خواتین کہاں ریڈ لائن ہیں
مرزا رضوان
وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کے سیاسی سٹیج سے بلند ہونے والے نعرے اور "خواتین ہماری ریڈ لائن ہیں” جیسے بلند بانگ دعوے اگرچہ بظاہر دلاسا دیتے ہیں، مگر جب یہ نعرے تلخ معاشرتی حقائق سے ٹکراتے ہیں تو متعدد سوالات جنم لیتے ہیں۔ حالیہ کچھ برسوں میں وومن پروٹیکشن قوانین کی تشہیر، پولیس کیسز اور وومن پروٹیکشن بیورو جیسے اداروں کے قیام کے باوجود طلاق کی شرح میں تشویشناک اضافہ اور گھریلو تشدد کی بڑھتی ہوئی رپورٹس یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ آیا ہم مسائل کے حقیقی حل کی طرف بڑھ رہے ہیں یا محض اقدامات پر اکتفا کر رہے ہیں۔ہمارے معاشرے کی ایک دردناک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ ایک مشرقی عورت اکثر اپنے ماں باپ کی عزت اور خاندانی بھرَم کی خاطر شوہر کے ظلم و ستم اور مار پیٹ کو پانچ، چھ سال تک مسلسل اور خاموشی سے برداشت کرتی رہتی ہے۔ لیکن جب صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے اور وہ اپنے اوپر ہونے والی بے رحمی پر مجبوری میں پولیس کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے، تو قانون کا روایتی نظام حرکت میں آتا ہے۔ پولیس شوہر کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 354 کے تحت مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار تو کر لیتی ہے، لیکن اس کارروائی کا انجام اس مظلوم عورت کے لیے مزید تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔تین سے چار دن بعد جب وہی شوہر عدالت سے ضمانت کروا کر باہر آتا ہے، تو انتقام کی آگ میں جَلتے ہوئے سب سے پہلے اپنی بیوی کو طلاق دے کر گھر سے نکال دیتا ہے۔ شوہر کے لیے پولیس رپورٹ اس کی انا کا وہ زخم بن جاتی ہے جسے وہ برداشت نہیں کرتا، لیکن اس کا خمیادہ اس عورت کو بھگتنا پڑتا ہے۔ یہاں یہ تیکھا سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہی اس عورت کا حقیقی "تحفظ” تھا؟ جس عورت کو حکومتی نعروں میں "ریڈ لائن” کہا جاتا ہے، وہ پولیس اور قانونی کارروائی کے اس بوجھل عمل کے بعد نہ سسرال کی رہتی ہے، نہ والدین کا گھر اس کا مستقل ٹھکانہ بن پاتا ہے، اور نہ ہی ہمارا روایتی معاشرہ ایک مطلّقہ عورت کو کھلے دل سے قبول کرتا ہے۔ آخر وہ بے چاری کہاں جائے؟عدالتی اعداد و شمار اور وومن پروٹیکشن بیورو کے ریکارڈز بتاتے ہیں کہ پولیس کارروائی اور قانونی اپروچ کے نتیجے میں زوجین کے درمیان مصالحت کے تمام در بند ہو جاتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا طریقہ کار اور سرکاری ڈھانچے کا ناکارہ پن مسئلے کو حل کرنے کے بجائے رشتے کو مستقل نزاع اور فوری طلاق کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ تحفظ فراہم کرنے کے دعویدار ادارے اور بیوروز کاغذی کارروائیوں اور ردِعمل تک محدود ہیں، جن کے پاس نہ تو کوئی جامع بحالی کا منصوبہ ہے اور نہ ہی عورت کی معاشی و سماجی بقا کی ضمانت۔خواتین کا تحفظ بلاشبہ کسی بھی باذوق معاشرے کی بنیادی ترجیح ہونا چاہیے، لیکن تحفظ کا مطلب محض پرچوں کا اندراج، شوہر کی گرفتاری اور عدالتوں کے چکر نہیں ہو سکتا۔ حقیقی تحفظ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ریاست اور سماج مل کر پولیس سے ہٹ کر پیشہ ورانہ خاندانی کونسلنگ، معاشی خود مختاری اور پرامن حل کے راستے فراہم نہ کریں۔ اگر تحفظ کے نام پر بننے والے قوانین عورت کو بے گھر اور بے سہارا کر کے سڑک پر لا کھڑا کریں، تو ایسے قانونی فریم ورک پر ازسرِنو غور کرنا وقت کی شدید ضرورت ہے۔






