#کالم

سول سروس،ملتان اور عوامی خدمت کا نیا عہد

Untitled 11

شفقت اللہ مشتاق

صوبائی سول سروس پنجاب کی بھی ایک اپنی تاریخ ہے اور یہ تاریخ کام، کام اور کام سے رقم ہے۔ اس سروس کے لوگ مجموعی طور پر محنتی اور سمجھدار ہوتے ہیں۔ مجسٹریسی کے دوران ان کو بہت تجربات حاصل ہوجاتے تھے۔ عدالت تو وہ کرتے ہی تھے۔ پولیس مجسٹریسی کا لا اینڈ آرڈر کے سلسلے میں بہت ہی اہم کردار تھا ان کو گراس روٹ لیول پر کام کرنا ہوتا تھا۔ یوں مینیجمنٹ کے وہ ماہر ہو جاتے تھے۔ ویسے بھی میجسٹریٹ ڈپٹی کمشنر کی ٹیم کے انتہائی اہم ارکان ہوتے تھے جن کی مدد سے سرابرہ ڈسٹرکٹ ہر اہم کام کرواتا تھا۔ ان کی بھی ایسی گرومنگ ہوجاتی تھی کہ "نو” کا لفظ ان کے کاغذات سے مکمل طور پر نو دو گیارہ جاتا تھا وہ ملکی مفادات کے لئے کوئی بھی خطرہ مول لے لیتے تھے۔ ڈپٹی کمشنر کے منہ سے نکلا لفظ ان کے ہاں حرف آخر ہوتا تھا وہ اپنے باس کے پیچھے بات نہیں کرتے تھے وہ یا تو ریاست اور باس کے لئے بات کرتے تھے یا پھر اپنے افسر کے ساتھ پورے اعتماد سے بات کرکے اس پر اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی دھاک بٹھادیتے تھے اور اس کے بعد جس دفتر میں چاہتے تھے بیٹھ جاتے تھے اور اس دفتر کی ہر چیز ان کے گرد گھومتی تھی۔ کچھ ایسے افسروں کو ہم نے خود دیکھا ہے جن کا باقاعدہ ملازمت کے دوران اور ملازمت کے بعد بھی نام چلتا ہے۔ ان میں سید فضل حسین شاہ، غلام مرتضی پراچہ، مرتضی برلاس، اعتزاز الرشید، عامر خان، سید آل احمد، سید منو چہر، سید مسعود شاہ، عبد الحکیم، چوہدری ظفر اقبال، میاں کمال الدین، افسر ساجد، رائے محمد امین خان، محمد اشرف چوہدری، سردار اکرم جاوید، میاں نذیر احمد، مشتاق انجم، ملک محمد بخش، محمد آصف چوہدری، سلطان محمود خان، نسیم صادق۔ لیاقت علی چٹھہ، ظفر سلیم گوندل، ڈاکٹر ارشاد احمد، شاہد نیاز، نوید حیدر شیرازی، سید شعیب بخاری، جاوید اقبال بخاری اور بے شمار جن کے ناموں کی فہرست طویل ہے اور زیر نظر کالم کا دامن انتہائی تنگ۔ ایسے افسران کا اوڑھنا بچھونا ریاستی مفاد، میرٹ کی پاسداری اور احساس ذمہ داری۔ یہ تسلسل آج بھی قائم ودائم ہے۔ آج بھی افق سول سروس پر متعدد نام کیس سٹڈی ہیں اور وہ اپنے سابقین کے تسلسل کو پورے جذبے، ولولے اور استقامت سے آگے بڑھا رہے ہیں۔ عصر حاضر سول سروس کا ایک درخشندہ دور تاہم وفاقی سول سروس اور صوبائی سول سروس کا قومی اتحاد وقت کا تقاضہ ہے اور تقاضے مل ملا کر ہی پورے کئے جاتے ہیں۔گذشتہ دنوں ملتان سے ایک پارسل آیا۔ اس کے اندر کتاب معلوم ہوتی تھی۔ کتاب ہماری ویسے بھی مجبوری ہے حالانکہ ہم مجبور محض نہیں ہیں محنت اور لگن سے جب چاہیں حالات بدل دیتے ہیں اور ویسے بھی دنیا کی کہانی کے حالات وواقعات میں انسان ہی کا تو کردار ہے اور اپنے کردار سے اس نے اپنے آپ کو اشرف المخلوقات ثابت کرنا ہے۔ ہمہ وقت چل سو چل اور آگے بڑھنا اور آگے بڑھتے چلے جانا۔ خیر مذکورہ پارسل میں ایک کتابچہ برآمد ہوا جو کہ کمشنر ملتان نے میرے لئے بھیجا تھا۔ ملتان ہمیشہ ہی میرے لئے توجہ کا مرکز رہا ہے بلکہ میرے لئے تو کیا ہر شخص کے لئے کیونکہ برصغیر پاک وہند میں مسلمانوں کی تاریخ کا ایک اہم موڑ جب محمد بن قاسم ملتان تک آیا اور یوں سندھ سے مسلمانوں نے برصغیر پاک وہند میں رسائی حاصل کی اور آنے والے وقتوں میں سندھ سے ہند تک مسلمانوں کی حکومت قائم ہوگئی۔ ویسے ملتان بابوں کا شہر اور بابوں کی نظر کا فیض(در دست نہ تیر است نہ بردوش کمان است۔۔ایں سادگی ہست کہ بسمل دوجہان است) ملتان علم وتحقیق کا مرکز بن گیا اور یہاں سے ہی علم وحکمت کی کرنیں پھوٹیں اور یہ سارا علاقہ سوچ کے اعتبار سے بیدار ہو گیا۔ روحانیت کی بھی ایک دنیا ہے۔ روحانیت اور سول سروس کا بھی آپس کا ایک تعلق ہے۔ حوالے کے لئے شہاب نامہ کا باب ” چھوٹا منہ بڑی بات” ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ ویسے میں بچپن اور لڑکپن میں لائلپور کی نسبت ملتان زیادہ جایا کرتا تھا کیونکہ ہمارے لوگ علاج معالجے کے لئے نشتر ہسپتال ملتان کا رخ کرتے تھے۔ میرے مہربان اور ممدوح حفیظ اللہ اسحاق بھلے وقتوں میں ڈپٹی کمشنر ملتان بھی رہے اور وہاں پر ان کے بڑے بیٹے حارث حفیظ قتل ہوگئے تھے جن کے نام پر میرے گاوں کا نام حارث آباد رکھا گیا۔میں نے 1996 سے 1999 تک خانیوال میں بطور تحصیلدار اور مجسٹریٹ بھی کام کیا ہے۔یہ پس منظر بیان کرنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ میرے لئے ملتان کا علاقہ کسی طرح بھی اجنبی نہیں ہے اور میں نے ملتان کو آنکھیں کھول کر دیکھا ہوا ہے۔ میں سید یوسف رضا گیلانی کے دور وزارت عظمی سے پہلے والے ملتان کو بھی جانتا ہوں اور بعد والا ملتان اب میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ ڈپٹی کمشنر یا ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن افسرز آتے جاتے رہے ہر کسی نے اپنی اپنی اہلیت اور صلاحیت کے مطابق یعنی حصہ بقدر جثہ اپنا اپناحصہ ڈالا اور پھر آج کا ملتان اور حکومت پنجاب کا منفرد فیصلہ۔ عامرکریم کا بطور کمشنر تعینات کیا جانا۔ اقتدار کے ایوانوں سے لے کر ضلعی اور ڈویڑنل انتظامیہ کے میدانوں میں چلتا پھرتا اور دکھائی دیتا بلکہ انمٹ نقوش چھوڑتا، عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے ختم کرتا ہوا اور سول سروس کے قیام کی روح کے مطابق کام کرتا ہوا صوبائی سول سروس کا جہاندیدہ اور زیرک افسر آپ کو نظر آتا ہے۔ اللہ تعالی اس کو نظر بد سے بچائےمتذکرہ بالا کمپوڈیم کا ایک ایک لفظ، ایک ایک سطر اور ہر ہر باب بولتا ہے اور آنکھوں دیکھا حال بیان کرتا ہے۔ وزیر اعلی پنجاب محترمہ مریم نواز کی بصیرت اور ہوشمندی کا کمال۔ گراس روٹ لیول اور ڈھانچہ جاتی تبدیلیاں اور اس سارے پروگرام کے لئے مطلوبہ ترامیم، پرانے اداروں کی تعمیر نو اور نئے ضروری اداروں کا قیام۔ افرادی قوت کی مناسب تربیت اور گڈ گورنس کے لئے جزا سزا کا زبردست نظام۔ عوامی نمائندوں کے کردار کا ازسر نو تعین، پیچیدہ اور پرانے مسائل کے حل کے لئے پیچیدگیوں کا مکمل خاتمہ، عوام پہلی اور آخری ترجیح یعنی ٹاپ پرارٹی۔ ان سارے کاموں کو عملی شکل دینا بیوروکریسی کا بنیادی کام ہے۔ حکومت پنجاب کی پالیسیاں، ان کا عملدرآمد، آج کا ملتان اور عوام کی بڑھتی ہوئی توقعات اور خصوصا کمشنر اور ڈپٹی کمشنر سے توقعات اور پھر ملتان کی آج کی کہانی مذکورہ دستاویز میں پوری طرح نہ صرف پڑھی جاسکتی ہے بلکہ بچشم خود دیکھی جا سکتی ہے۔ ملتان کا ہر کونہ کھدرا صاف نظر آتا ہے۔ ملتان میں ناجائز تجاوزات کا خاتمہ اور اس کے نتیجے میں متاثر ہونے والے شہریوں کے لئے روزگار کے مناسب اقدامات، اداروں کی کارکردگی پر خصوصی نظر اور آئندہ کے لائحہ عمل کے لئے بروقت فیصلے، حکومتی پالیسیوں کے عملدرآمد کے سلسلے میں زیرو ٹالرنس، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کسی بھی ملک کی تعمیروترقی کی ضمانت اور ملتان کی خوبصورتی کے لئے مذکورہ پارٹنرشپ کے ثمرات۔ اداروں پر عوام کے اعتماد کی بحالی اور کمشنر ملتان عوام کے درمیان اور سب کے دکھ سکھ میں شریک۔ عوام پر سب دفاتر کے دروازے جب کھلتے ہیں پھر تو کتابیں تخلیق ہوتی ہیں اور پھر تاریخ رقم ہوتی ہے اور تاریخ کے جاندار کردار ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہوجاتے ہیں

سول سروس،ملتان اور عوامی خدمت کا نیا عہد

زمانہ کیا کہے گا؟

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے