#کالم

عید اور بھائ

Untitled 7

آپا منزہ جاوید اسلام آباد

جیسا کہ عید کے دن نزدیک آ رہے ہیں ایسے موقع پر بھائیوں کو چاہیے کہ وہ بہنوں کے گھر ضرور جائیں چاہے ان کے پاس قیمتی تحفے یا زیادہ عیدی نہ ہو اصل بات یہ ہے کہ بہنوں کے ساتھ ملاقات اور وقت گزارنا زیادہ قیمتی ہے بہنیں بھائی کے آنے کی امید لیے اپنے گھر کے دروازے دیکھتی ہیں اور دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے جب بھائی عید پر بہنوں کے گھر آتے ہیں تو بہنوں کی آنکھیں چمک جاتی ہیں دل سرشار ہو جاتا ہے اور وہ خود کو دنیا کی سب سے خوش قسمت سمجھتی ہیں بھائیوں کو چاہیے کہ وہ بہنوں کو عید کے دن اپنے گھر بلائیں انہیں یہ پیغام دیں کہ محبت اور رشتہ صرف تحفے یا عیدی میں نہیں بلکہ وقت اور دل سے بھی جڑی ہوتی ہے یہی چھوٹی چھوٹی ملاقاتیں اور خلوص بہنوں کے دلوں میں خوشیوں کے رنگ بھر دیتے ہیں اور خاندان کے رشتوں کو مضبوط کرتے ہیں انسانی رشتوں میں کچھ تعلقات ایسے ہوتے ہیں جو صرف خون کے نہیں بلکہ یادوں قربانیوں اور محبت کے دھاگوں سے بندھے ہوتے ہیں انہی رشتوں میں ایک خاص رشتہ بہن اور بھائی کا بھی ہے یہ تعلق بچپن کی شرارتوں جوانی کی یادوں اور عمر بھر کی دعاؤں سے جڑا ہوتا ہے بہن جب ماں باپ کے گھر میں ہوتی ہے تو وہ گھر کی رونق ہوتی ہے اس کی ہنسی باتیں اور موجودگی گھر کو زندگی دیتی ہیں شادی کے بعد جب وہ اپنے نئے گھر جاتی ہے تو اس کے قدم تو دوسرے گھر میں پڑ جاتے ہیں مگر اس کا دل ہمیشہ اپنے میکے کے آنگن سے جڑا رہتا ہے باپ کے بعد میکے کا اصل مان اور سہارا بھائی ہی ہوتے ہیں باپ کے گزر جانے کے بعد بہنوں کے دل میں خلا پیدا ہو جاتا ہے ایسے وقت میں اگر بھائی محبت شفقت اور احترام سے اپنی بہنوں کی دلجوئی کریں تو یہ عمل بھائیوں کے وقار اور مان کو اور بڑھا دیتا ہے بہنیں اپنے اپنے شادی شدہ گھروں میں چاہے کتنی ہی خوشحال کیوں نہ ہوں چاہے ان کے پاس ہر آسائش موجود ہو لیکن باپ یا بھائی کی طرف سے دیا گیا ایک چھوٹا سا تحفہ بھی ان کے لیے دنیا کے ہر تحفے سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے اس تحفے کی قیمت اس کی مالیت میں نہیں بلکہ اس محبت اور یاد میں ہوتی ہے جو اس کے ساتھ جڑی ہوتی ہے بھائیوں کو چاہیے کہ وہ اپنی والد کی محبت اور تربیت کو مضبوطی دیتے ہوئے اپنی بہنوں کا مان رکھیں یہ کام صرف والد کے انتقال کے بعد ہی نہیں بلکہ والد کی زندگی میں بھی ہونا چاہیے جب بھائی اپنی بہنوں کے ساتھ عزت محبت اور توجہ کا برتاؤ کرتے ہیں تو ماں باپ کے دل کو سکون اور آنکھوں کو ٹھنڈک ملتی ہے والدین کے لیے اس سے بڑھ کر خوشی اور اطمینان کی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ ان کی اولاد آپس میں محبت اور احترام کے ساتھ جڑی رہے بہن کو اپنی محبت اور شفقت سے یقین دلائیں کہ اس کے بھائی کے گھر کے دروازے اس کے لیے ہر وقت کھلے ہیں اور بھائی اس کی آمد پر خوش ہوتا ہے بھائیوں کو چاہیے کہ وہ بہنوں کو کسی نہ کسی بہانے اپنے گھر بلاتے رہیں کبھی خوشی کے موقع پر کبھی کسی عام دن میں صرف ملاقات کے لیے یہ چھوٹی چھوٹی باتیں بہن کے دل کو سکون دیتی ہیں اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کا اپنا گھر اب بھی وہی ہے جہاں اس نے بچپن گزارا تھا اسلام بھی رشتوں کو جوڑنے اور ان کی حفاظت کرنے کی تعلیم دیتا ہے صلہ رحمی یعنی رشتہ داروں کے ساتھ اچھا تعلق رکھنا بہت بڑی نیکی ہے قرآن مجید اور احادیث میں بار بار رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے کی تاکید کی گئی ہے جو شخص اپنے رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی زندگی میں برکت عطا فرماتا ہے بہنیں اکثر اپنے دل کی باتیں کسی سے نہیں کہتیں وہ بہت سی تکلیفیں خاموشی سے برداشت کر لیتی ہیں اس لیے بھائیوں کو چاہیے کہ وہ وقتاً فوقتاً اپنی بہن کی خبر لیتے رہیں اگر وہ کسی مشکل میں ہو تو اس کا سہارا بنیں کبھی صرف ایک فون کال ایک پیغام یا ایک ملاقات بھی بہن کے دل کو خوشی سے بھر دیتی ہے اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کا بھائی اب بھی اس کا محافظ ہے اس کا اپنا ہے ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا کی مصروفیات اور فاصلے کبھی بھی دلوں کے فاصلے نہیں بننے چاہئیں اگرے رشتوں کو وقت نہ دیا جائے تو وہ آہستہ آہستہ کمزور ہونے لگتے ہیں لیکن اگر محبت اور توجہ دی جائے تو یہی رشتے انسان کی زندگی کا سب سے بڑا سہارا بن جاتے ہیں بہن جب بھائی کے گھر آتی ہے تو وہ صرف ایک مہمان نہیں ہوتی بلکہ وہ اس گھر کی خوشبو لے کر آتی ہے اس کی آمد سے گھر میں ایک الگ سی رونق پیدا ہو جاتی ہے بھائی کا فرض ہے کہ وہ اپنی بہن کی عزت محبت اور دلجوئی کا خیال رکھے اس کے لیے دعا کرے اس کے بچوں کو اپنے بچوں کی طرح سمجھے اور ہر ممکن کوشش کرے کہ بہن کو کبھی تنہا محسوس نہ ہو اگر معاشرے میں بھائی اور بہن کے اس خوبصورت رشتے کو سچائی اور محبت کے ساتھ نبھایا جائے تو بہت سی عورتوں کی زندگی آسان ہو سکتی ہے کیونکہ ایک بہن کے لیے اس کا بھائی صرف رشتہ نہیں بلکہ ایک مضبوط سہارا بھی ہوتا ہے آخر میں یہی کہنا مناسب ہوگا کہ رشتوں کی خوبصورتی ان کی حفاظت میں ہے محبت احترام اور توجہ سے ہی یہ رشتے زندہ رہتے ہیں بھائیوں کو چاہیے کہ وہ اپنی بہنوں کو ہمیشہ یہ احساس دلائیں تم جہاں بھی رہو ہمارے دل اور ہمارے گھر کے دروازے ہمیشہ تمہارے لیے کھلے ہیں یقین مانیے یہ چند لفظ بہن کے دل کے سب سے قیمتی خزانے بن

عید اور بھائ

جنگی جنون

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے