#اداریہ

خیبرپختونخوا میں اراکین اسمبلی کے لیے نئی مراعات کا متنازع قانون

Fahad 01

أج کا اداریہ

خیبر پختونخوا کے ارکان اسمپلی کیلیےصوبائی اسمبلی پاورز، امیونیٹیز اینڈ پرویلج 2026‘ نامی قانون منظور ہوا ہے جس میں ارکان اسمبلی کے لیے اختیارات، مراعات اور استحقاق میں اضافہ کیا گیا ہے جسے حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی حمایت حاصل ہے۔مگر اس قانون پر ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر کافی تنقید کی جا رہی ہے۔ کئی لوگوں نے اعتراض اٹھایا کہ سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف وی آئی پی کلچر کے مخالف رہے ہیں مگر اب بھی ارکان اسمبلی کے لیے وہی اختیارات، مراعات اور استحقاق مانگے جا رہے ہیں۔حکومتی ارکان کے علاوہ اس قانون سازی میں خیبرپختونخوا میں اپوزیشن کی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ ن اور عوامی نیشنل پارٹی شامل ہیں۔ادھر تحریک انصاف کے سیکریٹری اطلاعات اور سابق وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے بتایا ہےکہ بلیو پاسپورٹ کے بارے میں سفارشات وفاقی حکومت کو بھیجی گئی ہیں اور یہ ’پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔ اس سے پہلے بھی ایسی سفارشات وفاقی حکومت کو بھیجی جا چکی ہیں اور یہ پاسپورٹ وفاقی حکومت کی منظوری سے جاری ہو سکیں گے۔شوکت یوسفزئی نے بتایا کہ ’اس وقت خیبر پختونخوا اسمبلی کے اراکین کی تنخواہیں اور مراعات دیگر صوبوں سے اب بھی کم ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین اور دیگر ملازمین کی تنخواہوں میں ہر سال اضافہ ہوتا ہے۔ ’اگر ایم پی ایز کی تنخواہوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس پر تنقید کیوں کی جا رہی ہے؟ان سے جب کہا گیا کہ پی ٹی آئی تو اس طرح کے وی آئی پی کلچر کی مخالفت کرتی آئی ہے، اب کیا ہوا ہے؟ تو انھوں نے کہا کہ ’بنیادی طور پر یہ قانون 1988 سے ہے اور اس میں وقت کے ساتھ تھوڑی بہت ترامیم کی جاتی ہیں۔ اس میں ایسا کچھ نہیں ہے کہ پی ٹی آئی نے اپنی پالیسی میں کوئی تبدیلی کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ترامیم دیگر صوبوں سے کچھ نکات لے کر کی گئی ہیں تاکہ تمام صوبوں کے قوانین میں یکسانیت لائی جائے۔قانون کے تحت ارکان اسمبلی، سپیکر، ڈپٹی سپیکر اور اسمبلی کی کمیٹیوں کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ متعدد نئی مراعات بھی شامل کی گئی ہیں۔قانون کا ایک اہم حصہ ارکان اسمبلی کو دی جانے والی نئی سہولیات اور مراعات سے متعلق ہے۔ اس کے تحت ارکان اسمبلی اور ان کے شریک حیات کو بلیو (آفیشل) پاسپورٹ جاری کیا جا سکے گا جبکہ شریک حیات کے لیے اس سہولت کو تاحیات رکھنے کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ تاہم اس کا نفاذ وفاقی قوانین اور منظوری سے مشروط ہوگا۔
ارکان اسمبلی کو ٹول ٹیکس کی ادائیگی سے استثنی دیا گیا ہے اور انھیں سرکاری یا مخصوص رہائش گاہ میں مفت رہائش فراہم کرنے کی قانونی گنجائش بھی شامل کی گئی ہے۔قانون کے مطابق ارکان اسمبلی چار اسلحہ لائسنس حاصل کر سکیں گے، جن میں دو مفت جبکہ دو مقررہ فیس کے ساتھ جاری کیے جا سکیں گے۔ سکیورٹی خدشات کی صورت میں انھیں کیٹیگری بی سکیورٹی اور ضرورت پڑنے پر سکیورٹی عملہ فراہم کیا جا سکے گا۔ارکان کو ملک بھر میں، بشمول گلگت بلتستان اور کشمیر، اپنے ساتھ سکیورٹی عملہ لے جانے کی اجازت ہوگی۔ اس کے علاوہ گاڑیوں کے شیشے کالے کرنے، کلبز کی رکنیت حاصل کرنے، خصوصی سرکاری شناختی کارڈ رکھنے اور اپنی ذاتی گاڑی پر اسمبلی کا مونوگرام یا مخصوص نمبر پلیٹ استعمال کرنے کی سہولت بھی دی گئی ہے۔
ایک اور اہم شق کے تحت ارکان اسمبلی کو ’جسٹس آف پیس‘ کے اختیارات استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ عوامی شکایات سن سکیں گے اور متعلقہ سرکاری اداروں، خصوصاً پولیس اور ضلعی انتظامیہ، کو کارروائی کے لیے سفارش یا ہدایات دے سکیں گے۔ تاہم یہ عدالتی اختیار نہیں ہوگا اور وہ مقدمات کا فیصلہ نہیں کر سکیں گے۔سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے لیے بھی وسیع مراعات رکھی گئی ہیں۔ ان کی تنخواہ، الاؤنسز اور دیگر مراعات کا تعین اسمبلی کی فنانس کمیٹی کرے گی۔ انھیں سرکاری رہائش یا اس کے متبادل اخراجات، ہاؤس الاؤنس، میڈیکل، ٹیلی فون، انٹرنیٹ، سفری، بیرون ملک سفر اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ سپیکر کو دو سرکاری فلیگ گاڑیاں اور ایک بکتر بند گاڑی جبکہ ڈپٹی سپیکر کو دو سرکاری گاڑیاں مل سکیں گی۔ سرکاری رہائش کی دیکھ بھال، بجلی اور گیس کے اخراجات بھی حکومت برداشت کرے گی۔
اراکین صوبائی اسمبلی کی تنخواہوں اور الاؤنسز کی رقم بھی فنانس کمیٹی مقرر کرے گی اور قانون میں کوئی مخصوص رقم درج نہیں کی گئی۔ تاہم ہاؤس رینٹ، یوٹیلٹی، کنوینس، ٹیلی فون، میڈیکل، سیشن، سفری اور آفس مینٹیننس سمیت مختلف الاؤنسز کی قانونی گنجائش شامل کی گئی ہے۔ قانون میں یہ بھی درج ہے کہ قائد حزب اختلاف کو صوبائی وزیر سے کم مراعات نہیں دی جا سکیں گی۔قانون کا سب سے زیادہ زیرِ بحث حصہ اسمبلی اور سپیکر کے اختیارات سے متعلق ہے۔ نئے قانون کے تحت سپیکر کو اسمبلی کی کارروائی، احاطے اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے وسیع اختیارات حاصل ہوں گے۔ اسمبلی استحقاق کی خلاف ورزی پر قید اور جرمانے کی سزا بھی دے سکے گی جبکہ ایسے مقدمات سننے کے لیے اسمبلی کی جوڈیشل کمیٹی کو قانونی اختیار دیا گیا ہے۔صحافیوں اور میڈیا کے حوالے سے بھی قانون میں متعدد شقیں شامل کی گئی ہیں۔ سپیکر کسی صحافی، اخبار یا میڈیا ادارے کی اسمبلی کی کارروائی تک رسائی محدود یا ختم کر سکتا ہے۔ اسمبلی یا اس کی کمیٹیوں کی کارروائی سپیکر کی اجازت کے بغیر شائع یا رپورٹ کرنے پر کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اگر کسی صحافی کی اسمبلی کوریج کی اجازت واپس لے لی جائے تو اس کے بعد اسمبلی کی کارروائی کی رپورٹنگ جرم تصور ہو سکتی ہے۔ اسی طرح اسمبلی کی کارروائی کی توہین، غلط رپورٹنگ، استحقاق مجروح کرنے والی اشاعت یا کمیٹی رپورٹ کو قبل از وقت شائع کرنے پر قید اور جرمانے کی سزائیں بھی رکھی گئی ہیں۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے