نیپال کا فلیش فلڈ ، ہمالیہ سے آنے والی ایک وارننگ
ڈاکٹر سیدہ عمرانہ مشتاق
قدرت جب اپنے تیور بدلتی ہے تو انسان کی بلند عمارتیں، مضبوط پل، جدید شاہراہیں اور ٹیکنالوجی چند لمحوں میں بے بسی کی تصویر بن جاتی ہیں۔ نیپال میں آنے والا حالیہ تباہ کن فلیش فلڈ بھی ایسا ہی سانحہ ہے جس نے ایک بار پھر دنیا کو متنبہ کیا ہے کہ ہمالیہ کے پہاڑوں میں ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیاں اب صرف سائنسی مقالوں اور عالمی کانفرنسوں کا موضوع نہیں رہیں بلکہ انسانی آبادیوں کے دروازوں تک پہنچ چکی ہیں۔ابتدائی سائنسی شواہد کے مطابق اس آفت کے پس منظر میں ہمالیہ کی بلندیوں پر برفانی اور چٹانی حصے کا اچانک منہدم ہونا ایک اہم عامل تھا۔ برف اور پتھر کا بہت بڑا تودہ بلندی سے نیچے آیا اور پانی، مٹی، برف اور چٹانوں کے ساتھ مل کر ایک انتہائی تیز رفتار ریلا بن گیا۔ ایسے واقعات میں چند لمحوں کے اندر ایک معمولی نظر آنے والا پہاڑی دریا تباہ کن قوت اختیار کرسکتا ہے۔یہ نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر فلیش فلڈ صرف شدید بارش یا کلاو¿ڈ برسٹ کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ ہمالیہ جیسے علاقوں میں گلیشیئر کا ٹوٹنا، برفانی جھیل کا اچانک پھٹ جانا لینڈ سلائیڈ کے باعث دریا کا عارضی طور پر بند ہوجانا اور پھر اس قدرتی بند کا ٹوٹ جانا بھی اچانک اور انتہائی خطرناک سیلاب پیدا کرسکتا ہے۔ مون سون کی شدید بارشیں اگر پہلے ہی دریاو¿ں کو بھر چکی ہوں تو پہاڑ سے آنے والا ملبہ صورتحال کو کہیں زیادہ تباہ کن بنا دیتا ہے۔سوال یہ ہے کہ آخر ہمالیہ کے یہ پہاڑ اور گلیشیئر غیر مستحکم کیوں ہوتے جارہے ہیں؟کسی ایک قدرتی سانحے کو تحقیق مکمل ہونے سے پہلے صرف موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں لیکن وسیع تر تصویر میں بڑھتے ہوئے عالمی درجہ? حرارت کو نظرانداز بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ہمالیائی خطے میں بڑھتی گرمی گلیشیئرز کے پگھلاو¿ کو تیز کرتی ہے۔ پہاڑوں کی بلندیوں پر موجود مستقل منجمد زمین جسے پرما فراسٹ کہا جاتا ہے بھی گرم ماحول میں کمزور پڑ سکتی ہے۔ یہی منجمد تہیں بعض مقامات پر چٹانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑے رکھنے میں کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کے کمزور ہونے سے پہاڑی ڈھلوانیں اور چٹانی حصے غیر مستحکم ہوسکتے ہیں۔اس کے ساتھ مون سون ایک اور خطرہ پیدا کرتا ہے۔ زمین مسلسل بارشوں سے پانی جذب کرکے بھاری ہوجائے، دریا پہلے ہی بلند سطح پر بہہ رہے ہوں اور ایسے میں اوپر سے برف، پتھر اور مٹی کا بہت بڑا تودہ دریا میں آگرے تو پانی کا قدرتی راستہ بند ہوسکتا ہے۔ ایک عارضی جھیل بن جاتی ہے اور جب مٹی، برف اور پتھروں کا یہ قدرتی بند پانی کا دباو¿ برداشت نہیں کرسکتا تو اچانک ٹوٹ جاتا ہے۔ نتیجہ ایک ایسی آبی دیوار کی صورت میں نکل سکتا ہے جس کے سامنے نیچے آباد لوگوں کے پاس بچنے کے لیے چند منٹ ہی رہ جاتے ہیں۔یہی فلیش فلڈ کی سب سے خوفناک حقیقت ہے۔ عام سیلاب میں بعض اوقات لوگوں کو کئی گھنٹے یا دن پہلے خطرے کا اندازہ ہوجاتا ہے، لیکن فلیش فلڈ میں پانی کی رفتار اتنی زیادہ ہوسکتی ہے کہ لوگوں کے پاس گھر چھوڑنے، بچوں اور بزرگوں کو نکالنے اور محفوظ مقام تک پہنچنے کا وقت بھی نہ رہے۔ مزید یہ کہ ایسے ریلے میں صرف پانی نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھ بڑے بڑے پتھر، درخت، برف، کیچڑ اور پہاڑی ملبہ بھی بہہ رہا ہوتا ہے۔ یوں یہ پانی کے بجائے ایک چلتی ہوئی تباہ کن دیوار بن جاتا ہے۔ایک اور تشویش یہ ہے کہ ایسے glacier اور rock collapse کے بعد پہاڑوں میں نئی عارضی جھیلیں وجود میں آسکتی ہیں۔ اگر ان جھیلوں کو روکنے والا برف، مٹی اور پتھروں کا قدرتی بند کمزور پڑ جائے تو بعد میں ایک اور سیلابی ریلا پیدا ہوسکتا ہے۔ اسی لیے کسی بڑے پہاڑی حادثے کے بعد خطرہ پہلے ریلے کے گزر جانے سے مکمل طور پر ختم نہیں ہوجاتا۔ کئی دن تک سیٹلائٹ، ڈرون، موسمیاتی آلات اور دریائی پیمائش کے ذریعے پورے علاقے کی نگرانی ناگزیر ہوتی ہے۔نیپال کا یہ سانحہ صرف نیپال کا مسئلہ نہیں۔ ہمالیہ کسی ایک ملک تک محدود نہیں اور پہاڑوں سے نکلنے والے دریا سیاسی سرحدوں کے پابند نہیں ہوتے۔ نیپال، چین، بھارت، پاکستان، بھوٹان اور جنوبی ایشیا کے کروڑوں انسان ہمالیہ اور ہندوکش کے برفانی ذخائر سے براہِ راست یا بالواسطہ وابستہ ہیں۔پاکستان کے لیے اس واقعے میں ایک خاص سبق موجود ہے۔ ہمارے شمالی علاقوں میں بھی بڑی تعداد میں گلیشیئرز اور برفانی جھیلیں موجود ہیں اور انہی پہاڑوں کے دامن میں آبادیاں، سڑکیں، پل، بجلی گھر اور سیاحتی مقامات قائم ہیں۔ گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں گلیشیئرز اور جھیلوں کی مسلسل نگرانی کو قومی سلامتی اور انسانی تحفظ کا مسئلہ سمجھنا ہوگا۔ہمیں صرف disaster response پر انحصار کرنے کے بجائے disaster anticipation کی طرف جانا ہوگا۔ آفت آنے کے بعد ہیلی کاپٹر، خیمے، خوراک اور امدادی ٹیمیں بھیجنا ضروری ہے، مگر اس سے کہیں زیادہ قیمتی وہ نظام ہے جو آفت آنے سے چند منٹ یا چند گھنٹے پہلے لوگوں کو خبردار کرکے ان کی جان بچا دے۔سیٹلائٹ مانیٹرنگ، گلیشیئر میپنگ، خطرناک برفانی جھیلوں کی مسلسل نگرانی، دریاو¿ں میں خودکار water gauges، مقامی siren systems اور موبائل فون کے ذریعے فوری وارننگ کا مربوط نظام پہاڑی علاقوں تک پہنچانا ہوگا۔ مقامی آبادیوں کی تربیت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ دریا کے بہاو¿ میں اچانک غیر معمولی تبدیلی، پہاڑوں کی طرف سے گرج جیسی آواز، مٹی اور پانی کے رنگ میں اچانک تبدیلی یا اوپر کی جانب کسی بڑے تودے کا گرنا ممکنہ خطرے کی علامت ہوسکتا ہے۔ ایسے موقع پر موبائل فون نکال کر ویڈیو بنانے کے بجائے فوراً بلند اور محفوظ مقام کی طرف جانا چاہیے۔قدرتی آفت کو شاید روکا نہ جاسکے لیکن بہتر منصوبہ بندی سے اسے بڑے انسانی المیے میں تبدیل ہونے سے ضرور روکا جاسکتا ہے۔ہم نے طویل عرصے تک climate change کو عالمی کانفرنسوں، تقاریر، قراردادوں اور مستقبل کے خدشات کا موضوع سمجھا مگر اب اس کے ممکنہ اثرات ہمارے سامنے زیادہ واضح صورت اختیار کررہے ہیں۔ جب گلیشیئر اپنی جگہ چھوڑتا ہے تو وہ قرارداد نہیں پڑھتا جب پہاڑ گرتا ہے تو اسے سیاسی سرحدوں کا علم نہیں ہوتا اور جب پانی وادی میں اترتا ہے تو وہ امیر اور غریب میں فرق نہیں کرتا۔نیپال میں آنے والا یہ سیلاب محض پانی اور ملبے کا ایک ریلا نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے لیے ایک انتباہ ہے۔ہمالیہ بدل رہا ہے۔برف کے وہ پہاڑ جنہیں انسان صدیوں سے اٹل اور دائمی سمجھتا آیا ہے بدلتے ہوئے موسم کے زیراثر نئی نوعیت کے خطرات پیدا کرسکتے ہیں۔ آج نیپال کسی سانحے کا سامنا کرتا ہے تو کل ہمالیہ یا ہندوکش کی کوئی دوسری وادی اسی آزمائش سے دوچار ہوسکتی ہے۔اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ ہم آفات کے بعد امدادی کیمپ لگانے کے ساتھ ساتھ آفات سے پہلے زندگی بچانے کا نظام بھی قائم کریں۔ سائنس ہمیں خطرے کی نشان دہی دے سکتی ہے، ٹیکنالوجی بروقت اطلاع پہنچا سکتی ہے اور ریاست محفوظ انخلا کا انتظام کرسکتی ہے، مگر اس کے لیے تیاری آفت آنے سے پہلے کرنا ہوگی۔نیپال کے اجڑے ہوئے پہاڑی علاقوں سے اٹھنے والی آواز ہم سب کے لیے ایک ہی پیغام رکھتی ہے: قدرت کی وارننگ کو نظرانداز کرنے کی قیمت بہت بڑی ہوتی ہے۔اور شاید ہمالیہ ہمیں یہ وارننگ پہلے ہی دے چکا ہے۔






