#کالم

عوامی فلاح کے منصوبے اور ترقی کا سفر

Untitled 1 copy

زاہد اقبال ملک
عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی منصوبہ بندی اور ترجیحات کا تعین عوامی نمائندوں کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔اس کے بعد مقامی،صوبائی یا وفاقی حکومتیں ان منصوبوں کے لیے فنڈز مختص کرتی ہیں اور متعلقہ اداروں کے ذریعے ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ایسے منصوبوں کا بنیادی مقصد عوام کو بہتر سفری سہولیات،جدید انفراسٹرکچر اور زندگی کی بنیادی آسانیاں فراہم کرنا ہوتا ہے جو کسی بھی معاشرے کی ترقی کا اہم پیمانہ ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں متعدد مواقع پر نااہلی،ناقص منصوبہ بندی،مالی بے ضابطگیوں یا انتظامی کمزوریوں کے باعث عوامی ترقیاتی منصوبے اپنی افادیت کھو بیٹھتے ہیں۔بعض منصوبے محض اعلانات اور فائلوں تک محدود رہ جاتے ہیں، جبکہ بعض اپنی تکمیل کے باوجود مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہتے ہیں۔
ملک کی سیاسی تاریخ میں ایسے کئی منصوبے زیرِ بحث رہے ہیں جن پر اربوں روپے خرچ ہوئے،مگر ان کی شفافیت، افادیت یا تکمیل کے حوالے سے سوالات بھی اٹھائے گئے۔گزشتہ دنوں میڈیا پر اس خبر نے تہلکہ برپا کردیا کہ سندھ حکومت نے ضلع خیر پور میں مبینہ چڑیا گھر کے قیام کے لیے 80 ارب روپے کے فنڈز جاری کئے جبکہ موقع پر چڑیا گھر کا نام و نشان نہیں ملا یوں یہ منصوبہ بھی کاغذی ثابت ہوا اور قوم کا پیسہ کرپشن کی نظر ہو گیا اسی طرح صوبہ خیبرپختونخواہ کے بعض ترقیاتی منصوبوں پر بھی مختلف ادوار میں تنقید ہوتی رہی ہے۔”بلین ٹری” منصوبہ بھی انہی منصوبوں میں شامل ہے جس پر بے شمار سوالات اٹھائے گئے۔یہاں تک خبریں گردش کرتی رہیں کہ بلین ٹری منصوبے کے تحت شجرکاری تو درکنار صوبے کے قدرتی جنگلات میں لگنے والی آگ بھی مبینہ طور پر حکومتی غفلت و پالیسی سے جوڑی جاتی رہی۔ ان الزامات اور دعوؤں کی حقیقت اپنی جگہ مگر یہ تاثر ضرور عام ہوا کہ کئی منصوبے صرف کاغذوں اور سرکاری فائلوں تک محدود رہے۔ایسے بے شمار منصوبے ہیں جن پر اربوں روپے خرچ ہونے کے دعوے تو کیے گئے لیکن زمینی حقائق میں ان کا وجود تلاش کرنا بھی مشکل دکھائی دیتا ہے۔ان منصوبوں کے بارے میں مختلف ادوار میں سیاسی بیانات اور میڈیا میں سوالات بھی اٹھتے رہے۔
دوسری جانب پنجاب کو گزشتہ چند برسوں میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے نمایاں حیثیت حاصل ہوئی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر، سڑکوں اور شہری ٹرانسپورٹ کے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے جن کا مقصد عوام کو جدید سہولیات فراہم کرنا اور شہروں کی مجموعی ترقی کو تیز کرنا ہے۔ انہی منصوبوں میں گوجرانوالہ جیسے صنعتی و تجارتی لحاظ سے اہم شہر کے لیے 22 کلومیٹر طویل ماس ٹرانزٹ منصوبہ بھی شامل ہے جس کا مقصد شہر کو جدید سفری نظام سے آراستہ کرنا ٹریفک کے دیرینہ مسائل میں کمی لانا اور شہری نقل و حمل کو محفوظ، تیز اور مؤثر بنانا ہے۔ اگر یہ منصوبہ اپنی مقررہ معیار شفافیت اور بروقت تکمیل کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچتا ہے تو اس سے نہ صرف شہریوں کی روزمرہ زندگی میں آسانی آئے گی بلکہ گوجرانوالہ کی صنعتی،تجارتی اور معاشی سرگرمیوں کو بھی نئی جہت و رفتار ملے گی۔
اگرچہ اس منصوبے میں بعض تکنیکی وجوہات کی بنا پر تاخیر ہوئی تاہم حکومتی مؤقف یہ ہے کہ اس کا مقصد منصوبے کو زیادہ محفوظ، پائیدار اور مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ اسی تناظر میں منصوبے میں تقریباً ڈھائی کلومیٹر طویل ٹنل،متعدد انڈر پاسز،اوور ہیڈ کراسنگز اور جدید انجینئرنگ سہولیات شامل کی گئی ہیں تاکہ آنے والے برسوں میں بڑھتی ہوئی آبادی اور ٹریفک کے دباؤ کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
جمہوری نظام میں حزبِ اختلاف کا بنیادی کردار حکومت کی کارکردگی پر نظر رکھنا اور تعمیری تنقید کرنا ہے۔ یہی جمہوریت کا حسن بھی ہے۔ تاہم جب تنقید حقائق، اعدادوشمار اور مثبت تجاویز کے بجائے محض سیاسی مخالفت تک محدود ہو جائے تو اس سے عوام میں غیر ضروری بے یقینی اور بداعتمادی جنم لیتی ہے۔ گوجرانوالہ ماس ٹرانزٹ منصوبے کے حوالے سے بھی مختلف سیاسی حلقوں، یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے موافق اور مخالف آراء سامنے آئیں، جس کے باعث شہریوں میں مختلف سوالات اور خدشات پیدا ہوئے۔
حالانکہ شہر کے قلب میں واقع ایک نہایت گنجان شاہراہ پر اس قدر بڑے منصوبے کی تکمیل کے دوران پیش آنے والی مشکلات سے ہر صاحبِ شعور آگاہ ہے اور اس حقیقت کا ادراک بھی عام ہے کہ یہ تاریخی منصوبہ شہر کی ایک دیرینہ ضرورت ہے لہٰذا بے بنیاد تنقید، غیر ضروری تبصروں اور قیاس آرائیوں سے اجتناب ہی دانش مندی کا تقاضا ہے، کیونکہ تعمیری سوچ ہی ترقی کے سفر کو آگے بڑھاتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ عوامی منصوبوں پر ہونے والی تنقید سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر حقائق، شواہد اور قومی مفاد کی بنیاد پر کی جائے۔ اسی طرح حکومت پر بھی لازم ہے کہ وہ ہر منصوبے میں مکمل شفافیت، مالی نظم و ضبط، معیاری تعمیر اور بروقت تکمیل کو یقینی بنائے تاکہ عوام کا اعتماد برقرار رہے اور قومی وسائل کا بہترین استعمال ممکن ہو اور اس کے ثمرات سے بلا امتیاز گوجرانوالہ کے تمام شہری مستفید ہو سکتے ہیں۔یہی وہ راستہ ہے جو حقیقی معنوں میں عوامی فلاح،پائیدار ترقی اور خوشحال پاکستان کی جانب لے جا سکتا ہے۔
گوجرانوالہ ماس ٹرانزٹ منصوبہ بلاشبہ مسلم لیگ (ن) اور وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں شہر کے لیے ایک نمایاں ترقیاتی تحفہ ہے ۔جوحکومت کی عوام دوست پالیسیوں کا مظہر ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے