#کالم

عید میلاد النبی،رحمتِ عالم کی آمدِ باسعادت

asmat zuhra

عصمت زہرا

عید میلاد النبی مسلمانوں کے لیے ایک نہایت بابرکت، روحانی اور خوشی کا موقع ہے۔ یہ دن ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ کی ولادتِ باسعادت کی یاد دلاتا ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور پوری انسانیت کے لیے رحمت بن کر دنیا میں تشریف لائے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو رحمت للعالمین قرار دیا۔ آپ کی آمد سے انسانیت کو ایک ایسا ضابط حیات ملا جس میں محبت، امن، عدل، مساوات، اخوت اور حسنِ اخلاق کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔حضرت محمد کی ولادت ایسے دور میں ہوئی جب عرب معاشرہ مختلف برائیوں کا شکار تھا۔ معاشرے میں بت پرستی، قبائلی تعصب، ظلم و زیادتی، ناانصافی اور کمزوروں کے استحصال جیسی برائیاں عام تھیں۔ عورتوں کے حقوق پامال کیے جاتے تھے اور غریب و کمزور افراد کو معاشرے میں مناسب مقام حاصل نہیں تھا۔ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی کو انسانیت کی رہنمائی کے لیے مبعوث فرمایا۔ آپ نے لوگوں کو ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی اور انہیں نیکی، تقویٰ، سچائی اور انصاف کا راستہ دکھایا۔آپ کی پوری زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ آپ نے اپنے قول و فعل سے انسانیت کو اخلاقِ حسنہ کی تعلیم دی۔ آپ ہمیشہ سچ بولتے، وعدہ پورا کرتے اور دوسروں کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آتے تھے۔ آپ نے دشمنوں کے ساتھ بھی اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کیا۔ آپ نے لوگوں کو یہ تعلیم دی کہ کسی انسان کی عزت و قدر اس کے مال، خاندان یا قبیلے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے کردار اور تقویٰ کی وجہ سے ہے۔ یہی تعلیم ایک مضبوط، پرامن اور انصاف پسند معاشرے کی بنیاد بنتی ہے۔عید میلاد النبی ہمیں نبی کریم کی سیرتِ طیبہ کو یاد کرنے اور اس سے رہنمائی حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس موقع پر مسلمان درود و سلام پڑھتے ہیں، نعتیں پیش کرتے ہیں، محافل منعقد کرتے ہیں اور نبی کریم کی سیرت و تعلیمات پر روشنی ڈالتے ہیں۔ مختلف علاقوں میں مساجد، گھروں اور بازاروں کو خوبصورتی سے سجایا جاتا ہے۔ لوگ اپنے گھروں اور گلیوں کو چراغاں کرتے ہیں اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔تاہم میلاد النبی کی حقیقی روح صرف ظاہری سجاوٹ اور تقریبات تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ ہمیں اس مبارک موقع پر یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم نبی کریم کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں گے۔ اگر ہم درود و سلام پڑھتے ہیں لیکن جھوٹ، دھوکہ، بددیانتی، ظلم اور دوسروں کی حق تلفی سے نہیں بچتے تو ہمیں اپنی زندگی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ نبی کریم سے محبت کا بہترین اظہار آپ کی سنت اور اخلاق پر عمل کرنا ہے۔حضور اکرم نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی خصوصی تاکید فرمائی۔ آج کے دور میں بہت سے لوگ مصروف زندگی کی وجہ سے اپنے والدین کو مناسب وقت نہیں دے پاتے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم آپ کی تعلیمات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے والدین کا احترام کریں، ان کی خدمت کریں اور ان کے ساتھ محبت اور نرمی سے پیش آئیں۔ اسی طرح ہمیں اپنے رشتہ داروں، پڑوسیوں اور معاشرے کے دوسرے افراد کے حقوق کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔نبی کریم نے غریبوں، یتیموں، مسکینوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے کی بھی تعلیم دی۔ عید میلاد النبی کے موقع پر اگر ہم اپنے اردگرد موجود ضرورت مند لوگوں کی مدد کریں، کسی غریب کے گھر راشن پہنچائیں، کسی یتیم بچے کو خوشی دیں یا کسی پریشان انسان کے کام آئیں تو یہ نبی کریم کی تعلیمات پر عملی عمل ہوگا۔ معاشرے میں محبت اور ہمدردی کو فروغ دینا ہی آپ کی سیرت کا ایک اہم پیغام ہے۔آپ نے علم حاصل کرنے کی بھی ترغیب دی۔ اسلام میں علم کو بہت اہم مقام حاصل ہے۔ ایک تعلیم یافتہ معاشرہ ہی ترقی اور خوشحالی کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ آج کے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات اور سیرتِ نبوی کا بھی مطالعہ کریں۔ انہیں اپنی زندگی میں محنت، دیانت، نظم و ضبط اور مثبت سوچ کو اپنانا چاہیے۔ اگر نوجوان سیرتِ نبوی سے رہنمائی حاصل کریں تو وہ اپنے ملک اور معاشرے کے لیے بہترین کردار ادا کر سکتے ہیں۔نبی کریم نے معاشرے میں امن اور بھائی چارے کو فروغ دیا۔ آپ نے نفرت، تعصب اور انتقام کے بجائے معافی، برداشت اور محبت کا راستہ اختیار کیا۔ آج دنیا مختلف مسائل، جنگوں، نفرتوں اور اختلافات کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں سیرتِ نبوی ہمارے لیے روشنی کا مینار ہے۔ اگر ہم آپ کے امن، انصاف اور رواداری کے پیغام کو اپنائیں تو معاشرے میں بہت سی مشکلات کم کی جا سکتی ہیں۔عید میلاد النبی ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوں۔ ہمیں فرقہ واریت، نفرت اور تعصب سے بچنا چاہیے اور اتحاد و اتفاق کو فروغ دینا چاہیے۔ ایک دوسرے کی عزت کرنا، اختلاف کے باوجود برداشت کا مظاہرہ کرنا اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا اسلامی تعلیمات کا اہم حصہ ہے۔پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور یہاں عید میلاد النبی کو بڑی عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔ اس دن مختلف مقامات پر محافلِ میلاد، نعتیہ پروگرام اور سیرت کانفرنسیں منعقد ہوتی ہیں۔ سرکاری و نجی عمارتوں کو سجایا جاتا ہے اور مختلف علاقوں میں جلوس بھی نکالے جاتے ہیں۔ ان تمام سرگرمیوں میں نظم و ضبط، امن اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا ضروری ہے تاکہ اس مقدس دن کی خوبصورتی اور وقار برقرار رہے۔ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ نبی کریم کی محبت صرف ایک دن یا ایک موقع تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ آپ سے محبت ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہنی چاہیے اور ہماری روزمرہ زندگی میں نظر آنی چاہیے۔ ہماری گفتگو، معاملات، کاروبار، تعلیم، ملازمت، رشتے اور معاشرتی رویے سب میں سنتِ نبوی کی جھلک نظر آنی چاہیے۔آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ عید میلاد النبی ہمیں محبتِ رسول ، اطاعتِ رسول اور سیرتِ رسول پر عمل کا پیغام دیتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس مبارک موقع پر صرف خوشی کا اظہار نہ کریں بلکہ اپنی زندگی کو نبی کریم کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کا عہد بھی کریں۔ سچائی، امانت، عدل، محبت، برداشت، خدمتِ خلق اور حسنِ اخلاق کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے ہم ایک بہتر انسان، بہتر مسلمان اور بہتر معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ کی سچی محبت عطا فرمائے، آپ کی سیرتِ طیبہ کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے، اور ہمارے ملک و معاشرے کو امن، خوشحالی، اتحاد اور محبت کا گہوارہ بنائے۔ آمین یا رب العالمین۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے