مہنگائی یا ہماری مس مینجمنٹ؟
رفیع صحرائی
ہم پاکستانی بھی کمال کے لوگ ہیں۔ ہر غلط کام حکومت کے کھاتے میں ڈال دینا عین کارِ ثواب سمجھ کر اہنے فرائض اور ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔مہنگائی بڑھے تو حکومت ذمہ دار، بجلی کا بل آئے تو حکومت ذمہ دار، پٹرول مہنگا ہو تو حکومت ذمہ دار، سبزی کے دام بڑھیں تو حکومت ذمہ دار اور اگر گھر میں بیس کلو آٹا دس دن میں ختم ہو جائے تو شاید اس کا ذمہ دار بھی وزارتِ خزانہ ہی کو قرار دے دیا جائے۔ ہم نے اپنی زندگی کا ایک سنہرا اصول بنا لیا ہے کہ غلطی ہماری ہو تو حالات کا قصور، اور حالات خراب ہوں تو حکومت کا قصور!مہنگائی یقیناً آج کی ایک بڑی حقیقت ہے اور اس سے انکار ممکن نہیں۔ عام آدمی کے لیے بجلی، گیس، پٹرول، تعلیم، علاج، کرایہ اور اشیائے خورونوش کے بڑھتے ہوئے اخراجات واقعی ناقابلِ برداشت ہوتے جا رہے ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کے خلاف کارروائی کرے، ٹیکسوں کا نظام بہتر بنائے، بجلی اور توانائی کے شعبے کی اصلاح کرے اور روزگار کے مواقع پیدا کرے۔ مگر ذرا ایک لمحے کے لیے حکومت کو الزام دینے سے پہلے ہمیں اپنے گھر کی طرف بھی دیکھ لینا چاہیے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارے معاشی مسائل میں مہنگائی کے ساتھ ہماری اپنی ”مس مینیجمنٹ“ بھی شامل ہو گئی ہے؟زندگی گزارنے کا ایک آسان سا اصول ہے۔ آمدنی جتنی ہو، خرچ اسی حساب سے ہونا چاہیے یعنی چادر دیکھ کر پاو¿ں پھیلانے چاہئیں، لیکن ہم نے اس اصول کو بھی پرانا زمانہ سمجھ کر میوزیم میں رکھ دیا ہے۔ پہلے ہمارے دل میں کوئی خواہش پیدا ہوتی ہے، پھر اس خواہش کو ہم ضرورت کا نام دے دیتے ہیں، اس کے بعد جیب خالی ہونے پر قرض لیا جاتا ہے اور آخر میں قرض کی قسط ادا کرتے ہوئے مہنگائی کو برا بھلا کہنے لگ جاتے ہیں۔اپنے اردگرد دیکھیے۔ کہیں بوڑھا باپ صبح سویرے مزدوری کے لیے جا رہا ہوگا، کہیں بیمار ماں کسی گھر میں صفائی کر رہی ہوگی اور اسی گھر کا نوجوان صاحب موبائل ہاتھ میں لیے سوشل میڈیا پر ”زندگی بدل دینے والے“ اقوال پوسٹ کر رہا ہوگا۔ کبھی وہ خود کو ڈان ثابت کرنے کی کوشش کرے گا، کبھی برانڈڈ کپڑوں میں اے آئی سے بنائی گئی تصویر لگائے گا اور کبھی حکومت کو بتائے گا کہ ملک میں روزگار نہیں۔ اسے کون بتائے کہ بھائی! روزگار تلاش کرنے کے لیے موبائل کی اسکرین سے باہر بھی دنیا آباد ہے!سوشل میڈیا نے صرف ہماری سیاست نہیں بدلی، ہماری ضروریات بھی بدل دی ہیں۔ کسی نے نئی گاڑی لی، ہمیں بھی نئی گاڑی کی ضرورت محسوس ہونے لگتی ہے۔ کسی نے مہنگا موبائل خریدا، ہمارا فون اچانک پرانا اور ناکارہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ کسی نے کسی ریسٹورنٹ میں پیزا کھایا تو ہمارے لیے گھر میں دال چاول کھانا شاید غربت کی علامت بن جاتا ہے۔ اگر کسی نے برانڈڈ کپڑے پہن لیے تو ہماری الماری میں موجود کپڑے ہمیں بوسیدہ اور پرانے لگنے لگتے ہیں۔ یہ سب بری چیزیں نہیں ہیں۔ بے شک پیزا بھی کھائیے، برگر بھی کھائیے، برانڈڈ کپڑے بھی پہنئے، مگر ایک چھوٹا سا سوال خود سے ضرور کیجیے: کیا میری آمدنی اس کی اجازت دیتی ہے؟اگر جواب ”نہیں“ ہے تو مسئلہ صرف مہنگائی نہیں، ترجیحات اور ان تعیّشات کا بھی ہے جنہیں ہم نے ضروریات بنا لیا ہے۔پٹرول کی قیمت بڑھنے پر ہم چیخ اٹھتے ہیں۔ لیکن کبھی یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ پانچ یا دس کلومیٹر کا فاصلہ سائیکل سے طے کیا جا سکتا ہے۔ ماضی میں لوگ سائیکل پر دفتر جاتے تھے، بازار جاتے تھے، حتیٰ کہ بعض اوقات بارات بھی سائیکلوں پر نکل جاتی تھی۔ آج یہ عالم ہے کہ ہم پانچ سو میٹر دور دکان تک جانے کے لیے موٹر سائیکل نکالتے ہیں اور پھر پٹرول کے نرخوں پر قومی اسمبلی کا اجلاس اپنے گھر میں بلا لیتے ہیں۔ سائیکل صرف پٹرول نہیں بچائے گی، جسم بھی بچائے گی۔ اس کے استعمال سے ورزش نہ کرنے سے پیدا ہونے والی کئی بیماریوں اور ان کے علاج پر ہونے والے اخراجات میں کمی آسکتی ہے۔ یعنی ایک ہی تیر سے کئی شکار کیے جا سکتے ہیں۔ پٹرول کا استعمال کم، زرمبادلہ کی بچت، صحت بہتر اور ڈاکٹر کی فیس سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔اسی طرح شادی بیاہ کو دیکھیے۔ شادی خوشی کا موقع ہے یا معاشرتی مقابلہ؟ بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دولہا دلہن کی شادی نہیں، خاندانوں کی مالی طاقت کا عالمی کپ ہو رہا ہے۔ کھانے کی اتنی اقسام کہ مہمان فیصلہ کرتے کرتے پیٹ بھر لیتا ہے، لباس ایسے کہ قیمت پوچھنے والا اپنی جائیداد کا تخمینہ لگانے لگتا ہے اور شادی ہال ایسا کہ اس کے اخراجات کی وجہ سے شادی کے بعد کئی سال تک قرض کی اقساط چلتی رہیں۔ بعد میں وہی خاندان کہتا ہے: ”مہنگائی نے جینا حرام کر دیا ہے!“جناب! کچھ حصہ مہنگائی کا ہے، کچھ حصہ ہماری اپنی ”شاہ خرچی“ کا بھی تو ہے۔فوتیدگی کے موقع پر بھی بعض معاشرتی رسوم غم زدہ خاندان کے لیے اضافی بوجھ بن جاتی ہیں۔ مرحوم کے لیے دعا، فاتحہ اور ایصالِ ثواب کے بجائے بعض اوقات اس بات کی فکر زیادہ ہوتی ہے کہ آنے والے سینکڑوں افراد کے لیے کھانا کہاں سے آئے گا۔ حالانکہ یہ غم کا موقع اور سوگ کی کیفیت ہوتی ہے۔ بیرونِ شہر سے آنے والے مہمانوں کے لیے سادہ کھانے کا بندوبست کر دینا ہی کافی ہوتا ہے مگر اس موقع پر بھی خاندان اور لوگوں کے سامنے ناک بچانے کی فکر پڑی ہوتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ناک بچاتے بچاتے کمر کا کڑاکا نکل جاتا ہے۔ دکھاوے کے لیے قرض لے کر سینکڑوں لوگوں کے پیٹ بھرنا مرحوم کی خدمت نہیں کہلا سکتا۔ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ حکومت کی غلطیاں اپنی جگہ، مگر ہر معاشی مسئلے کا حل حکومت کے پاس نہیں ہوتا۔ حکومت آپ کو سستا پٹرول دے سکتی ہے، مگر یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ غیر ضروری سفر کرنا ہے یا نہیں۔ حکومت بجلی کا نرخ کم کرنے کی کوشش کر سکتی ہے، مگر پنکھے، بلب اور اے سی کب چلانے ہیں، اس کا فیصلہ گھر کے افراد ہی کرتے ہیں۔ حکومت روزگار کے مواقع پیدا کر سکتی ہے، مگر ہنر سیکھنے اور محنت کرنے کا فیصلہ نوجوان کو خود کرنا ہوگا۔ یہاں ہمارا سب سے بڑا المیہ سامنے آتا ہے: ہم آمدنی بڑھانے سے زیادہ اخراجات بڑھانے کے خواہش مند ہیں۔ دنیا بدل رہی ہے۔ روزگار کے روایتی ذرائع کے ساتھ آن لائن کام، فری لانسنگ، ای کامرس، ٹیکنیکل ہنر، چھوٹے کاروبار اور گھر بیٹھے خدمات فراہم کرنے کے بے شمار مواقع پیدا ہو چکے ہیں۔ لیکن ہم میں سے بہت سے لوگ سوشل میڈیا پر کامیابی کی ویڈیوز دیکھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں، کامیابی حاصل کرنے کے لیے خود محنت نہیں کرتے۔ہمیں ماضی سے محبت ضرور کرنی چاہیے، مگر ماضی کے مزاروں پر مجاور بن نہیں رہنا چاہیے۔ یہ کہنا کہ ہمارے زمانے میں دودھ اتنے کا، آٹا اتنے کا اور پٹرول اتنے کا تھا، مسئلے کا حل نہیں۔ اس زمانے میں آمدنی بھی کم تھی، سہولتیں بھی محدود تھیں اور خواہشات بھی زیادہ نہیں تھیں۔ آج آمدنی کے ذرائع زیادہ ہیں تو خواہشات بھی کئی گنا زیادہ ہیں۔اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ حکومت بری الذمہ ہو جائے۔ ریاست کو قیمتوں پر مو¿ثر نگرانی، ذخیرہ اندوزی کے خاتمے، بہتر ٹرانسپورٹ، معیاری تعلیم، صحت اور روزگار کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ لیکن شہری کو بھی اپنے گھر کی معیشت کا وزیرِ خزانہ بننا ہوگا۔ آمدنی بڑھائیے، فضول خرچی کم کیجیے، قرض کو آخری آپشن رکھیے، بچوں کو ہنر سکھائیے، نمود و نمائش سے جان چھڑائیے اور خواہشات کو ضروریات کا نام دینا بند کیجیے۔ مہنگائی ختم ہونے کا انتظار کرتے رہے تو شاید یہ انتظار کبھی ختم نہ ہو۔ اس مہنگائی کے مقابلے کے لیے اپنی معاشی حکمتِ عملی بدلنا ہوگی۔بات بہت سادہ ہے: اگر آمدنی محدود ہے تو اخراجات بھی محدود رکھیے۔ اگر تعیشات ضروریات میں شامل کرنی ہیں تو آمدنی بھی اسی تناسب سے بڑھائیے۔ ورنہ ہر ماہ تنخواہ آتے ہی خرچ ہو جائے، قرض بڑھتا جائے، خواہشات بڑھتی جائیں اور پھر سوشل میڈیا پر مہنگائی کے خلاف پوسٹ لگائی جائے تو اسے معاشی بحران سے زیادہ گھریلو مس مینیجمنٹ ہی کہا جائے گا۔ اور ہاں، اگلی بار مہنگائی پر پوسٹ لگانے سے پہلے ذرا اپنے موبائل کا ماڈل، جوتوں کا برانڈ، گزشتہ ہفتے کے ریسٹورنٹ کا بل اور اس مہینے کے غیر ضروری اخراجات بھی دیکھ لیجیے گا۔ بے شک مہنگائی کچھ کم نہ ہوئی ہو، مگر ہمیں اپنی مس مینیجمنٹ ضرور نظر آ جائے گی۔






