نئے صوبے، وقت کا تقاضا
فیصل زمان چشتی
پاکستان ایک وسیع و عریض اور گنجان آباد ملک ہے جس میں مختلف زبانیں، ثقافتیں، روایات، جغرافیائی حالات اور معاشرتی ضروریات رکھنے والے لوگ آباد ہیں۔ پاکستان کو آزادی حاصل کیے ہوئے کئی دہائیاں گزر چکی ہیں لیکن آبادی میں مسلسل اضافے، شہری آبادی کے پھیلاو¿، انتظامی مسائل اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم کے باعث یہ سوال بار بار سامنے آتا ہے کہ کیا پاکستان میں موجودہ صوبوں کی تعداد کافی ہے یا ملک میں مزید صوبے قائم کیے جانے چاہئیں۔ میرے خیال میں پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام ملک کو کمزور کرنے کے بجائے انتظامی طور پر زیادہ مضبوط، مو¿ثر اور ترقی یافتہ بنا سکتا ہے بشرطیکہ یہ فیصلہ سیاسی مفادات کے بجائے قومی اور انتظامی ضروریات کو سامنے رکھ کر کیا جائے۔پاکستان اس وقت پانچ صوبوں، پنجاب، سندھ، خیبر پختونخواہ ، بلوچستان اور گلگت بلتستان کے علاوہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور بعض دیگر انتظامی علاقوں پر مشتمل ہے۔ ان صوبوں کا رقبہ، آبادی اور جغرافیہ ایک دوسرے سے بہت مختلف ہے۔ خاص طور پر پنجاب کی آبادی بہت زیادہ ہے اور ایک صوبائی حکومت کے لیے اتنے بڑے علاقے کی تمام ضروریات کو یکساں توجہ کے ساتھ پورا کرنا ایک مشکل کام ہے۔ اسی طرح سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے بعض دور دراز علاقوں میں بھی انتظامی سہولیات، تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی ڈھانچے کی کمی محسوس کی جاتی ہے۔ نئے صوبے بنانے کی سب سے بڑی وجہ بہتر انتظام و انصرام ہے۔ جب کسی صوبے کا رقبہ بہت وسیع اور آبادی بہت زیادہ ہو تو حکومت کے لیے ہر علاقے تک مو¿ثر انداز میں پہنچنا مشکل ہوجاتا ہے۔ دور دراز علاقوں کے لوگ اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ صوبائی دارالحکومت میں بیٹھنے والی حکومت ان کے مسائل سے پوری طرح واقف نہیں۔ اگر بڑے صوبوں کو انتظامی بنیادوں پر تقسیم کرکے نئے صوبے قائم کیے جائیں تو حکومت عوام کے زیادہ قریب ہوسکتی ہے اور مسائل کے حل میں تیزی آسکتی ہے مثلاً جنوبی پنجاب کے علاقوں کے لوگ ایک عرصے سے الگ صوبے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ ان کا مو¿قف ہے کہ ان کے علاقے کو ترقیاتی منصوبوں، روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات میں وہ توجہ نہیں ملتی جو اسے ملنی چاہیے۔ اگر کسی علاقے کے لیے الگ انتظامی ڈھانچہ قائم ہوجائے تو وہاں کی حکومت مقامی ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی کرسکتی ہے کیونکہ ریاست کا بنیادی مقصد عوام کو بہتر زندگی فراہم کرنا ہے۔ اگر حکومت عوام کے قریب ہو تو شہریوں کے لیے سرکاری اداروں تک رسائی آسان ہوجاتی ہے۔ بڑے صوبوں میں ایک عام شہری کو بعض اوقات اپنے معمولی سرکاری کام کے لیے بھی طویل سفر کرنا پڑتا ہے۔ نئے صوبے بننے سے صوبائی دارالحکومت نسبتاً قریب ہوں گے جس سے عوام کے وقت اور اخراجات دونوں میں کمی آسکتی ہے۔نئے صوبوں کے قیام سے ضلعی اور صوبائی سطح پر انتظامیہ زیادہ مو¿ثر ہوسکتی ہے۔ پولیس، تعلیم، صحت، زراعت، آبپاشی اور بلدیاتی اداروں کو مقامی حالات کے مطابق بہتر انداز میں منظم کیا جاسکتا ہے اس کے ساتھ پاکستان میں ایک اہم مسئلہ وسائل کی تقسیم بھی ہے۔ بعض علاقے قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں لیکن وہاں کے عوام بنیادی سہولیات سے محروم نظر آتے ہیں۔ نئے صوبے اگر مناسب مالی اختیارات اور شفاف نظام کے ساتھ قائم کیے جائیں تو مقامی حکومتیں اپنے وسائل کو اپنے علاقوں کی ترقی کے لیے زیادہ مو¿ثر انداز میں استعمال کرسکتی ہیں تاہم یہ ضروری ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کے ساتھ مالیاتی نظام بھی واضح کیا جائے صرف صوبہ بنانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ ہر نئے صوبے کو مناسب بجٹ، انتظامی اختیار اور وسائل بھی فراہم کرنا ہوں گے۔ یہ بات انتہائی اہم ہے کہ پاکستان کے بعض علاقے ترقی کے اعتبار سے دوسرے علاقوں سے پیچھے ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں، جن میں جغرافیائی دشواریاں، کمزور انفراسٹرکچر، محدود صنعتی سرگرمیاں اور سرمایہ کاری کی کمی شامل ہیں نئے صوبے ان علاقوں کے لیے ترقیاتی ترجیحات مقرر کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں اگر کسی نئے صوبے کی حکومت اپنے علاقے کی ضروریات کے مطابق صنعتی زون قائم کرے، زراعت کو جدید بنائے، تعلیمی ادارے قائم کرے، اسپتالوں کو بہتر بنائے اور سڑکوں و مواصلات کا نظام ترقی دے تو وہاں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں نئے صوبوں کے قیام سے سیاسی نمائندگی بھی بہتر ہوسکتی ہے بڑے صوبوں میں بعض علاقوں کے لوگوں کو یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کی آواز صوبائی سطح پر پوری طرح نہیں سنی جاتی چھوٹے صوبے یا انتظامی یونٹ بننے سے مقامی قیادت سامنے آسکتی ہے اور عوام اپنے مسائل زیادہ مو¿ثر طریقے سے حکومت تک پہنچا سکتے ہیں اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مقامی سطح پر نئی سیاسی اور انتظامی قیادت پیدا ہو جائے جو اپنے علاقے کے مسائل کو بہتر طور پر سمجھتی ہو۔اس موقف کے برعکس بعض لوگ یہ خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ نئے صوبوں کے قیام سے ملک میں لسانی، علاقائی اور سیاسی اختلافات بڑھ سکتے ہیں۔ یہ خدشہ مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر صوبے صرف زبان، نسل یا سیاسی مفاد کی بنیاد پر بنائے جائیں تو اس سے اختلافات پیدا ہونے کا امکان موجود ہے لیکن اگر نئے صوبے انتظامی، معاشی اور عوامی سہولت کی بنیاد پر بنائے جائیں، آئین کے مطابق طریقہ اختیار کیا جائے اور تمام علاقوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے تو نئے صوبے پاکستان کو کمزور کرنے کے بجائے مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔ اصل مسئلہ صوبوں کی تعداد نہیں بلکہ ان کے قیام کا طریقہ ہے دنیا کے کئی ممالک میں متعدد صوبے یا ریاستیں موجود ہیں اور وہ کامیابی سے چل رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی بہتر انتظام کے لیے انتظامی اکائیوں کی تعداد میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ نئے صوبوں کے قیام کا فیصلہ جذبات یا سیاسی نعروں کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے اس کے لیے آئینی ماہرین، معاشی ماہرین، جغرافیہ دانوں اور مقامی نمائندوں پر مشتمل ایک غیر جانب دار کمیشن بنایا جاسکتا ہے یہ کمیشن مختلف علاقوں کی آبادی، رقبے، معاشی صلاحیت، وسائل، انتظامی ضرورت اور عوامی رائے کا جائزہ لے عوام کی رائے کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے کسی علاقے کو نیا صوبہ بنانے سے پہلے وہاں کے عوام کی خواہشات اور ضروریات کا شفاف طریقے سے جائزہ لیا جائے۔ اسی طرح نئے صوبے کے دارالحکومت، حدود، بجٹ، ملازمین، اداروں اور وسائل کی تقسیم کے بارے میں بھی واضح منصوبہ تیار ہونا چاہیے۔ پاکستان میں مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ نئے صوبے بنائے جائیں تو اس سے حکومت عوام کے زیادہ قریب آسکتی ہے پسماندہ علاقوں کی ترقی تیز ہوسکتی ہے انتظامی امور میں بہتری آسکتی ہے سرکاری اداروں تک عوام کی رسائی آسان ہوسکتی ہے مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں ترقیاتی بجٹ زیادہ مو¿ثر انداز میں استعمال ہوسکتا ہے مقامی قیادت اور سیاسی نمائندگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کی منصوبہ بندی مقامی ضروریات کے مطابق ہوسکتی ہے بڑے صوبوں پر انتظامی بوجھ کم ہوسکتا ہے اور علاقائی احساسِ محرومی میں کمی لائی جاسکتی ہے۔یہ تصور درست نہیں کہ زیادہ صوبے لازماً قومی اتحاد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ قومی یکجہتی کا تعلق لوگوں کے بنیادی حقوق، انصاف، مساوی مواقع اور ریاست پر اعتماد سے ہے اگر ایک شہری کو محسوس ہو کہ ریاست اس کے ساتھ انصاف کرتی ہے اس کے علاقے میں ترقی ہورہی ہے اور اسے تعلیم و روزگار کے مواقع حاصل ہیں تو اس کا ملک کے ساتھ تعلق مزید مضبوط ہوگا اس لیے نئے صوبوں کا قیام اگر محروم علاقوں کو حقوق اور ترقی کے مواقع فراہم کرتا ہے تو یہ قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کے بجائے اسے مضبوط کرسکتا ہے۔مختصر یہ کہ پاکستان میں مزید صوبے بنانے کی ضرورت پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ بڑھتی ہوئی آبادی، وسیع جغرافیہ، انتظامی مسائل اور بعض علاقوں میں احساسِ محرومی اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ملک کے انتظامی ڈھانچے کو جدید تقاضوں کے مطابق بہتر بنایا جائے۔ تاہم نئے صوبوں کا قیام کسی سیاسی جماعت یا گروہ کے وقتی مفاد کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے لیے آئینی طریق? کار، عوامی رائے، انتظامی ضرورت، معاشی صلاحیت اور قومی مفاد کو بنیادی معیار بنایا جائے۔ اگر یہ عمل دانش مندی، اتفاقِ رائے اور شفافیت کے ساتھ مکمل کیا جائے تو پاکستان میں مزید صوبے ملک کو تقسیم نہیں بلکہ انتظامی طور پر مضبوط، معاشی طور پر مستحکم اور عوامی طور پر زیادہ خوشحال بنا سکتے ہیں۔ پاکستان کی ترقی کا راز صرف صوبوں کی تعداد میں نہیں بلکہ اچھے نظامِ حکومت، انصاف، میرٹ، شفافیت، مضبوط بلدیاتی اداروں اور وسائل کی منصفانہ تقسیم میں ہے۔ اگر نئے صوبوں کے قیام کے ساتھ یہ اصلاحات بھی کی جائیں تو پاکستان ایک مضبوط، متحد اور ترقی یافتہ ملک کی حیثیت سے مزید آگے بڑھ سکتا ہے۔






