پمز کی نرسری میں بجھتے چراغ — یہ صرف سانحہ نہیں، ایک سوال ہے
ملک قمر الزمان کھوکھر
آج اسلام آباد خاموش ہے…آج صرف ایک ہسپتال نہیں، پوری قوم سوگوار ہے۔آج چند خاندان نہیں رو رہے، آج پاکستان کی مائیں اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر یہ سوچ رہی ہیں کہ اگر ہسپتال بھی نومولود بچوں کے لیے محفوظ نہیں تو پھر ہماری امیدوں کے چراغ کہاں محفوظ ہیں؟پمز ہسپتال کی نرسری میں آج جو کچھ ہوا، اسے صرف ایک ”حادثہ“ کہہ کر گزر جانا شاید اس سانحے کے ساتھ سب سے بڑی ناانصافی ہوگی۔ اطلاعات کے مطابق آگ نے ان ننھی جانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جو ابھی دنیا کو دیکھنے، ماں کی گود میں پلنے اور باپ کی انگلی تھامنے کے سفر کا آغاز بھی نہیں کر پائی تھیں۔ 14 نومولود بچوں کی موت نے پورے ملک کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ذرا تصور کیجیے…ایک ماں جس نے نو ماہ اپنے بچے کو اپنے وجود میں پالا۔ ہر درد برداشت کیا۔ ہر رات اس امید کے ساتھ گزاری کہ ایک دن اس کا بچہ اس کی گود میں ہوگا۔ پھر وہ دن آیا، بچہ دنیا میں آیا، مگر چند ہی دنوں بعد وہی ماں ہسپتال کے باہر کھڑی اپنے بچے کی لاش کی منتظر تھی۔اس ماں سے پوچھا جائے کہ اس کے لیے ”سانحہ“ کا مطلب کیا ہے؟سانحہ صرف آگ نہیں تھی۔سانحہ صرف دھواں نہیں تھا۔سانحہ صرف چند لمحوں میں بھڑکنے والے شعلے نہیں تھے۔اصل سانحہ وہ سوال ہے جو آج ہر والدین کے دل میں ہے:کیا میرے بچے کی جان واقعی محفوظ تھی؟ابتدائی اطلاعات میں آگ لگنے کی وجہ کے حوالے سے مختلف باتیں سامنے آئی ہیں؛ کہیں شارٹ سرکٹ کا ذکر ہے اور کہیںآکسیجن کے نظام سے متعلق خرابی کی بات سامنے آئی ہے۔ اس لیے حتمی ذمہ داری کا تعین مکمل اور شفاف تحقیقات کے بعد ہی ہونا چاہیے۔ لیکن ایک بات واضح ہے: نومولود بچوں کے وارڈ میں فائر سیفٹی، ایمرجنسی ایگزٹ، تربیت یافتہ عملہ اور فوری ریسکیو کا نظام کسی بھی صورت میں معمولی معاملہ نہیں ہو سکتا۔رپورٹس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ ایمرجنسی راستے مو¿ثر تھے یا نہیں اور آگ کے وقت عملے کی موجودگی اور حفاظتی انتظامات کس حد تک فعال تھے۔ یہ سوالات الزام لگانے کے لیے نہیں بلکہ حقیقت جاننے کے لیے ہیں۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہسپتال صرف اینٹوں، سیمنٹ اور مشینوں کا نام نہیں۔ ہسپتال اعتماد کا نام ہے۔جب ایک غریب باپ اپنے بچے کو سرکاری ہسپتال لے کر جاتا ہے تو وہ حکومت پر اعتماد کرتا ہے۔ جب ایک ماں اپنے نومولود کو نرسری میں چھوڑتی ہے تو وہ یہ یقین کرتی ہے کہ ڈاکٹر، نرسیں، مشینیں اور حفاظتی نظام اس کے بچے کی حفاظت کریں گے۔اگر یہ اعتماد ٹوٹ جائے تو صرف ایک عمارت نہیں جلتی، پورا نظامِ صحت سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔آج ہمیں صرف تعزیت نہیں کرنی، احتساب بھی کرنا ہے۔ہمیں یہ معلوم کرنا ہوگا کہ آگ کیوں لگی؟اگر حفاظتی نظام موجود تھا تو اس نے کام کیوں نہیں کیا؟اگر ایمرجنسی راستے تھے تو وہ قابلِ استعمال کیوں نہیں تھے؟اگر فائر فائٹنگ کا نظام موجود تھا تو اسے بروقت استعمال کیوں نہ کیا جا سکا؟کیا عملہ ایسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے باقاعدہ تربیت یافتہ تھا؟اور سب سے اہم سوال:کیا اس سانحے کو روکا جا سکتا تھا؟اگر جواب ”ہاں“ ہے تو پھر ذمہ داری کا تعین بھی ہونا چاہیے۔کسی معصوم بچے کی موت کو محض فائل، انکوائری اور پریس ریلیز میں دفن نہیں کیا جا سکتا۔ تحقیقات شفاف ہوں، ذمہ داروں کا تعین ہو اور اگر کسی کی غفلت ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔لیکن اس سانحے سے ایک اور سبق بھی ملتا ہے۔پاکستان کے ہر بڑے ہسپتال، ہر نرسری، ہر آئی سی یو، ہر برن یونٹ اور ہر ایمرجنسی وارڈ کا فائر سیفٹی آڈٹ ہونا چاہیے۔ صرفکاغذوں میں نہیں، عملی طور پر۔ ایمرجنسی ایگزٹ کھلے ہوں، فائر الارم فعال ہوں، آکسیجن لائنز کی باقاعدہ جانچ ہو، عملے کی تربیت ہو اور ہنگامی انخلا کی مشقیں باقاعدگی سے کرائی جائیں۔ہم حادثے کے بعد کمیٹیاں بنانے کے عادی ہو چکے ہیں۔اب ہمیں حادثے سے پہلے نظام مضبوط کرنے کی عادت ڈالنی ہوگی۔آج پمز کے ان ننھے فرشتوں کے جنازے اٹھے ہیں۔ کل کسی اور ہسپتال میں کسی اور ماں کی گود نہ اجڑے، اس کے لیے آج ہی فیصلہ کرنا ہوگا۔یہ 14 بچے صرف 14 خاندانوں کے بچے نہیں تھے۔یہ پاکستان کے بچے تھے۔یہ ہماری آنے والی نسل کے چراغ تھے۔ان کی آنکھوں نے شاید دنیا دیکھی بھی نہیں تھی، مگر ان کے والدین نے ان میں پوری دنیا دیکھ لی تھی۔آج ان والدین سے ہمارے پاس کہنے کو صرف ”صبر کریں“ کے الفاظ ہیں۔لیکن شاید ان کے دل یہ سوال کر رہے ہیں:ہمیں صبر تو مل جائے گا، مگر ہمارے بچوں کا انصاف کون دے گا؟اللہ تعالیٰ پمز سانحے میں جاں بحق ہونے والے معصوم بچوں کو اپنی رحمت میں جگہ دے، ان کے والدین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور ہمارے ملک کے ہسپتالوں کو ایسا محفوظ بنائے کہ کسی ماں کو اپنے نومولود کی سلامتی کے لیے خوفزدہ نہ ہونا پڑے۔اور حکمرانوں سے صرف اتنی گزارش ہے:ان بچوں کی قبریں ہمیں معاف نہیں کریں گی اگر ہم نے اس سانحے سے سبق نہ سیکھا۔آج 14 ننھے چراغ بجھے ہیں۔خدارا… انہیں صرف گن کر نہ بھولیے۔ان کی موت کو ایک ایسا موڑ بنائیے جہاں سے پاکستان کا نظامِ صحت پہلے سے زیادہ محفوظ، ذمہ دار اور انسان دوست بن کر نکلے۔






