#کالم

زمانہ کیا کہے گا؟

Untitled 14

ناصر نقوی

یہ مت دیکھیں کہ کون کہہ رہا ہے، دیکھنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کون کیا کہہ رہا ہے؟ بات سمجھ میں آ ئے تو پلے باندھ لیں ورنہ فکر ناٹ،، اس لیے کہ جس نے صرف فکر کی ، تدبیر نہیں کی وہ عشق شوگر،، میں مارا گیا بظاہر یہ یکطرفہ عشق ہے لیکن اس کے سہولت کر آ پ خود ہی ہوتے ہیں زیادہ سوچنا، پریشانیاں اور انداز زندگی کی بے ترتیبی آ دم زادوں اور زادیوں کو ایسے پیار میں جھگڑ لیتی ہے کہ شوگر جیسی بیماریوں کی ماں مقدر بن جاتی ہے ایسی صورتحال میں ہر دوسرا شخص آ پ کو تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں علاج کے طریقے بتائے گا جبکہ ڈاکٹرز صاحبان بڑی ذمہ داری سے تجویز دیں گے کہ اس یک طرفہ عشق کو نظر انداز نہ کریں ورنہ یہ کسی ظالم ترین دوشیزہ سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوگی لہذا اس کا خیال رکھیں اور ایک دل پسند محبوبہ کی طرح اس کے 24 گھنٹے نخرے اٹھائیں تو یہ آ پ کو کچھ نہیں کہے گی ورنہ یہ بے توجہ میں خطرناک ترین دشمن کی طرح انتقام لیتی ہے اس کی فکر کریں ،پریشان نہ ہوں نہ ہی اس کا ذکر کریں ورنہ زمانہ آ پ کو ہزاروں علاج، ٹوٹکے اور دم درود کے چکر میں ڈال کر گھن چکر،، بنا دے گا یاد رکھیں۔۔خوراک اور انداز زندگی میں تبدیلی بہترین علاج ہے مجھے تقریبا 30 سال پہلے اس عشق یکطرفہ،، کا سامنا ہوا جب اس نے جھٹکا دے کر دل کو قابو کیا تب پتہ چلا کیونکہ یکطرفہ عشق تھا لیکن معالج نے خبر دی کہ آ پ نے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے لائف سٹائل ،،میں اس کی حوصلہ افزائی کی لہذا اس نے سرچ چڑھ کر اپنی طاقت دکھا کر آ پ کو زیر کر لیا اب اس سے پیار کریں اس سے جان نہیں چھوٹنی، بات ایک گولی سے کئی گولیوں تک پہنچ گئی پھر بھی مزاج یار ٹھکانے نہیں آ ئے، انسولین جیسے آ ب حیات سے اسے منانے کی کوشش کی، تقریبا 15 سال سریجوں سے اپنے بدن پر حملہ آ ور رہے، پھر ایک روز ایک مریض نے تجویز دی کہ اے کلمہ گو۔۔۔ سورہ رحمن کا روز ورد اور ترجمہ سننے کے باوجود تم غافل ہو مالک تکرار کر رہا ہے کہ تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاو¿ گے ،،کیا اس کی نعمت صرف چاول، چینی اور چپاتی ہے انہیں ترک کر کے تمام نعمتوں سے لطف اندوز ہو ،تھوڑا سا لائف سٹائل،، بدلو ،تم بھی خوش اور یکطرفہ عشق والی شوگر محبوبہ بھی، زمانہ کہتا رہا، واہ۔۔ چاول، چپاتی اور چینی چھوڑ دیں تو کھائیں کیا ؟کام مشکل تھا مگر ناممکن نہیں، ہمت کی، اللہ کی مدد سے کامیاب بھی ہو گیا، نتیجہ بھی پرفیکٹ،، رھا انسولین،، سے صرف تین ماہ میں نجات مل گئی اور عشق و محبت بھی برابری کی سطح پر قائم ہے یعنی دونوں کنٹرول، وزن میں حیرت انگیز کمی بھی ہو گئی، زمانے نے بہت کچھ کہا اور کہہ بھی رہا ہے لیکن کوئی پرواہ اس لیے نہیں کی کہ جانتے ہیں جان ہے تو جہان ہے،،کے عشق کا فارمولا یہی ہے کہ اگر برابری اور ایک جیسا مساوی ہو تو راحت جان ورنہ وبال جان، اس لیے کبھی نہ گھبرائیں کہ زمانہ کیا کہے گا؟ آ پ جو چاہیں وہ کریں یا پھر جو لوگ چاہتے ہیں وہ کر دکھائیں، پھر بھی کچھ تو لوگ کہیں گے کیونکہ لوگوں کا کام ہے کہنا لہذا مت سوچیں کہ زمانہ کیا کہے گا ؟جو دل اور ذہن مانے اور اس کے مثبت نتائج کے امکانات زیادہ نظر آ ئیں نیک نیتی سے کر گزریں، وہ دیکھ بھی رہا ہے اور دلوں کے بھید بھی خوب جانتا ہے جو شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے موت برحق ہے اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، زندگی اس کی امانت ہے بس اس کے آ پ اچھے کئیر ٹیکر،، ثابت ہو ں حقیقت یہی ہے کہ کوئی نہیں دیکھتا کہ آ پ کسی اپنے پرائے کے لیے کتنا کچھ کرتے ہیں لیکن اپنے پرائے ہی نہیں، اردگرد بسنے والے بھی صرف وہی دیکھتے ہیں جو آ پ نہیں کرتے، خواہ اس کی وجوہات کچھ بھی ہوں، اس لیے یہ سب کچھ آ پ نے خود دیکھنا ہے کیونکہ بکھرنے اور نکھرنے میں صرف ایک نقطے کا اتار چڑھاو¿ ہے وہ نقطہ کوئی اور نہیں، آ پ خود ہیں یاد رکھیں، اگر آ پ جینے کے گر نہیں سیکھیں گے تو زمانہ آ پ کو گائیڈ نہیں، مس گائیڈ،، کرے گا زمانہ شناس، مال و دولت کے پجاری آ پ کو مشورہ دیں گے کمانے پر دھیان دو، زمانے پر نہیں، مشکل وقت میں پیسہ ساتھ دے گا زمانہ ہرگز نہیں، جس کی عقل میں یہ بات بیٹھ گئی وہ گیا کام سے ،اس لیے کہ پھر اس کے لیے پیسہ ہی سب کچھ قرار پا جاتا ہے جائز کہ ناجائز، یہ الگ بات ہے کہ وہ نہ دین کا رہا نہ دنیا کا ،اس کے من میں صرف دنیا اور ذہن میں یہی رہا کہ دنیا والوں سے نمٹنے کے لیے پیسہ ضروری ،توبہ کے دروازے کھلے ہیں اللہ معاف کرنے والا ہے وہ بھول گیا کہ بندے کا حق صرف بندہ ہی معاف کر سکے گا رب نہیں، اسی طرح اگر آ پ کا اٹھنا بیٹھنا کاروباری حلقوں میں ہے تو تجویز ملے گی کہ دوست اکٹھے مت کرو، یہ گھاٹے کا سودا ہے یہ وقت پڑنے پر بدل جاتے ہیں اور ان کے پاس اپنے آ پ کو درست ثابت کرنے کے لیے ہزاروں دلائل بھی ہوتے ھیں، اس لیے اچھے برے وقت، کامیابی، ترقی اور خوشحالی کے لیے نوٹ اکٹھے کرو، جو ہر اچھے برے وقت میں چل جاتے ہیں نئے ھوں کہ پرانے، ایسے میں آ دم زادے کنفیوز نہیں ہوں گے تو اور کیا ہوگا؟ علاج سیدھا سادہ ہے زمانے کی رنگینیوں میں گم ہونے سے بچیں ،اعتدال پسندی کا راستہ اختیار کریں ورنہ حضرت انسان کو بہکانے کے لیے شیطان اور اس کے چیلے ہر دم موجود ہیں اگر آ پ کا رشتہ رحمان سے مضبوط ہے اور آ پ صبر و استقامت کے ساتھ نیک نیت ہی نہیں ، جائز اور ناجائز کے بھی قائل ہیں تو پھر آ پ کا کوئی بال بیکا نہیں کر سکتا، اس لیے سوچنا چھوڑ دیں کہ زمانہ کیا کہے گا؟ زندگی کے کئی روپ ہیں اور اس پیکج میں کبھی خوشی اور کبھی غم بھی موجود ہے اس لیے خوشی ملے کہ غم، شکوہ خوشی اظہار بھی اسی سے کریں جو سب کچھ جانتا ہے اور آ پ کچھ نہیں جانتے، زمانے کے ساتھ چلنے والے ہی کامیاب و کامران قرار پاتے ہیں لیکن اندھی تقلید کی گنجائش نہیں، زمانہ کہتا ہے اور ہمیشہ کہتا ہی رہے گا ، اگر اسے پرکھنا ہے تو اس کے کسی ذمہ دار کو طاقت، اقتدار اور دولت دے دیں پھر اس کا کردار و کرامات دیکھ لیں، اس سے زیادہ زمانے کی تضاد بیانی اور کیا ہو سکتی ہے پھر یہ خوف کیسا کہ زمانہ کیا کہے گا؟ سمجھدار اور سیانے اسی لیے کہتے ہیں کہ اگر زمانے سے کچھ سیکھنے کی خواہش مند ہو تو وہ بولو کم اور خاموشی کا ہتھیار سنبھال لو کیونکہ خاموشی اختیار کر لینا کسی کی برتری کی علامت ہرگز نہیں بلکہ ترجیحات کا فرق ہے اس لیے کہ ہر بات اور ہر بندہ جواب کا مستحق نہیں ہوتا پھر کس بات کا ڈر زمانہ کیا کہے گا؟

زمانہ کیا کہے گا؟

جنت کے مسافر

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے