اجڑی گودیں اور بے حس نظام
زاہد اقبال ملک
ماں کے لیے دنیا کا سب سے حسین لمحہ وہ ہوتا ہے جب وہ نو ماہ کی تکالیف دعاو¿ں اور امیدوں کے بعد اپنے نومولود بچے کو پہلی مرتبہ اپنی آنکھوں سے دیکھتی اور سینے سے لگاتی ہے۔ مگر کیا گزرے گی ا±س ماں کے دل پر جسے اپنے لختِ جگر کو پیار سے دیکھنے کا موقع بھی نہ ملے اور چند گھنٹوں بعد یہ خبر سننا پڑے کہ جس اسپتال کو اس کے بچے کی زندگی کا محافظ سمجھا گیا تھا، وہی اس کے لیے موت کا گھر بن گیا۔ 26 اگست 2026 کو اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کی نرسری میں لگنے والی آگ نے 14 نومولود بچوں کی جان لے لی۔ یہ صرف چودہ بچوں کی موت نہیں بلکہ چودہ خاندانوں کے خوابوں چودہ ماو¿ں کی امیدوں اور چودہ گھروں کی خوشیوں کا جنازہ ہے۔ وہ مائیں شاید ابھی اپنے بچوں کو بھرپور انداز میں دیکھ بھی نہ پائی تھیں کہ ان کی گود اجڑ گئی۔ حکومت نے آگ لگنے کے اسباب کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ ابتدائی طور پر نرسری میں آکسیجن کی موجودگی کے باعث آگ کی شدت بڑھنے کا پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے تحقیقات اور کارروائی کے احکامات بھی جاری کیے گئے مگر اصل سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا ہر سانحے کے بعد ایک انکوائری کمیٹی اور چند معطلیاں ہی ریاستی ذمہ داری کا آخری باب ہیں؟آگ لگ جانا ایک حادثہ ہو سکتا ہے، لیکن آگ سے بچاو¿ کے مو¿ثر انتظامات نہ ہونا بروقت انخلا کے نظام کی ناکامی حفاظتی آلات کی عدم فعالیت اور عملے کی مناسب تربیت کا فقدان حادثہ نہیں بلکہ انتظامی ناکامی ہے۔ پمز کے سانحے کی حتمی ذمہ داری تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی طے ہونی چاہیے مگر یہ سوال ضرور پوچھا جانا چاہیے کہ ملک کے سب سے بڑے سرکاری طبی اداروں میں سے ایک میں نومولود بچوں کی جانوں کے تحفظ کے انتظامات کس معیار کے تھے؟افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ ہمارے لیے کوئی پہلا سبق بھی نہیں۔ ماضی میں بھی سرکاری ہسپتالوں میں آتشزدگی اور حفاظتی انتظامات کی ناکامیوں نے سوالات اٹھائے تحقیقات ہوئیں اور کارروائیوں کے اعلانات بھی کیے گئے مگر ہم ایک سانحے سے سبق سیکھنے کے بجائے اگلے سانحے کا انتظار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اسی تناظر میں ساہیوال کے گورنمنٹ ٹیچنگ ہسپتال کی نرسری سے متعلق سامنے آنے والی تشویشناک اطلاعات حکومتِ پنجاب کے صحت کے شعبے میں بلند بانگ دعوو¿ں پر بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ طبی حلقوں سے سامنے آنے والے دعووں کے مطابق 30 بے بی کارٹس یا بیڈز کے مقابلے میں 184 نومولود بچوں کی موجودگی انتہائی سنگین معاملہ ہے جس کی فوری اور شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔ اگر یہ اعداد و شمار درست ہیں تو یہ محض انتظامی کمزوری نہیں بلکہ ایک ایسا وسائل کا بحران ہے جو کسی بھی وقت بڑے سانحے کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ایک بے بی کارٹ پر کئی بچوں کو رکھ کر آخر کس معیار کی طبی سہولت فراہم کی رہی ہیں؟ نومولود بچے عام مریض نہیں ہوتے۔ انہیں خصوصی نگہداشت مناسب درجہ? حرارت انفیکشن سے تحفظ اور مسلسل طبی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ گنجائش سے زیادہ بوجھ صرف سہولتوں پر نہیں پڑتا بلکہ ڈاکٹر نرسیں اور دیگر طبی عملہ بھی محدود وسائل کے ساتھ ایک ایسی جنگ لڑنے پر مجبور ہو جاتا ہے جس میں ان کے ہاتھ بندھے ہوتے ہیں۔ حکومتِ پنجاب صحت کے شعبے میں انقلابی اقدامات کے دعوے کرتی نظر آتی ہے۔ نئی عمارتوں جدید منصوبوں اور بہتر سہولتوں کے اعلانات ہوتے ہیں مگر عوام کا سوال ہے کہ کیا صحت کا معیار صرف اشتہارات افتتاحی تقریبات اور پریس کانفرنسوں سے بہتر ہو جاتا ہے؟ ایک ماں کو جدید ہسپتال کے بورڈ سے غرض نہیں اسے اپنے بچے کی زندگی چاہیے۔ غریب آدمی کو رنگین اشتہارات نہیں بلکہ بروقت اور محفوظ علاج درکار ہے۔ پنجاب حکومت کو ساہیوال سمیت صوبے بھر کے سرکاری ہسپتالوں کی نرسریوں NICU اور بچوں کے وارڈز کا فوری آڈٹ کرانا چاہیے۔ ہر ہسپتال کی اصل گنجائش موجودہ مریضوں کی تعداد دستیاب انکیوبیٹرز (Incubators)کارٹس اور طبی عملے کی تفصیلات سامنے آنی چاہییں۔ فائر سیفٹی آلات کی محض موجودگی کافی نہیں بلکہ ان کا فعال ہونا اور عملے کا انہیں استعمال کرنے کی تربیت یافتہ ہونا بھی ضروری ہے۔ دوسری جانب پمز وفاقی حکومت کے انتظامی دائرے میں آتا ہے اس لیے وفاقی حکومت بھی محض ایک تحقیقاتی کمیٹی بنا کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔ اگر وفاقی دارالحکومت کا سب سے اہم سرکاری ہسپتال نومولود بچوں کے تحفظ کے معاملے میں ایسے خوفناک سانحے کا شکار ہو سکتا ہے تو ملک کے دور دراز علاقوں کے چھوٹے ہسپتالوں کی حالت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ قوم اب محض اظہارِ افسوس نہیں بلکہ نتائج چاہتی ہے۔ ذمہ داروں کا تعین غفلت ثابت ہونے پر بلاامتیاز سزا متاثرہ خاندانوں کے ساتھ انصاف اور سب سے بڑھ کر عملی اصلاحات ہی اس سانحے کا حقیقی جواب ہوں گی۔ تمام سرکاری ہسپتالوں بالخصوص نرسریوں اور NICU کا ہنگامی بنیادوں پر فائر سیفٹی آڈٹ کیا جائے گنجائش سے زیادہ مریضوں کی صورت میں فوری اضافی سہولتیں اور عملہ فراہم کیا جائے ہنگامی راستوں اور فائر الارم کے نظام کو فعال بنایا جائے اور طبی عملے کو ایمرجنسی حالات سے نمٹنے کی باقاعدہ تربیت دی جائے۔ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہر سانحے کے بعد افسوس کا اظہار، تحقیقات کا اعلان اور کارروائی کی یقین دہانیاں تو سامنے آتی ہیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ مگر جن خاندانوں کے چراغ بجھ جاتے ہیں ان کے لیے زندگی کبھی معمول پر نہیں آتی۔ ریاست کی اصل پہچان صرف بلند و بالا عمارتوں اور ترقیاتی منصوبوں سے نہیں بلکہ اپنے سب سے کمزور شہری کی حفاظت سے ہوتی ہے اور نومولود بچے سے زیادہ کمزور اور بے بس کون ہو سکتا ہے؟ پنجاب اور وفاقی حکومتیں دعووں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کریں کیونکہ اگر ہسپتال جہاں زندگی بچانے کے لیے جایا جاتا ہے خود زندگی چھیننے کا خوف بن جائیں تو پھر ترقی کے تمام دعوے کھوکھلے محسوس ہوتے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ حکومتیں اشتہارات سے باہر نکلیں فائلوں سے آگے بڑھیں اور ہسپتالوں کی حقیقی حالت دیکھیں۔ ورنہ ایک اور سانحے کے بعد شاید ہمیں اپنے اجتماعی ضمیر کے جنازے پر بھی آنسو بہانے پڑیں۔






