر میں کتابیں اٹھا کر اپنے روشن مستقبل کے خواب دیکھ رہا ہوتا، نہ کہ کسی سنگدل ٹھیکیدار کی گالیوں اور تشدد کا نشانہ بن رہا ہوتا۔ ریاستی سطح پر سوشل سیفٹی نیٹ اور یتیم بچوں کی پرورش و تحفظ کے لیے کارآمد نظام کی عدم موجودگی کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسے بچے انتہائی بے یارو مددگار ہو کر معاشی استحصالیوں کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں۔ غیر رسمی شعبے اور لیبر مارکیٹ پر حکومتی نظرداری کی مکمل غیر موجودگی نے مالکان کو مطلق العنان بنا دیا ہے جہاں نہ کوئی ملازمتی معاہدہ ہوتا ہے اور نہ ہی کام کے انسانی حالات کی کوئی ضمانت دی جاتی ہے۔اب سب سے بڑا اور بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس خونچکاں واقعے کے بعد انصاف کیسے ممکن ہوگا اور کیا مظلوم کے خون کا حساب ہو پائے گا؟ انصاف کی حاکمیت کا پہلا قدم یہ ہے کہ اس مقدمے کو کسی روایتی سست روی کا شکار نہ ہونے دیا جائے۔ پولیس نے اگرچہ ریاست کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کر کے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے، لیکن انصاف کی واقعی بالادستی تب قائم ہوگی جب اس کیس کو تیز رفتار اور فاسٹ ٹریک عدالت میں روزانہ کی بنیاد پر چلا کر منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ عدالتوں کو سی سی ٹی وی فوٹیج، فارنسک شہادتوں اور عینی شاہدین کے بیانات پر مبنی ٹھوس شواہد کی روشنی میں ملزمان کو عبرتناک سزا دینی ہوگی تاکہ مستقبل میں کوئی بھی بااثر شخص کسی غریب کی زندگی کو کھلونا سمجھنے کی جرات نہ کر سکے۔اس کے ساتھ ساتھ، ریاست کو چاہیے کہ وہ مظلوم کے لواحقین اور یتیم خانے کے انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کرے اور کیس کی پیروی خود کرے تاکہ کسی بھی قسم کے مالی دباو¿، دھمکی یا مبینہ راضی نامے کے ذریعے اس کیس کو دبایا نہ جا سکے۔ اگر عدالتی نظام میں بااثر افراد اپنے پیسے اور طاقت کے بل بوتے پر بچ نکلنے میں کامیاب ہوتے رہے تو پھر عوام کا قانون پر سے اعتماد مکمل طور پر اٹھ جائے گا۔ انصاف کا تقاضا صرف ایک جرم کی سزا تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ حکومت اور ریاست کو چائلڈ لیبر کے خلاف ملک گیر ہنگامی کریک ڈاو¿ن کرنا ہوگا۔ تمام ورکشاپس، نجی اداروں اور فیکٹریوں کا انسپکشن نظام قائم کیا جائے اور کم سن بچوں سے مشقت کروانے والے تمام مالکان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ملتان کا یہ دلخراش واقعہ ہم سب کے لیے ایک تازیانہ اور لائحہ عمل مرتب کرنے کا لمحہ ہے۔ اگر وسیم عباس کی ناگہانی اور دردناک موت کے بعد بھی ہمارا قانون، ہماری ریاست اور ہمارا معاشرہ بیدار نہ ہوا تو ایسے کئی اور معصوم بچے بے حسی کے اس خوفناک نظام کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم بحیثیت مجموعی اپنے رویوں کا محاسبہ کریں، غریب اور یتیم بچوں کے حقوق کی پاسداری کو یقینی بنائیں اور عدل و انصاف کے ایسے نظام کی بنیاد رکھیں جہاں کسی طاقتور کو کسی غریب کی سانسیں چھیننے کی اجازت نہ ہو

ظلم کا تازیانہ اور مسلتا ہوا بچپن. ملتان کا المناک واقعہ اور ہماری اجتماعی بے حسی

نرخ نامے بے بس کیوں ؟

ظلم کا تازیانہ اور مسلتا ہوا بچپن. ملتان کا المناک واقعہ اور ہماری اجتماعی بے حسی

حقائق ہیں کتنے تلخ

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے