کیا سوچنا ہے سے کیسے سوچنا ہے کا سفر
عبدالقادر مشتاق
ایک روز ایک طالب علم نے مجھ سے پوچھا سر! امتحان میں یہی لکھنا ہے نا؟ میں نے کہا اگر تمہیں معلوم ہے کہ یہی لکھنا ہے تو یہ بھی معلوم ہے کہ کیوں لکھنا ہے؟ وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر بولا:سر! یہ تو کتاب میں لکھا ہے۔ میں مسکرا دیا۔ یہ ایک چھوٹا سا مکالمہ تھا، مگر اس میں ہماری پوری تعلیمی، سماجی اور فکری زندگی کا خلاصہ چھپا ہوا تھا۔ ہمیں جواب یاد ہیں، مگر سوال یاد نہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ کیا سوچنا ہے، مگر یہ معلوم نہیں کہ کیسے سوچنا ہے۔ شاید ہماری اصل فکری پسماندگی یہی ہے۔ ہمیں جواب ورثے میں ملے، سوال نہیں۔ بچپن سے ہمیں جواب ملتے رہے۔ یہ اچھا ہے۔یہ برا ہے۔ یہ درست ہے۔ یہ غلط ہے۔ اسے اپنا سمجھو۔ اس سے فاصلے پر رہو۔ اس شخص کو پسند کرو۔ اس خیال سے اختلاف نہ کرو۔ہم نے بھی سوال کیے بغیر بہت کچھ قبول کر لیا۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں سوال کرنے والے بچے کو ذہین سے زیادہ ضدی سمجھا جاتا ہے۔ گھر میں بچہ سوال کرے تو کہا جاتا ہے زیادہ سوال نہ کرو۔ کلاس میں طالب علم سوال کرے تو کبھی کہا جاتا ہے کہ کتاب میں یہی لکھا ہے۔ دفتر میں ملازم سوال کرے تو اسے مشکل آدمی سمجھ لیا جاتا ہے۔ اور معاشرے میں کوئی سوال کر دے تو فوراً پوچھا جاتا ہے آپ کس کے ایجنڈے پر ہیں؟ گویا سوال خود ایک جرم بن گیا ہے۔ ہمیں اختلاف سے بھی زیادہ سوال سے خوف آتا ہے۔ ہمارا ذہن بھی کبھی کبھی فارورڈ میسج بن جاتا ہے۔ آج سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔ کسی نے ایک جملہ لکھا، ہمیں اچھا لگا، ہم نے آگے بھیج دیا۔ کسی نے ایک ویڈیو بنائی، ہماری سوچ سے ملتی تھی، ہم نے اسے حقیقت سمجھ لیا۔ کسی نے کسی شخصیت کے بارے میں دعویٰ کیا، ہمیں پسند آیا، ہم نے اسے تاریخ کا حصہ بنا دیا۔۔کسی نے ایک تصویر کے نیچے ایک خوبصورت قول لکھ دیا، ہم نے تحقیق کیے بغیر اسے کسی بڑے فلسفی، شاعر یا دانشور کے نام سے منسوب کر دیا۔ اور پھر اطمینان سے کہا کہ میں نے پڑھا ہے۔ ہم نے پڑھا ضرور ہوتا ہے، مگر جانچا نہیں ہوتا۔ ہم نے سنا ضرور ہوتا ہے، مگر سمجھا نہیں ہوتا۔۔ہم نے آگے ضرور بھیجا ہوتا ہے، مگر سوچا نہیں ہوتا۔ یوں ہمارا ذہن بھی بعض اوقات موبائل کے فارورڈ میسج کی طرح ہو جاتا ہے۔۔اصل سوال: میں ایسا کیوں سوچتا ہوں؟ فکری زندگی کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب انسان اپنے ہی خیال کے سامنے کھڑا ہو کر پوچھتا ہے کہ میں ایسا کیوں سوچتا ہوں؟یہ سوال بظاہر سادہ ہے، مگر اس کا جواب آسان نہیں۔ میں کسی شخص کو اچھا کیوں سمجھتا ہوں؟کسی کو برا کیوں سمجھتا ہوں؟ کسی سیاسی جماعت سے محبت کیوں کرتا ہوں؟ کسی دوسری جماعت سے نفرت کیوں؟ کسی تاریخی واقعے کو ایک خاص زاویے سے کیوں دیکھتا ہوں؟ کیا یہ سب میری اپنی تحقیق کا نتیجہ ہے؟ یا میں نے یہ خیالات گھر، دوستوں، معاشرے، میڈیا اور ماحول سے حاصل کیے ہیں؟ یہاں سے کیا سوچنا ہے کا سفر ختم اور کیسے سوچنا ہے کا سفر شروع ہوتا ہے۔ سوچنا اور ردِعمل دینا ایک چیز نہیں۔ ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ ہم سوچ رہے ہیں، حالاں کہ ہم صرف ردِعمل دے رہے ہوتے ہیں۔ کوئی خبر آئی، فوراً غصہ آ گیا۔ کسی نے تنقید کی، فوراً جواب دے دیا۔ کسی نے تعریف کی، فوراً اسے عظیم مان لیا۔ کسی نے ہمارے پسندیدہ شخص پر سوال اٹھایا، ہم نے سوال کا جواب دینے کے بجائے سوال کرنے والے کو ہی برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ یہ سوچ نہیں۔ یہ ذہنی ردِعمل ہے۔ سوچ وہاں شروع ہوتی ہے جہاں ردِعمل ختم ہوتا ہے۔ ایک باشعور انسان خبر پڑھ کر فوراً فیصلہ نہیں کرتا۔ وہ ایک لمحہ رکتا ہے۔۔پوچھتا ہے کہ خبر کہاں سے آئی؟ اس کا ماخذ کیا ہے؟ اس میں رائے کتنی ہے اور حقیقت کتنی؟ دوسرا فریق کیا کہتا ہے؟ میرے اپنے تعصبات اس معاملے کو کس طرح متاثر کر رہے ہیں؟ یہی کیسے سوچنا ہے ہے۔ تعلیم کا اصل امتحانہم نے تعلیم کو بھی نمبروں کا کھیل بنا دیا ہے۔ بچہ اگر کتاب کا جواب یاد کرکے لکھ دے تو کامیاب۔ اگر وہ استاد سے مختلف سوال پوچھ دے تو شاید "مسئلہ”۔ حالاں کہ تعلیم کا اصل مقصد صرف یہ نہیں کہ طالب علم کو جواب آ جائے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ وہ جواب تلاش کرنا سیکھ جائے۔ ایک اچھا استاد طالب علم کو اپنی بات کا قیدی نہیں بناتا۔وہ اس کے ذہن کو آزاد کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میری بات بھی پرکھو، کتاب کی بات بھی پرکھو، اپنی رائے بھی پرکھو اور اگر تمہیں بہتر دلیل مل جائے تو اپنی رائے بدل دو۔ یہی علمی دیانت ہے۔ اختلاف سے خوف کیوں؟ ہمیں اختلاف سے اس لیے خوف آتا ہے کہ ہم نے اپنی رائے کو اپنی ذات بنا لیا ہے۔ اگر کوئی ہماری رائے سے اختلاف کرتا ہے تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ اس نے ہماری توہین کر دی۔پھر گفتگو دلیل سے نکل کر شخصیت پر آ جاتی ہے۔ تم جانتے ہی کیا ہو؟ تمہاری اوقات کیا ہے؟ تمہیں کس نے پڑھایا ہے؟ تم کس کے آدمی ہو؟ غور کیجیے، سوال کا جواب کہیں نہیں دیا گیا۔صرف سوال کرنے والے کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ اس معاشرے کی علامت ہے جہاں دلیل کمزور اور انا مضبوط ہو۔ ایک صحت مند معاشرہ وہ ہے جہاں انسان یہ کہہ سکے کہ میں آپ سے اختلاف کرتا ہوں، مگر پہلے آپ کی بات پوری سن لیتا ہوں۔۔اپنی رائے بدلنا شکست نہیں، ہمیں ایک اور سبق سیکھنے کی ضرورت ہے کہ رائے بدلنا شکست نہیں۔ اگر نئی دلیل، نیا ثبوت یا نئی معلومات سامنے آئے اور انسان اپنی پرانی رائے پر نظرثانی کر لے تو یہ کمزوری نہیں، ذہنی بلوغت ہے۔ مگر ہمارے ہاں آدمی اپنی غلطی مان لے تو سمجھا جاتا ہے کہ وہ ہار گیا۔ اس لیے لوگ غلطی پر ڈٹے رہتے ہیں۔ ایک شخص برسوں غلط راستے پر چلتا رہتا ہے، صرف اس لیے کہ اسے یہ تسلیم کرنے میں شرمندگی ہوتی ہے کہ وہ غلط تھا۔ حالاں کہ زندگی کا سب سے خوبصورت جملہ کبھی کبھی یہی ہوتا ہے کہ میں غلط تھا۔ اس جملے کے بعد انسان کے اندر ایک نئی دنیا آباد ہو سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت ہمیں آئینہ دکھا رہی ہے۔ ہم مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ اب مشینیں ہمارے سوالوں کے جواب دے سکتی ہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ غلط سوال کا بہترین جواب بھی غلط سمت لے جا سکتا ہے۔اگر انسان کو سوال کرنا نہیں آتا تو جدید ترین ٹیکنالوجی بھی اس کے لیے کافی نہیں۔ آنے والے وقت میں شاید معلومات سب کے پاس ہوں گی۔ فرق وہاں پیدا ہوگا جہاں کوئی یہ پوچھ سکے گا کہ اس معلومات کی حقیقت کیا ہے؟ اس کے پیچھے دلیل کیا ہے؟ اس کا دوسرا پہلو کیا ہے؟ اور سب سے اہم کہ کیا میں جو سوچ رہا ہوں، وہ واقعی میری اپنی سوچ ہے؟ ہمیں نئی نسل کو کیا دینا ہے؟ ہمیں اپنی نئی نسل کو صرف کتابیں نہیں دینی چاہییں بلکہ سوال دینے چاہییں۔ صرف جوابات نہیں؛ تحقیق کا ہنر دینا چاہیے۔ صرف بولنے کا موقع نہیں؛ سننے کی تربیت بھی دینی چاہیے۔ صرف اپنی بات منوانا نہیں؛ دوسرے کی بات سمجھنا بھی سکھانا چاہیے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ سکھانا چاہیے کہ کسی خیال سے محبت کرو، مگر اسے بت نہ بنا لینا۔ اپنی رائے رکھو، مگر اسے آخری سچ نہ سمجھو۔ اختلاف کرو، مگر انسان کو دشمن نہ بناو¿۔ سوال کرو، مگر سوال کی آڑ میں بدتمیزی نہ کرو۔ اور اگر دلیل تمہیں غلط ثابت کر دے تو اپنی رائے بدلنے میں شرمندگی محسوس نہ کرو۔ آخر میں ایک سوال شاید ہمیں آج اپنے معاشرے، اپنی درس گاہوں اور اپنے گھروں میں ایک سوال ضرور اٹھانا چاہیے: ہم نئی نسل کو کیا دے رہے ہیں؟ رائے؟ یا سوچنے کی صلاحیت؟ جوابات؟ یا سوال کرنے کا حوصلہ؟ معلومات؟ یا معلومات کو پرکھنے کا شعور؟ اگر ہم نے انہیں صرف یہ سکھایا کہ کیا سوچنا ہے تو وہ ہماری طرح سوچیں گے۔ اگر ہم نے انہیں یہ سکھا دیا کہ کیسے سوچنا ہے تو ممکن ہے وہ ہم سے بہتر سوچیں۔ اور شاید یہی کسی استاد، والدین، ادارے اور معاشرے کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔ کیونکہ نسلوں کی اصل تربیت اس وقت نہیں ہوتی جب ہم انہیں بتاتے ہیں کہ ہم کیا سوچتے ہیں۔ اصل تربیت اس وقت ہوتی ہے جب ہم انہیں یہ سکھاتے ہیں کہ تم خود سوچو، پھر سوال کرو، دلیل تلاش کرو، دوسری طرف سنو، اپنی غلطی پہچانو، اور اگر ضرورت پڑے تو اپنی رائے بدل دو۔ کیونکہ کیا سوچنا ہے انسان کو ایک رائے دیتا ہے، مگر کیسے سوچنا ہے اسے ایک ذہن دیتا ہے۔ اور جس دن انسان کو اپنا ذہن مل جائے، اسی دن وہ صرف ہجوم کا حصہ نہیں رہتا۔ وہ ایک باشعور فرد بن جاتا ہے۔






