طلاق، ماں باپ کی انا اور سسکتے معصوم بچے۔۔۔۔!!!
عالیہ خان
آج سوشل میڈیا پر ایک دردناک ویڈیو نظر سے گزری جس نے دل کو دہلا کر رکھ دیا اور روح کو تڑپا کر رکھ دیا۔ ایک منظر جس نے انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ دیا، جہاں عدالت کا احاطہ تھا، قانون کا فیصلہ آ چکا تھا اور اس فیصلے کے نفاذ کے لیے ایک ماں اور اس کے رشتہ دار معصوم بچوں کو زبردستی گھسیٹ رہے تھے۔ وہ بچے، جن کی دنیا ان کا باپ تھا، چیخ چیخ کر اور رو رو کر دہائیاں دے رہے تھے کہ انہیں اپنے پاپا کے پاس رہنا ہے، وہ اپنی ماں کے ساتھ نہیں جانا چاہتے۔ لیکن قانون کے آہنی ہاتھوں اور انا کے اندھے طوفان کے سامنے ان معصوم چیخوں کی کوئی اوقات نہیں تھی۔ انہیں بے دردی سے کھینچا جا رہا تھا، جیسے وہ کوئی انسان نہیں بلکہ کسی مالِ غنیمت کا حصہ ہوں۔ اس پورے منظر میں سب سے زیادہ دل دہلا دینے والی چیز اس باپ کی بے بسی تھی، جو اپنے جگر کے ٹکڑوں کو خود سے دور جاتا دیکھ کر پاگلوں کی طرح ان کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔ وہ کبھی ایک رشتہ دار کے آگے ہاتھ جوڑتا، کبھی قانون کے رکھوالوں کی طرف دیکھتا، لیکن اس کی فریاد سننے والا کوئی نہیں تھا۔ اس لاچار باپ کی آنکھوں کے آنسو اور بچوں کو بچانے کی تڑپ نے اس منظر کو اس قدر جذباتی اور دردناک بنا دیا کہ دیکھنے والی ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔ قانون جیت گیا، لیکن انسانیت، محبت اور بچوں کی معصوم نفسیات بری طرح ہار گئی۔یہ دل دوز واقعہ صرف ایک خاندان کا المیہ نہیں ہے، یہ ہمارے معاشرے کے اس بھیانک اور اندر سے کھوکھلے ہوتے ہوئے چہرے کا آئینہ ہے جہاں رشتوں کا تقدس دم توڑ رہا ہے۔ یہ کہانی ہے اس بڑھتی ہوئی طلاق کی شرح کی، جس کا ایندھن ہمارے معصوم بچے بن رہے ہیں۔ جب دو بالغ انسان اپنی انا، ضدی پن یا ناموافق حالات کی وجہ سے الگ ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں، تو وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے اس فیصلے کی سب سے بھاری قیمت وہ معصوم جانیں چکاتی ہیں جنہوں نے ابھی زندگی کا پہلا قدم ہی رکھا ہوتا ہے۔ سب سے بڑا المیہ علیحدگی کے بعد شروع ہوتا ہے، جب میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے جانی دشمن بن جاتے ہیں اور عدالتیں اکھاڑا بن جاتی ہیں، جہاں بچوں کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ باپ ماں کو نیچا دکھانے کے لیے بچوں کا سہارا لیتا ہے اور ماں باپ سے بدلہ لینے کے لیے بچوں کو اس کی محبت سے محروم کر دیتی ہے۔ اس کھینچا تانی میں کوئی نہیں سوچتا کہ اس معصوم دل و دماغ پر کیا قیامت گزر رہی ہے۔آج ہمارا معاشرہ جس نہج پر پہنچ چکا ہے، وہاں والدین کی ضد اور انا کی بھینٹ چڑھنے والے بچوں کے قصے روح کو کانپا دیتے ہیں۔ کئی ایسے لرزہ خیز واقعات بھی ہماری نظروں سے گزرتے ہیں جہاں نفرت اور انتقام کی آگ اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ ممتا کا دامن تار تار ہو جاتا ہے اور ایک ماں اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے معصوم بچوں کو موت کی نیند سلا دیتی ہے تاکہ وہ باپ کو تاحیات تڑپا سکے۔ دوسری طرف، ایسے سنگین اور ہولناک اقدامات باپ کی طرف سے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں، جو اپنی شکست یا انا کی تسکین کے لیے معصوم جانوں کا خون بہانے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ یہ سوچ کر ہی دل لرز اٹھتا ہے کہ جن ہاتھوں کو بچوں کا محافظ ہونا چاہیے تھا، وہی ہاتھ جب قاتل بن جائیں تو معاشرے کی اخلاقی موت میں کیا کسر باقی رہ جاتی ہے؟ بچوں کو اپنی ہی زندگی دینے والوں سے خطرہ ہو، اس سے بڑی سماجی پستی اور کیا ہوگی؟نفسیاتی طور پر بچہ ایک کورے کاغذ کی مانند ہوتا ہے، وہ جو دیکھتا ہے، وہی اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔ جب ایک بچہ اپنے والدین کو اس طرح لڑتے، عدالتوں میں گھسٹتے اور خود کو ایک کھلونا بنتے دیکھتا ہے، تو اس کا رشتوں پر سے اعتبار ہمیشہ کے لیے اٹھ جاتا ہے۔ جس بچے کو زبردستی گھسیٹ کر اس کے باپ سے الگ کیا گیا اور جس باپ کو سڑکوں پر بے بسی سے دوڑایا گیا، کیا کوئی اندازہ لگا سکتا ہے کہ ان معصوموں کی راتیں کس ذہنی اذیت میں گزریں گی؟ ان کے ذہن پر یہ خوف نقش ہو چکا ہے کہ ان کی دنیا محفوظ نہیں ہے۔ ایسے بچے شدید قسم کے نفسیاتی امراض، عدم تحفظ، خوف اور ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں اور بڑے ہو کر معاشرے کے باغی یا نفسیاتی مریض بن کر سامنے آتے ہیں۔عدالتیں قوانین کے مطابق فیصلے کرتی ہیں، لیکن قانون کے پاس دل نہیں ہوتا جو بچوں کے آنسو دیکھ سکے یا اس باپ کے دل کی دھڑکن سن سکے جس کی گود سے اس کے جگر کے ٹکڑوں کو چھین لیا گیا۔ عدالتی فیصلے اپنی جگہ محترم، لیکن جہاں بچوں کی خوشی اور ان کی مرضی شامل نہ ہو، وہاں ایسے فیصلے بچوں کے مستقبل کو تاریک کر دیتے ہیں۔ اگر بچے اپنے باپ کے ساتھ خوش تھے، تو انہیں زبردستی ایک ایسے ماحول میں دھکیل دینا جہاں وہ جانا ہی نہیں چاہتے، انصاف نہیں بلکہ سراسر ناانصافی ہے۔ طلاق شاید بعض اوقات ناگزیر ہو جاتی ہے، لیکن بچوں سے ان کا بچپن چھیننا ناگزیر نہیں ہے۔ اگر والدین کو الگ ہونا ہی ہے، تو خدارا انسان بن کر الگ ہوں اور بچوں کو اپنی جنگ کا حصہ نہ بنائیں۔ ماو¿ں کو چاہیے کہ وہ باپ سے بدلہ لینے کے لیے بچوں کا استعمال نہ کریں کیونکہ زبردستی کھینچنے سے جسم تو مل جائے گا، لیکن بچے کا دل ہمیشہ کے لیے متنفر ہو جائے گا۔ اسی طرح باپ کو بھی بچوں کی عزتِ نفس کا خیال رکھنا چاہیے۔یہ وائرل ویڈیو ہمارے پورے معاشرتی ڈھانچے پر ایک زوردار طمانچہ ہے، جس کے بعد ہمیں اپنے فیملی قوانین پر نظرِ ثانی کرنے اور فیصلوں کے نفاذ کے لیے ایسے بے دردی کے طریقوں کو فوری بند کرنے کی ضرورت ہے۔ چائلڈ پروٹیکشن بیورو اور نفسیاتی ماہرین کو ایسے کیسز میں شامل کیا جانا چاہیے تاکہ بچوں کی مرضی اور ان کی ذہنی حالت کو دیکھ کر فیصلے کیے جائیں، نہ کہ صرف لکیر کی فقیری کی جائے۔ اگر آج ہم نے اس لاچار باپ کی بے بسی اور ان سہمے ہوئے بچوں کی چیخوں کو نظرانداز کر دیا، تو یاد رکھیں کہ کل ایسے ہی نفرت سے بھرے ہوئے بچے اس معاشرے کی باگ ڈور سنبھالیں گے۔ جس معاشرے کی بنیاد معصوموں کے آنسوو¿ں پر رکھی جائے، وہ کبھی فلاح نہیں پا سکتا۔ خدارا! اپنی اناو¿ں کو دفن کیجئے، اور ان معصوم پرندوں کے پر مت کاٹئے جنہیں ابھی کھلے آسمان میں اڑنا ہے۔






