#کالم

صوبہ بہاولپور کے لیے بلند آوازیں

Untitled 5

جاویدایازخان

صوبہ بہاولپور کی بحالی کا مطالبہ اور پرنس بہاول خان عباسی ولی عہد امیر آف بہاولپور کا تحریک کی خود قیادت کرنے کا اعلان ایک ویڈیو پیغام کی صورت سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکا ہے۔ نواب آف بہاولپور کے پوتے پرنس بہاول خان عباسی ولی عہد امیر آف بہاولپور نے صوبہ بہاولپور کو فوری بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اس مقصد کے لیے جاری تحریک کی خود قیادت کریں گے۔ پرنس بہاول خان عباسی نے یاد دہانی کرائی کہ ون یونٹ کی تشکیل کے وقت صوبہ بہاولپور کو بعد میں بحال کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن بعد میں اسے پنجاب میں شامل کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں صوبہ بہاولپور کی حیثیت تسلیم کر چکی ہیں جبکہ پنجاب اور قومی اسمبلی سے اس کی بحالی کی قراردادیں بھی پاس ہو چکی ہیں، جن پر اب فوری عملدرآمد ہونا چاہیے۔پرنس بہاول خان عباسی ولی عہد امیر آف بہاولپور کے صوبہ بہاولپور کے قیام اور اس کی بحالی کی تحریک کی قیادت کرنے کا عزم ایک پیغام کی صورت سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تو پورے بہاولپور کےعوام نے ان کے اس فیصلے کا شاندار خیر مقدم کیا ہے۔اگر یہ ان کے صوبہ بہاولپور کی بحالی کی جدوجہد کی قیادت سنبھالنے یا اسے آگے بڑھانے کا فیصلہ ہے تو اسے محض ایک خاندانی یا جذباتی فیصلہ سمجھنا ہی درست نہیں ہوگا بلکہ یہ فیصلہ تاریخی ذمہ داری اور سیاسی جدوجہد دونوں حوالوں سے اہم قرار دیا جاسکتا ہے۔کیونکہ بہاولپور صوبے کی جدوجہد اور مطالبہ پچھلے چھپن سال سے کسی نہ کسی شکل میں جاری رہا ہے۔کیونکہ بہاولپور ریاست قیام پاکستان کے وقت پاکستان سے الحاق کرنے والی اولین ریاست تھی اور نواب سر صادق محمد خان عبای پنجم نے پاکستان کے استحکام کے لیے ریاست کے تمام تر وسائل بھی پیش کئے تھے۔پاکستان کی آزادی کے بعد یہ ریاست ایک الگ صوبے کی حیثیت سے کام کرتی رہی اور بعد ازاں ۱۹۵۵ ئ میں ریاست کا الگ انتظامی تشخص ختم کرکے اسے ون یونٹ میں شامل کردیا گیا اور جب ون یونٹ توڑا گیا تو اسکی صوبائی حیثیت بحال کرنے کی بجاے اسے صوبہ پنجاب کا حصہ بنا دیا گیا۔اس لیے یہ صوبے کا مطالبہ ہرگز نیا نہیں ہے نواب خاندان طویل عرصے سے بہاولپور صوبے کی بحالی کی بات کرتا چلا آیا ہے۔خود موجودہ امیر آف بہاولپور نواب صلاح الدین عباسی بھی اس تحریک کے نمائیاں علمبردار رہے ہیں۔پرنس بہاول خان عباسی کا صوبے کے بارے میں یہ پیغام اسی تاریخی تسلسل کا حصہ ہے۔بہاولپور کا مطالبہ صرف جذباتی ماضی پرستی نہیں ہے بلکہ اس بنیاد پر ہے کہ جنوبی پنجاب کے اس خطے کے انتظامی ،معاشی اور عوامی مسائل ایک الگ صوبائی انتظام سے زیادہ موثر انداز میں حل ہو سکتے ہیں۔پرنس بہاول خان عباسی اور ان کے عباسی خاندان سے یہاں کے لوگوں کی عقیدت اور محبت صدیوں سے چلی آرہی ہے۔یوں ان کی قیادت کا سب سے بڑا اعزاز یہ ہوگاکہ جو صوبہ صرف ایک خاندان کی تاریخ سے وابستہ تھا وہ اسے وہ عوام کے مستقبل کی تحریک میں بدل رہے ہیں۔بہاولپور صوبہ صرف نواب خاندان کا مسئلہ نہیں بہاولپور کے کڑوروں عوام کا انتظامی اور سیاسی مسئلہ ہے۔عباسی خاندان کی قیادت پر بہاولپور کے عوام کا ہر مکتبہ فکر ہمیشہ مکمل اعتماد ہی نہیں کرتا بلکہ ان پر فخر بھی کرتا ہے۔ اپنے پیغام میں انہوں نے ریاست بہاولپور اور اپنے خاندان کی پاکستان کے استحکام کے لیے کی جانے والی قربانیوں اور کوششوں کا ذکر کیا ہے وہ یقینا” قابل قدر ہیں۔خاندان عباسیہ کے تمام سیاسی لیڈروں نے ہمیشہ مثبت سیاسی کردار ادا کیا ہے اور ہمیشہ پاکستان کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔پاکستان اور بہاولپور کے عوام سے محبت ان کے خون میں شامل ہے۔ ویسے تو ہر الیکشن سےقبل صوبہ بہاولپور کا مطالبہ اور شور زور پکڑ لیتا ہے مگر اس مرتبہ ہمارے سینئر وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی صاحب کے بیان کی وجہ سے یہ نعرہ وقت سے پہلے ہی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ہر میڈیا چینل اس پر بات کر رہا ہے اور سوشل میڈیا پر ہر شخص بہاولپور کے صوبہ کی بات کرتا نظر آتا ہے۔ضمنی الیکشن کی گہماگہمی میں بہاولپور صوبہ مرکزی حیثیت حاصل کرتا چلا جارہا ہے۔یہاں کے لوگوں کے دیرینہ خواب کے پورا ہونے کو تقویت بہت ہی سینئر سیاسی رہنما طارق بشیر چویدری صاحب کے بیان سے بھی ہوتی ہے جن کے مطابق دسمبر تک بہاولپور صوبہ بننے کے قوی امکانات کا اظہار کیا گیا ہے۔وہ بھی اپنی زندگی اور اپنے اس دورانیے میں بہاولپور صوبہ دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔پی ٹی آ ئی کی جانب سے بائیکاٹ کے اعلان سے جہاں نئی سیاسی صف بندی سامنے آرہی ہے وہیں صوبہ بیاولپور کے بارے میں ان جماعتوں کا موقف بھی اہم کردار ادا کرتا نظر آتا ہے۔نواب بہاولپور کے ولی عہد بہاول خان عباسی کے صوبے کے بارے میں اپنے تازہ ترین پیغام اور مطالبے نے بھی اس میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ عوامی خواہشات میں بہاولپور صوبہ کی بحال یا قیام کا مطالبہ سرفہرست دکھائی دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا صوبہ بننے سے یہاں کی موجودہ عوامی مشکلات اور مسائل میں کمی لائی جاسکتی ہے ؟ تو یقینا” ایک چھوٹا انتظامی یونٹ عوام کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔پاکستان مسلم لیگ نون پہلے ہی صوبہ بحالی کی قرارداد صوبائی اسمبلی سے منظور کرا کر اپنا موقف پیش کر چکی ہے اور اب پیپلز پارٹی بھی بہاولپور صوبہ کی حمایت کرتی نظر آرہی ہے۔گویا ہر سطح پر سب کو بہاولپور کی محرومیوں کا واحد حل صوبے کی بحالی یا قیام میں دکھائی دے رہا ہے۔ایسے میں اس تحریک کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا بےحد ضروری ہے اور شاید یہی فریضہ ادا کرنے کے لیے پرنس بہاول خان عباسی نے قدم آگے بڑھایا ہے۔میرے خیال کے مطابق بحالی صوبہ بہاولپور کے لیے کام کرنے والی تمام تنظیموں کو پرنس بہاول خان عباسی کی قیادت میں یکجا ہو کر عوامی مشکلات اور محرومیوں کے خاتمے اور صوبہ کے قیام کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنی چاہیے۔پرنس بہاول خان عباسی ولی عہد بہاولپور کو چاہیے کہ پچھلے چھپن سال سے جدوجہد کرنے والےمخلص کارکنوں اور لیڈروں کو اپنی قیادت میں ایک چھتری تلے اکھٹا کرکے اس سفرکو جاری رکھیں۔آج کا نوجوان بہاولپور سے ایک ایسی نوجوان غیر متنازعہ اور غیر جانبدار قیادت کی تلاش میں تھا جو پرنس بہاول خان عباسی کی صورت میں میسر آ سکتی ہے۔ توقع یہ کی جارہی ہے کہ مستقبل میں ان کی باصلاحیت قیادت اس بہاولپور صوبہ بحالی کے ماحول اور تحریک کو مزید بہتر بنا سکے گی اور تمام تر سیاسی وابستگیوں سے ہٹ کر ان کی غیر متنازعہ قیادت بحالی صوبہ کے لیے ان سب کو اکھٹا کرنے میں اپنا بہترین کردار ادا کر سکے گی۔تاکہ بہاولپور کے تمام لوگوں ہر طرح کی سیاسی سوچ اور وابستگی سے بالا تر ہوکر اپنے بہاولپور صوبہ کے حصول پر توجہ دیں۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے