زیست کا زندہ جہنم اور جابرانہ رویّے
رفیع صحرائی
سانحہ پمز پر پوری قوم دکھی اور غم زدہ ہے۔ اسپتال تو انسان کی زندگی بچانے کی آخری امید ہوتا ہے، وہاں اگر کسی ماں کی گود اجڑ جائے، کسی باپ کا چراغ بجھ جائے اور کسی خاندان کی خوشیاں ماتم میں بدل جائیں تو یہ محض ایک طبی واقعہ نہیں رہتا بلکہ پورے نظامِ صحت کے لیے ایک بڑا سوال بن جاتا ہے۔ ایسے موقع پر حکومت، انتظامیہ اور طبی عملے سے سب سے پہلا تقاضا ہمدردی، تحمل، شفاف تحقیقات اور جواب دہی کا ہوتا ہے، مگر افسوس کہ سانحہ پمز کے بعد بعض ذمہ دار شخصیات کا لہجہ غم زدہ خاندانوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے انہیں مزید کریدتا دکھائی دیا۔وزیراعظم صاحب نے واقعے پر برہمی کا اظہار کیا اور وفاقی سیکریٹری صحت کو معطل کرکے اجلاس سے بھی نکال دیا۔ بظاہر یہ سخت کارروائی ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا صرف معطلی سے نظام کی خرابی دور ہو جائے گی؟ سرکاری افسر کی معطلی ہمارے ہاں اکثر سزا سے زیادہ ایک عارضی وقفہ بن جاتی ہے۔ سرکاری رہائش برقرار، تنخواہ اور مراعات برقرار، پروٹوکول اپنی جگہ اور کچھ عرصے بعد کسی دوسرے منصب پر واپسی بھی ممکن۔ عوام پوچھتے ہیں کہ اگر کسی افسر کی غفلت اتنی سنگین تھی کہ اسے اجلاس سے نکال کر معطل کرنا پڑا تو پھر تحقیقات مکمل ہونے تک اس کی ذمہ داری، اختیارات اور مراعات کا کیا ہوگا؟ اور اگر غفلت ثابت نہیں ہوتی تو پھر اتنی بڑی کارروائی کیوں؟یہی وہ مقام ہے جہاں ریاستی جواب دہی محض دکھاوے سے نکل کر عملی نظام بننے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ عوام کو ایک افسر کی معطلی نہیں، انصاف چاہیے۔ انہیں یہ جاننے کا حق ہے کہ سانحہ کیوں پیش آیا، کس کی ذمہ داری تھی، کہاں انتظامی یا طبی کوتاہی ہوئی، آئندہ ایسے واقعات روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے اور ذمہ دار ثابت ہونے والوں کے خلاف کیا کارروائی ہوگی۔وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال بھی میڈیا سے گفتگو میں خاصے برہم نظر آئے۔ وزیر صاحب کو یہ بات یاد رکھنا ہوگی کہ وزارتِ صحت کسی سیاسی جماعت کا جلسہ نہیں بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کی زندگیوں سے متعلق ذمہ داری ہے۔ وزیر کو سیاسی کارکن کے غصے کے بجائے ریاستی ذمہ دار کے تحمل اور وقار کے ساتھ بات کرنا ہوتی ہے۔ پمز اور پولی کلینک اسلام آباد کے بڑے سرکاری ہسپتال ہیں۔ اگر وفاقی دارالحکومت کے ان اہم ترین طبی مراکز میں بنیادی سہولیات، انتظامی نظم اور مریضوں کے تحفظ کے مسائل موجود ہیں تو سب سے پہلے وفاقی وزارتِ صحت کو اپنے گھر کی خبر لینی چاہیے۔یہاں سب سے زیادہ تکلیف دہ معاملہ شاید وہ رویہ ہے جو غم زدہ لواحقین کے ساتھ اختیار کیا گیا۔ گائنی ڈیپارٹمنٹ کی ڈاکٹر آصفہ کی میڈیا گفتگو میں یہ تاثر نمایاں تھا کہ ”کچھ بھی غلط نہیں تھا، سب کچھ بروقت اور درست تھا۔“ اگر واقعی طبی عملے کی طرف سے کوئی کوتاہی نہیں ہوئی تو اس کا فیصلہ ایک آزاد اور شفاف انکوائری سے ہونا چاہیے، نہ کہ پریس کانفرنس میں۔ ڈاکٹر کا کام صرف مریض کا علاج کرنا نہیں، مریض اور اس کے خاندان کے خوف، اضطراب اور دکھ کو سمجھنا بھی ہے۔یہ کہنا کہ عوام کو معلوم ہی نہیں کہ انکیوبیٹر میں بچوں کو کیوں رکھا جاتا ہے، یا عوام سیدھا گریبان پکڑ لیتے ہیں، کسی بھی صورت میں ایک مہذب اور ذمہ دار طبی ادارے کے شایانِ شان نہیں۔ ایک نومولود کی موت پر سوال کرنے والے والدین طبی ماہر نہیں ہوتے، وہ صرف اپنے بچے کے والدین ہوتے ہیں۔ انہیں شاید وینٹی لیٹر، انکیوبیٹر، پری میچورٹی، آکسیجن سیچوریشن یا پلمونری پیچیدگیوں کی اصطلاحات کا علم نہ ہو، مگر انہیں اپنے بچے کے زندہ رہنے کی خواہش کا پورا حق ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ اگر طبی اعتبار سے درست تھیں تو بھی لہجہ غلط ہوسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ علم انسان کو ماہر بناتا ہے، مگر احساس انسان کو انسان بناتا ہے۔ ایک ڈاکٹر کی زبان میں اعتماد ضرور ہونا چاہیے، تکبر نہیں؛ وضاحت ہونی چاہیے، تحقیر نہیں؛ دلیل ہونی چاہیے، طنز نہیں۔یہاں ایک بنیادی اصول سمجھنے کی ضرورت ہے: غم زدہ خاندان دشمن نہیں ہوتے۔ وہ سوال کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ڈاکٹرز کے دشمن ہیں۔ وہ جواب چاہتے ہیں کیونکہ ان کے گھر کا فرد اسپتال آیا تھا، اور اسپتال ریاست کے نظامِ صحت کا حصہ ہے۔ عوام اپنے ٹیکسوں سے اس نظام کو چلاتے ہیں۔ سرکاری ہسپتال کسی پر احسان نہیں کرتے؛ وہ ریاست کی ذمہ داری پوری کرتے ہیں۔ اگر کسی اسپتال میں واقعی کوئی غفلت نہیں ہوئی تو شفاف تحقیقات خود طبی عملے کی عزت بحال کریں گی۔ اگر کوتاہی ہوئی ہے تو کسی عہدے، وردی، ڈگری یا منصب کو انسانی جان سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔ ترقی یافتہ معاشروں میں طبی غلطی چھپانے کے بجائے اس سے سبق سیکھا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ ہم اکثر ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بھی سوچنا ہوگا کہ سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کا معیار طبقاتی تقسیم کا شکار کیوں ہے؟ ایک طرف ایسے خاندان ہیں جو نجی اسپتال کے بھاری اخراجات برداشت کرسکتے ہیں اور دوسری طرف وہ غریب ماں باپ ہیں جن کے لیے پمز ہی آخری امید ہے۔ اگر سرکاری ہسپتال میں آنے والا غریب مریض خود کو بے بس، بے توقیر اور غیر محفوظ محسوس کرنے لگے تو پھر ریاستی فلاح کا تصور کہاں باقی رہ جاتا ہے؟صحت کارڈ جیسی سہولتوں کی سیاسی بنیادوں پر حمایت یا مخالفت سے قطع نظر، اصل ضرورت یہ ہے کہ کسی بھی حکومت کی صحت پالیسی کا مرکز غریب شہری ہونا چاہیے۔ علاج سہولت نہیں، بنیادی انسانی ضرورت ہے۔ کسی بچے کی زندگی اس لیے کم قیمتی نہیں ہوسکتی کہ اس کا باپ ایک مزدور، کسان، رکشہ ڈرائیور یا معمولی سرکاری ملازم ہے۔سانحہ پمز کو بھی چند دن کی خبروں، پریس کانفرنسوں، معطلیوں اور بیانات کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ ایک آزاد، غیر جانب دار اور ماہرین پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی بنائی جائے، رپورٹ عوام کے سامنے لائی جائے، ذمہ داروں کا تعین ہو اور اصلاحات کے لیے واضح ٹائم لائن مقرر کی جائے۔ پمز اور پولی کلینک میں ایمرجنسی، گائنی، نوزائیدہ بچوں کی نگہداشت، آکسیجن، انکیوبیٹرز، تربیت یافتہ عملے اور بائیو میڈیکل آلات کا باقاعدہ آزادانہ آڈٹ بھی ہونا چاہیے۔حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، وزرا تبدیل ہوتے رہتے ہیں، سیکریٹری ریٹائر ہوکر گھر چلے جاتے ہیں، مگر مرنے والے بچے واپس نہیں آتے۔ یہی اس سانحے کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ خدارا غم زدہ والدین کو خاموش کرانے کے بجائے ان کی آواز سنیے۔ انہیں جاہل، جذباتی یا بے خبر قرار دینے کے بجائے جواب دیجیے۔ اگر نظام درست ہے تو شفاف تحقیقات سے یہ ثابت کیجیے اور اگر نظام میں خرابی ہے تو اسے درست کیجیے۔ کیونکہ اسپتال میں آنے والا مریض حکومت کا مخالف نہیں، ریاست کی امانت ہوتا ہے۔پمز کے سانحے کا اصل امتحان یہ نہیں کہ کتنے افسر معطل ہوئے، کتنی پریس کانفرنسیں ہوئیں یا کتنے بیانات جاری ہوئے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ کیا آئندہ کسی ماں کو اپنے بچے کی لاش اٹھا کر یہ سننا پڑے گا کہ ”سب کچھ ٹھیک تھا“؟ اگر اس سوال کا جواب نفی میں دینا ہے تو پھر آج ہی نظام بدلنا ہوگا، رویے بدلنے ہوں گے اور سب سے بڑھ کر یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ سرکاری ہسپتالوں میں آنے والے غریب بھی اتنی ہی قیمتی جانیں رکھتے ہیں جتنی قیمتی جانیں اس ملک کے طاقتور اور اشرافیہ کے بچے رکھتے ہیں






