#کالم

(پہلی قسط)مہنگائی کے ستائے ہوئے خصوصی افراد

yousaf bashir khan

یوسف بشیر خان

پاکستان میں اس وقت عوام کو سب سے زیادہ جن مسائل کا سامنا ہے، ان میں مہنگائی سرفہرست ہے۔ تنخواہ دار اور متوسط طبقہ بھی روزمرہ زندگی کی ضروریات پوری کرنے میں شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی روزانہ کی بنیاد پر مقرر ہونے والی قیمتوں کے باعث تقریباً ہر چیز کی قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے، کیونکہ ملک میں نقل و حمل کا زیادہ تر انحصار پٹرولیم مصنوعات پر ہے۔ جب بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے، اس کے اثرات فوری طور پر اشیائے ضروریہ سمیت تمام شعبوں پر پڑتے ہیں۔ تاہم اس وقت مہنگائی نے جس طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے، وہ خصوصی افراد ہیں۔ خصوصی افراد کو کسی بھی شعبے میں عمومی طور پر ایسی خصوصی رعایت حاصل نہیں جو ان کی محدود آمدن اور اضافی اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں مہنگائی کے اثرات سے کچھ تحفظ دے سکے۔ جو چیزیں عام افراد کے لیے جس قیمت پر دستیاب ہیں، خصوصی افراد کو بھی وہی چیزیں اسی قیمت پر خریدنا پڑتی ہیں۔ دوسری طرف ان کے ذرائع آمدن انتہائی محدود ہوتے ہیں۔ وہ ہر شعبے میں کام نہیں کر سکتے، بعض اوقات انہیں کام ملتا ہی نہیں اور اگر کسی طرح روزگار مل بھی جائے تو وہ کسی بھی وقت ختم ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اکثر خصوصی افراد کو عام افراد کے مقابلے میں کم اجرت دی جاتی ہے، جو ان کے ساتھ ایک سنگین ناانصافی ہے۔اگر کوئی خصوصی فرد اپنا ذاتی کاروبار قائم نہ کر سکے تو اس کے لیے مزدوری کے شعبے میں کام کرنا بھی انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ مزدوری خواہ تاجر برادری کے ساتھ ہو، منڈیوں اور آڑھتیوں کے ساتھ کام کرنا ہو، کسانوں کے ساتھ فصلوں اور زمین سے متعلق کام ہو یا تعمیرات کے شعبے میں مکان، دکان اور عمارتیں بنانے کا کام ہو، خصوصی افراد کے لیے ان شعبوں میں کام کرنا عموماً ممکن نہیں ہوتا۔ سماعت سے محروم افراد کسی حد تک بعض کام انجام دے لیتے ہیں، لیکن انہیں بھی کام کی نوعیت اور معاملات کو سمجھنے میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ اس لیے اگر کوئی خصوصی فرد اپنے طور پر روزگار کا کوئی ذریعہ بنا لے تو وہ کسی حد تک اپنا گزارا کر سکتا ہے، لیکن اکثر حالات میں ان کے لیے مستقل ذریعہ آمدن پیدا کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی زندگی بہت سے مسائل سے دوچار ہے۔ ان کی آمدن عام افراد کے مقابلے میں کم ہوتی ہے، لیکن ان کے اخراجات عام افراد سے زیادہ ہوتے ہیں، کیونکہ انہیں ایسی خصوصی ضروریات پوری کرنا پڑتی ہیں جو عام افراد کو درپیش نہیں ہوتیں، جبکہ اس کے ساتھ وہ روزمرہ انسانی ضروریات بھی پوری کرتے ہیں جو ہر فرد کی زندگی کا حصہ ہیں۔خصوصی افراد کو اس وقت سب سے بڑا مسئلہ خوراک کے حصول میں درپیش ہے۔ یہاں فروٹ، بیکری کی اشیا، مٹھائی اور چائے کا ذکر نہیں کر رہا، کیونکہ اس وقت دو وقت کی روٹی کا حصول ہی خصوصی افراد کے لیے زندگی کا ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ پاکستان میں خوراک کی بنیادی ضروریات زیادہ تر گندم کے ذریعے پوری کی جاتی ہیں۔ چاول پہلے ہی بہت مہنگے ہیں اور ان تک خصوصی افراد کی رسائی مشکل ہے، جبکہ عام افراد بھی چاول کو روزانہ کی بنیاد پر استعمال نہیں کرتے کیونکہ یہ نسبتاً مہنگی غذا ہے۔ موجودہ حالات میں گندم کا آٹا ہی وہ بنیادی ذریعہ ہیں جن کے ذریعے کم آمدن رکھنے والا فرد اپنی خوراک کی ضرورت پوری کر سکتا ہے، لیکن گندم اور آٹے کا حصول بھی خصوصی افراد کے لیے مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ جب گندم کا موسم آتا ہے تو بہت سے لوگ اپنی جمع پونجی اکٹھی کرکے گندم خرید لیتے ہیں، لیکن خصوصی افراد کے لیے زندگی میں اکثر یہ موقع ہی نہیں آتا کہ وہ کچھ رقم بچا سکیں اور اس کے ذریعے گندم خرید سکیں۔ ان کی آمدن اتنی نہیں ہوتی کہ وہ روزمرہ زندگی کی ضروریات پوری کرنے کے بعد کچھ رقم محفوظ کر سکیں۔ انہیں اکثر یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ کون سی ضرورت کو چھوڑا جائے اور کون سی زیادہ ضروری چیز خریدی جائے۔ جب زندگی میں اس قسم کی صورتحال پیدا ہو جائے تو گزارا کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔حکومت نے راشن کارڈ کے ذریعے ایسے افراد کو سہارا دیا ہے جو فیکٹریوں اور ملوں میں ملازمت کرتے ہیں اور انہیں ہر ماہ ایک مقررہ رقم تنخواہ کی صورت میں ملتی ہے۔ اگر مستقل آمدن رکھنے والے ان افراد کو بھی ہر ماہ راشن کے لیے مالی سہارا درکار محسوس ہوتا ہے تو خصوصی افراد کا اس سہولت پر حق اس سے کہیں زیادہ بنتا تھا، کیونکہ ان کی آمدن نہ تو مستقل ہوتی ہے اور نہ ہی انہیں باقاعدگی سے روزگار ملتا ہے۔ سوشل سیکورٹی کے ادارے کے ساتھ رجسٹرڈ مزدور افراد میں سے بھی زیادہ تر فیکٹریوں میں کام کرتےہیں انہیں حکومت کی طرف سے ہر ماہ 3 ہزار روپے راشن کے طور پر ملتے ہیں۔ اس کے برعکس خصوصی افراد کو راشن کارڈ پروگرام میں شامل نہیں کیا گیا، خاص طور پر ایسے خصوصی افراد کو جنہیں فٹ ٹو ورک، یعنی کام کرنے کے قابل قرار دیا گیا ہے۔ یہ افراد ہمت کارڈ سے بھی محروم ہیں۔ ایک وقت تھا جب خصوصی افراد یوٹیلٹی اسٹورز کے ذریعے اپنی ضروریات زندگی کسی نہ کسی طرح نسبتاً کم قیمت پر پوری کر لیتے تھے، لیکن اب رعایتی اشیائے ضروریہ کی وہ سہولت بھی ختم ہو چکی ہے۔اگر کوئی خصوصی فرد کسی طرح گندم یا آٹے کا بندوبست کر بھی لے تو اس کے بعد کھانا پکانے کا ایک اور بڑا مسئلہ سامنے آ جاتا ہے۔ اکثر علاقوں میں سرکاری گیس دستیاب نہیں ہوتی اور اگر دستیاب ہو بھی تو بروقت نہیں ملتی۔ کھانا پکانے کا ذریعہ زیادہ تر علاقوں میں سلنڈر کی گیس بن چکا ہے، جبکہ نجی ایل پی جی گیس بھی کم از کم چار سو روپے فی کلو سے زیادہ قیمت پر خریدنا پڑتی ہے۔ ان حالات میں خصوصی افراد کے لیے کھانا پکانا بھی انتہائی مشکل ہو جاتا ہے، بلکہ بعض حالات میں یہ ان کے لیے تقریباً ناممکن بن جاتا ہے۔ ایسی صورت حال میں اگر خصوصی افراد ہوٹل یا ریسٹورنٹ کے ذریعے کھانا منگوانے کی کوشش کریں تو وہاں کے نرخ بھی ان کی محدود آمدن کے مقابلے میں بہت زیادہ ہو چکے ہیں۔ سادہ نان 30 روپے اور روٹی 20 روپے سے زائد میں مل رہی ہے، جبکہ صرف دال کی سادہ پلیٹ بھی ایک سو روپے سے کم نہیں ملتی۔ غریب افراد کا زیادہ تر کھانا روٹی اور دال یا چنے کے سالن پر مشتمل ہوتا ہے، لیکن کم ترین درجے کا یہ سالن بھی ایک سو روپے سے کم فی پلیٹ دستیاب نہیں ہوتا۔ ان حالات میں ایک وقت کا کھانا کھانے کے لیے کم از کم ڈیڑھ سو سے دو سو روپے درکار ہوتے ہیں جس میں صرف روٹی اور سادہ سالن شامل ہوتا ہے، چائے یا دیگر چیزیں اس میں شامل نہیں۔ خصوصی افراد کے لیے روزانہ کی بنیاد پر اس قدر اخراجات برداشت کرنا انتہائی مشکل بلکہ بعض حالات میں ناممکن ہو جاتا ہے۔ان تمام حالات، بڑھتے ہوئے اخراجات، عام افراد کے مقابلے میں محدود آمدن اور زیادہ ضروریات کے باعث آج بہت سے خصوصی افراد کے لیے دو وقت کا کھانا تو دور کی بات، ایک وقت کا کھانا حاصل کرنا بھی انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ جب ایک فرد اپنی بنیادی خوراک کی ضرورت پوری کرنے کے لیے بھی مشکلات کا شکار ہو جائے تو اس سے بڑی محرومی اور کیا ہو سکتی ہے؟ایک طرف خصوصی افراد اپنی جسمانی کمزوری، محرومی اور وزن اٹھانے کی صلاحیت نہ ہونے کے باعث مزدور طبقے میں شامل ہو کر روزگار حاصل کرنے اور اپنے خاندان کا سہارا بننے کے قابل نہیں، تو دوسری طرف حکومت کی طرف سے مزدور افراد کو دی جانے والی راشن کارڈ کی سہولت سے بھی انہیں محروم رکھا گیا ہے۔ آخر یہ دوہری محرومیاں کب تک خصوصی افراد کا مقدر بنتی رہیں گی؟ ایک طرف کام کرنے والے افراد کے لیے راشن پروگرام کی سہولت موجود ہے، دوسری طرف خصوصی افراد جنہیں کام کرنے کے قابل قرار دیا گیا ہے، اس سہولت سے محروم ہیں۔ خصوصی ہونا آخر کیا ہے؟ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے حقوق عام افراد سے زیادہ ہونا تو دور کی بات، انہیں عام افراد کے برابر حقوق بھی حاصل نہ ہوں؟ کیا یہی خصوصی ہونے کی پہچان ہے؟ جاری ہے

(پہلی قسط)مہنگائی کے ستائے ہوئے خصوصی افراد

نئے صوبے، وقت کا تقاضا

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے