اشرافیہ کو گرین پاسپورٹ سے ڈر لگتا ہے؟
مرزا رضوان
پاکستان میں جمہوریت کا خمیر اگر کسی چیز سے اٹھتا ہے تو وہ "عوامی خدمت” کی لمبی چوڑیاں اور انتخابی وعدے ہیں۔ لیکن جیسے ہی اقتدار کا ہمائیوں پرندہ ان ایوانوں کے سر پر بیٹھتا ہے، تو عوام کا خادم کہلانے والا طبقاتی خلیج کی اس بلندی پر جا بیٹھتا ہے جہاں سے عام پاکستانی کی مشکلات محض کیڑے مکوڑے نظر آتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں سینیٹ آف پاکستان میں پیش ہونے والا اور منظوری کی مراحل طے کرتا "پاسپورٹس ایکٹ 1974ئ میں ترمیمی بل” – جس کے تحت سینیٹرز، سابق اراکینِ پارلیمنٹ اور ان کے کنبوں کو "لائف ٹائم بلیو (آفیشل) پاسپورٹ” کی مراعات دینے کی راہ ہموار کی گئی – پاکستانی سیاسی اشرافیہ کی اسی بے حسی اور خود غرضی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اربوں روپے کے اثاثوں، مراعات، سرکاری گاڑیوں، مفت پٹرول، اور روزانہ کے الاو¿نسز پر پلنے والے ان محترم سینیٹرز کو آخر اس مخصوص بلیو پاسپورٹ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا قومی ایوانوں میں بیٹھنے والوں کو اسی "گرین پاسپورٹ” پر سفر کرتے ہوئے شرمندگی محسوس ہوتی ہے جس پر دستخط کر کے وہ اس ملک کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں؟عالمی درجہ بندی میں پاکستان کا عام سبز پاسپورٹ دنیا کے کمزور ترین پاسپورٹس کی فہرست میں آخری چند نمبروں پر آتا ہے۔ سفارت خانوں کی لمبی قطاریں، ویزا کے حصول کے لیے ذلت آمیز مراحل اور بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر اضافی تلاشی – یہ ہے وہ تلخ حقیقت جس کا سامنا روزانہ ایک عام پاکستانی طالبعلم، تاجر، اور محنت کش مزدور کرتا ہے۔اگر ملک کے قانون ساز اور حکمران طبقات واقعی باصلاحیت ہوتے، تو وہ اصلاحات لاتے، معاشی اور سفارتی طاقت کو مضبوط کرتے اور گرین پاسپورٹ کی قدر میں اضافہ کرتے۔ لیکن ہماری اشرافیہ نے اس کا آسان اور خود غرضانہ حل تلاش کر لیا، قانون بدلو اور اپنے لیے "بلیو پاسپورٹ” کا محفوظ راستہ (VIP Status) پکا کر لو ، سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق سے لے کر معاشی ماہرین اور دانشوروں نے اس قانون سازی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے معاشرتی ناانصافی قرار دیا ہے۔ جب پارلیمنٹیرینز اور ان کی آئندہ نسلیں اپنے ہی ملک کے پیدا کردہ نظام کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہی نہیں، اور اپنے لیے استثنیٰ اور خصوصی مراعات حاصل کر رہی ہیں، تو وہ عوام کے دکھ کا مداوا کیسے کریں گے؟سینیٹ آف پاکستان کے اراکین کی اکثریت پہلے ہی ملک کے امیر ترین افراد، بڑے زمینداروں، سرمایہ داروں اور صنعت کاروں پر مشتمل ہے۔ ایک عام سینیٹر کو ہر ماہ لاکھوں روپے تنخواہ، بزنس کلاس ایئر ٹکٹس، طبی سہولیات، اور وزرائ کے مساوی الاو¿نسز ملتے ہیں۔ اس کے باوجود، جب ملک سخت معاشی بحران، آئی ایم ایف کے قرضوں اور مہنگائی کی دلدل میں پھنسا ہوا ہو، ایوان میں عوامی فلاح کے بجائے اپنے اور اپنے بچوں کے لائف ٹائم پاسپورٹ اور مراعات کا قانون منظور کروایا جاتا ہے، وزارتِ داخلہ خود یہ اعتراف کر چکی ہے کہ ملک میں بلیو پاسپورٹس کا بے تحاشا سستے داموں استعمال اور سوئ ِ استعمال ہوا ہے۔ اس کے باوجود اراکینِ پارلیمنٹ کا اس بات پر اصرار کہ انہیں اور ان کے 28 سال تک کے بچوں کو آفیشل پاسپورٹ کا حق دیا جائے، ان کی غیر ذمہ دارانہ سوچ کا عکس ہے۔جب ہم پاکستانی حکمرانوں کے اس شاندار شاہانہ رویے کا موازنہ دنیا کی ترقی یافتہ اور باوقار اقوام سے کرتے ہیں تو شرمندگی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔جدید سنگاپور، جس کا شمار دنیا کے امیر ترین اور مستحکم ترین ممالک میں ہوتا ہے، کے وزیر اعظم اور وزرائ کا طرزِ زندگی دیکھیے۔ سنگاپور کے وزرائ اور اعلیٰ حکام کمرشل فلائٹس کی عام نشستوں پر سفر کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کے لیے کوئی خصوصی پروٹوکول، وی آئی پی روٹس یا غیر ضروری مراعات کا نظام موجود نہیں ہوتا۔ وہاں کا حکمران طبقہ عام شہریوں کے ساتھ سفر کرتا ہے اور اسی نظام کا حصہ بن کر رہتا ہے جسے وہ خود چلاتا ہے، سنگاپور ہی نہیں، سویڈن اور ہالینڈ کے وزرائ اعظم سائیکلوں پر اپنے دفاتر جاتے ہیں اور عام عوامی ٹرانسپورٹ استعمال کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک عہدہ ایک "خدمت” اور "امانت” ہے، جبکہ ہمارے ہاں اقتدار اعلیٰ طبقے کے لیے مراعات بٹورنے کا آسان ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔سوشل میڈیا اور سیاسی و علمی حلقوں میں اس ترمیم کو "وی آئی پی کلچر کی بدترین شکل” قرار دیا جا رہا ہے۔ جیسا کہ ممتاز سماجی و معاشی مبصرین نے نشاندہی کی ہے، جب تک سیاست دانوں، بیوروکریسی، اور بااثر شخصیات کو حاصل یہ غیر معمولی مراعات ختم نہیں کی جاتیں، تب تک ملک میں طبقاتی تفاوت اور عوام میں غم و غصہ دیمک کی طرح معاشرے کو چاٹتا رہے گا۔اگر سینیٹرز اپنے ملک کا پاسپورٹ مضبوط نہیں کر سکتے، اگر وہ ایئرپورٹس پر عام شہریوں جیسی تلاشی کا سامنا نہیں کر سکتے، تو انہیں ملک کے مستقبل کے فیصلوں کا حق بھی نہیں ہونا چاہیے۔ جس لیڈر کی اپنی یا اس کے بچوں کی دلچسپیاں اور مستقبل اس ملک کے نظام کے ساتھ منسلک نہیں ہیں، وہ عام پاکستانی کے درد کو کیسے سمجھ سکتا ہے؟ پاکستان کی پارلیمنٹ اور سینیٹ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ قوانین عوام کی آسانیاں پیدا کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں، ناکہ قانون سازوں کی اپنی ذات اور ان کے خاندانوں کی شاہ خرچیوں کو تحفظ دینے کے لیے۔اگر سینیٹ اور قومی اسمبلی کو عوام کا اعتماد بحال کرنا ہے تو بلیو اور سفارتی پاسپورٹس کا حق صرف اور صرف برسرِِ خدمت عہدیداروں تک محدود کیا جائے اور لائف ٹائم مراعات کا مکمل خاتمہ ہو۔عوامی نمائندوں کے لیے وہی پاسپورٹ اور وہی قوانین لازمی ہوں جو ملک کے ایک عام شہری کے لیے ہیں۔جب تک ہمارے حکمران سنگاپور اور دیگر مہذب دنیا کے سیاسی رہنماو¿ں کی طرح عوامی سطح پر آکر نظام کا حصہ نہیں بنتے، تب تک گرین پاسپورٹ کی عزت بحال ہوگی اور نہ ہی ملک معاشی و اخلاقی بحران سے باہر نکل سکے گا۔






