#کالم

داتا دربار کی تزئین چیف منسٹر مریم نواز صاحبہ کی خصوصی توجہ کی ضرورت

nadeem

محمد ندیم بھٹی

محترمہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ!
حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری المعروف داتا صاحب کا مزار صرف لاھور ھی نہیں بلکہ پورے برصغیر کے مسلمانوں کے لئے عقیدت، روحانیت اور محبت کا عظیم مرکز ھے۔ داتا دربار میں روزانہ ہزاروں زائرین حاضری دیتے ھیں، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے بھی عقیدت مند اس عظیم روحانی مرکز پر حاضر ھوتے ھیں۔ ایسے میں داتا دربار کی تزئین و آرائش کا منصوبہ طویل عرصے سے جاری رھنا اور اس کی رفتار انتہائی سست ھونا ایک سنجیدہ سوال بن چکا ھے۔اس منصوبے کو شروع ھوئے برس گزر چکے ھیں، مگر آج بھی اس کے کئی مراحل مکمل نہیں ھو سکے۔ احاطے میں تعمیراتی کام، فرش کی ناہمواری، جگہ جگہ موجود خردہ اور آمدورفت میں رکاوٹیں زائرین کے لئے مشکلات پیدا کر رہی ھیں۔ خاص طور پر بزرگ شہری، خواتین اور بچے اس صورتحال سے زیادہ متاثر ھوتے ھیں۔ ایک بزرگ زائر جو دور دراز علاقے سے صرف داتا صاحب کے دربار پر حاضری دینے آتا ھے، اس کے لئے ناہموار فرش اور تعمیراتی رکاوٹوں سے گزرنا یقیناً ایک تکلیف دہ مرحلہ ھوتا ھے۔یہاں سوال صرف تعمیراتی کام کی رفتار کا نہیں بلکہ منصوبہ بندی اور انتظامی نگرانی کا بھی ھے۔ اگر ایک منصوبہ کئی برس سے جاری ھے تو عوام یہ جاننے کا حق رکھتے ھیں کہ اس میں تاخیر کی بنیادی وجوہات کیا ھیں؟ کیا منصوبہ بندی بروقت مکمل نہیں کی گئی؟ کیا محکمہ اوقاف کی طرف سے منصوبے کی تفصیلات اور انتظامی مراحل بروقت مکمل نہیں کئے گئے؟ اگر ایسا ھے تو پھر اس تاخیر کی ذمہ داری کا تعین بھی ھونا چاہیے۔اس معاملے میں صوبائی وزیر اوقاف و مذہبی امور چوہدری شافع حسین کو بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ھے۔ داتا دربار جیسے عظیم روحانی مرکز کے منصوبے کی نگرانی صرف فائلوں اور اجلاسوں تک محدود نہیں ھونی چاہیے۔ وزیر اوقاف کو خود داتا دربار کا دورہ کرکے منصوبے کی عملی صورتحال کا جائزہ لینا چاہیے، متعلقہ افسران سے کام کی رفتار کے بارے میں سوال کرنا چاہیے اور یہ معلوم کرنا چاہیے کہ اتنے طویل عرصے کے باوجود منصوبہ مکمل کیوں نہیں ھوا۔اسی طرح سیکریٹری و چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ کو بھی اس منصوبے کی تکمیل کے لئے خصوصی طور پر متحرک ھونا چاہیے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے وزیر اوقاف اور سیکریٹری اوقاف دونوں کو واضح ہدایات دی جانی چاہئیں کہ داتا دربار کی تزئین و آرائش کے منصوبے کو مزید تاخیر کا شکار نہ ھونے دیا جائے اور باقی ماندہ کام کے لئے واضح ٹائم لائن مقرر کی جائے۔ بطور چئر مین حلقہ مجلس عقیدت مندان علی ہجویری? المعروف داتا صاحب کی جانب سے اور شہر بھر سے عقیدت مند ان کا بھی یہی مطالبہ ھے کہ داتا دربار جیسے عظیم روحانی مرکز کی تزئین و آرائش میں مزید تاخیر نہ ھو۔ داتا صاحب سے عقیدت رکھنے والے افراد کی خواہش ھے کہ یہاں آنے والے زائرین کو صاف، محفوظ، باوقار اور سہولت سے بھرپور ماحول میسر ھو۔ خصوصاً بزرگوں، خواتین اور بچوں کی آمدورفت کو آسان بنایا جائے تاکہ کوئی زائر تعمیراتی کام یا ناہموار فرش کی وجہ سے پریشانی کا شکار نہ ھو۔داتا دربار کی اہمیت صرف پنجاب یا پاکستان تک محدود نہیں۔ دنیا بھر میں حضرت داتا گنج بخش? سے عقیدت رکھنے والے لاکھوں لوگ موجود ھیں۔ بیرون ملک پاکستانی، صوفیائ سے محبت رکھنے والے افراد اور مختلف ممالک سے آنے والے زائرین جب اس عظیم مرکز کی تعمیر و تزئین کا طویل عرصے سے جاری کام دیکھتے ھیں تو ان کے ذہن میں بھی سوال پیدا ھوتا ھے کہ آخر یہ منصوبہ اتنا طویل کیوں ھو گیا؟ جس مقام کی روحانی شہرت پوری دنیا میں ھے، اس کی تعمیر و تزئین میں اتنی سست رفتاری کیوں نظر آ رہی ھے؟داتا دربار کی عظمت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ھے کہ ملک کی بڑی سیاسی شخصیات اور حکمران اس عظیم روحانی مرکز پر حاضری دیتے اور عقیدت کا اظہار کرتے رہے ھیں۔ سابق وزیراعظم محترم میاں نواز شریف ھوں یا محترمہ بے نظیر بھٹو شہید، داتا دربار سے عقیدت ہماری سیاسی اور سماجی تاریخ کا اہم حصہ رھی ھے۔ ایسے عظیم روحانی مرکز کی تزئین و آرائش کو معمول کے کسی ترقیاتی منصوبے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔آج سب سے زیادہ تکلیف دہ صورتحال دربار کے فرش اور زائرین کی آمدورفت کی ھے۔ فرش پر موجود خردہ، ناہمواری اور تعمیراتی رکاوٹیں بزرگ زائرین کے لئے خاصی مشکل پیدا کر رھی ھیں۔ جو بزرگ دور دراز علاقوں سے صرف داتا گنج بخش کے دربار پر حاضری دینے آتے ھیں، ان کے لئے چند قدم چلنا بھی عقیدت کا حصہ ھوتا ھے، مگر اگر راستہ ہی ناہموار اور مشکل ھو تو ان کی پریشانی کا اندازہ کیا جا سکتا ھے۔یہاں سوال صرف خوبصورتی کا نہیں بلکہ زائرین کی حفاظت اور سہولت کا بھی ھے۔ جہاں تعمیراتی کام جاری ھے وہاں فوری طور پر محفوظ عارضی راستے بنائے جانے چاہئیں۔ تعمیراتی ملبہ اور خردہ فوری طور پر ہٹایا جائے، بزرگوں اور خواتین کے لئے آسان راستے بنائے جائیں اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ کسی زائر کو تعمیراتی کام کی وجہ سے حادثے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اس موقع پر سابق وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی صاحب کی انتظامی رفتار بھی یاد آتی ھے۔ ان کے دور میں ترقیاتی منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنے پر خاص توجہ دی گئی۔ افسران سے موقع پر کام کی رفتار کا جائزہ لیا جاتا اور منصوبوں کی تکمیل کے لئے وقت کی پابندی پر زور دیا جاتا تھا۔ محسن نقوی صاحب کا ذکر کسی سیاسی موازنے کے لئے نہیں بلکہ ایک انتظامی مثال کے طور پر کیا جا رھا ھے۔اگر محدود مدت میں بڑے بڑے منصوبوں کو تیزی سے مکمل کیا جا سکتا ھے تو داتا دربار جیسے مقدس مقام کی تزئین و آرائش کا منصوبہ کئی برس تک کیوں جاری رھے؟ یہی سوال آج عام زائرین کے ساتھ ساتھ بیرون ملک سے آنے والے عقیدت مند بھی مجھ سے کر رہے ھیں۔محترمہ مریم نواز صاحبہ! آپ کی حکومت پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں کو تیز رفتاری سے مکمل کرنے پر توجہ دے رھی ھے۔ اسی لئے داتا دربار کا منصوبہ آپ کی خصوصی نگرانی کا مستحق ھے۔ آپ اگر خود اس منصوبے کا اچانک دورہ کریں، وزیر اوقاف اور سیکریٹری اوقاف کو موقع پر طلب کرکے کام کی رفتار کا جائزہ لیں اور حتمی ٹائم لائن مقرر کریں تو متعلقہ محکمے میں بھی واضح پیغام جائے گا کہ اس منصوبے میں مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ضرورت اس امر کی بھی ھے کہ منصوبے کی مکمل تفصیلات سامنے لائی جائیں۔ کتنی رقم مختص ھوئی، اب تک کتنی رقم خرچ ھوئی، کون کون سے کام مکمل ھوئے، کون سے کام باقی ھیں، منصوبے میں تاخیر کی بنیادی وجوہات کیا ھیں اور اب اسے کب تک مکمل کیا جا سکتا ھے؟ ان تمام سوالات کے واضح جواب محکمہ اوقاف کو دینے چاہئیں۔محترمہ وزیراعلیٰ صاحبہ! داتا دربار صرف اینٹ، سیمنٹ، فرش، دیواروں اور چھتوں کا نام نہیں۔ یہ صدیوں پر محیط روحانی ورثہ ھے۔ اس کی تزئین و آرائش میں تاریخی حسن، روحانی ماحول، فن تعمیر، صفائی، سکیورٹی اور زائرین کی سہولت کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔وزیر اوقاف چوہدری شافع حسین اور سیکریٹری اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ جو اعلی انتظامی اصلاحات کے مالک ہیں اب کے لئے یہ ایک اہم موقع ھے کہ وہ اس منصوبے کو اپنی کارکردگی کا عملی نمونہ بنائیں۔ اور نذرانہ چوری کرنے والوں کو اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے حوالے کریں۔صرف چوروں کو پکڑ لینا کوئی بہادر یار نہیں ان کو کیفر کردار تک پہنچانا اصل مقصد ھے لیکن ایسا کچھ نا ھوا لاھور سے سرگودھا ٹرانسفر کر دینا اور تنخواہ کاٹ لینا یہ کوئی سزا نہیں محکمہ اوقاف کی ذمہ داری ھے کہ ایسے چوروں کو عبرت کا نمونہ بنا دینا چاھئے تاکہ ایسی حرکت دوبارہ نا ھو۔ داتا دربار منصوبے کی نگرانی صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہ رہ۔۔۔۔ھے بلکہ اس کے نتائج زمین پر بھی نظر آئیں۔میری وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے خصوصی گزارش ھے کہ وہ اس منصوبے کو ذاتی نگرانی میں لیں، وزیر اوقاف چوہدری شافع حسین اور سیکریٹری اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ کو واضح ہدایات دیں، منصوبے کی تمام رکاوٹیں فوری دور کرائیں اور داتا دربار کی تزئین و آرائش کو مقررہ مدت میں جلد از جلد مکمل کرائیں۔ بطور چئیرمین حلقہ مجلس عقیدت مندان علی ہجویری? المعروف داتا صاحب کی طرف سے بھی وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل ھے کہ داتا دربار کی تزئین و آرائش کے معاملے کو خصوصی اہمیت دی جائے۔ عقیدت مندوں کا مطالبہ صرف خوبصورت عمارت نہیں بلکہ ایسا ماحول ھے جہاں ہر شخص، خصوصاً بزرگ اور خواتین، آسانی اور اطمینان کے ساتھ حاضری دے سکیں۔داتا دربار پر آنے والا ہر زائر عزت، سہولت اور محفوظ ماحول کا مستحق ھے۔ بزرگوں کو ناہموار فرشوں پر چلنے کی تکلیف، خواتین کو تعمیراتی رکاوٹوں سے گزرنے کی مشکل اور عام زائرین کو برسوں سے جاری کام کی پریشانی مزید نہیں ھونی چاہیے۔اب وقت آ گیا ھے کہ اس منصوبے کی تاخیر کے سوال کا واضح جواب دیا جائے۔ اگر کہیں انتظامی کمزوری ھے تو اسے دور کیا جائے، اگر منصوبہ بندی میں خامی ھے تو اسے درست کیا جائے، اگر کسی محکمے کی سست روی رکاوٹ بنی ھے تو اسے ختم کیا جائے، اور اگر وسائل یا انتظامی فیصلے درکار ھیں تو وزیراعلیٰ پنجاب فوری طور پر ان کی فراہمی یقینی بنائیں۔داتا دربار صرف لاھور کی پہچان نہیں بلکہ پاکستان کی روحانی شناخت کا ایک اہم حصہ ھے۔ اس کے در و دیوار کی خوبصورتی کے ساتھ یہاں آنے والے ہر زائر کی سہولت بھی ہماری اجتماعی ذمہ داری ھے۔اب مزید تاخیر نہیں، بلکہ عملی اقدام کی ضرورت ھے۔ داتا دربار کی تزئین و آرائش کا یہ طویل سفر اب تیز رفتاری کے ساتھ پای? تکمیل تک پہنچنا چاہیے۔

داتا دربار کی تزئین چیف منسٹر مریم نواز صاحبہ کی خصوصی توجہ کی ضرورت

نئے صوبے، وقت کا تقاضا

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے