#کالم

جنگی جنون

Untitled 1874

زمانہ قدیم میں بادشاہ اپنی سلطنت کو بڑھانے کے لیے دوسرے ممالک پر حملہ آٓور ہوتے تھے. فتح کی صورت میں ان کے ہاتھ مال و دولت اور خطہ زمین آتا تھا. مگر بدلہ میں دونوں طرف ہزاروں بیگناہ لوگوں کا خون ناحق بہہ جاتا تھا. مگر اس جنگی جنون کے خلاف صدائے حق بلند کرنے کے لیے کوئی موثر فورم نہیں تھا. آہستہ آہستہ انسان شعور کی منازل طے کرتا گیا. اس نے اپنی سہولت کے لیے ہر وہ چیز ایجاد کی. جو اس کی زندگی کو سہل بنا دیں. اس نے ہزاروں میل کا سفر طے کرنے کے لیے ہوائی جہاز بنایا. جس کی بدولت مہینوں کی مسافت محض چند گھنٹوں میں طے ہو جاتی ہے. تعلیم کے حصول کے اعلی ترین تعلیمی جامعات بنائی گئی. جن میں دور جدید کے مطابق علوم کی فراہمی کے لیے جدید سہولیات کو متعارف کروایا گیا. آج کا نوجوان جدید تعلیم سے آراستہ ہوکر دنیا کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے. بدقسمتی سے دفاع کے نام پر ہم لوگوں نے مہلک ترین ہتیھار بھی ایجاد کر لیے ہیں. جن میں اٹیم بم جو محض چند سیکنڈ میں دنیا کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتا ہے. اسی طرح سے دیگر جنگی سازو سامان جو انسانیت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں. دنیا کی ترقی نے ایک طرف انسان کو شعور عطا کیا ہے. تو دوسری طرف اس کی حیوانیت کو بھی خطرناک شکل میں پروان چڑھایا ہے. زمانہ قدیم میں تو علم کی کمی ، پسماندہ طرز زندگی اقوام کے درمیان جنگ کی وجوہات بنتی تھی. مگر موجودہ زمانے میں ترقی یافتہ ممالک کے پاس ہر وہ آسائش زندگی موجود ہے. جس کی انسان خواہش کر سکتا ہے. اس کے باوجود وہ دوسرے ممالک سے دست و گریباں رہتے ہیں. کہی مذہب کی آڑ میں. تو کہی وسائل پر قابض ہونے کی خواہش میں انسان ایک دوسرے کا ناحق خون بہا رہا ہے. بھارت اور پاکستان ہمسایہ ممالک ہیں. دونوں ممالک مذہب کے نام پر معرض وجود میں آئے. دونوں طرف انسان بستے ہیں. جو امن سے زندگی گزارنا چاہتے ہیں. مگر بھارت نے ہمیشہ پاکستان پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی ہے. جواب میں پاکستان کو بھی اپنے دفاع کے لیے ہمیشہ ہتھیار اٹھانے پڑے ہیں. امریکہ دنیا کا ترقی یافتہ ملک ہے. اس کی عوام خوشحال زندگی گزار رہی ہیں. ترقی پذیر ممالک کے لوگوں کی خواہش ہے. کہ وہ امریکہ جاکر اپنی زندگی گزارے. ان کی نظر میں امریکہ دنیا میں کسی جنت سے کم نہیں. امریکہ کو کسی ملک سے کوئی خطرہ بھی نہیں. کیونکہ جغرافیائی لحاظ سے اس کے ارد گرد کوئی ملک اس کا دشمن نہیں. جو اس پر حملہ آور ہو سکے. علم نے انسان کو وہ شعور عطا کیا ہے. کہ وہ ہر مذاہب کے انسان کو انسان سمجھتا ہے. اور ہر کسی کو اپنے مذہب و عقیدہ کے مطابق زندگی گزارنے کو اس کا بنیادی حق تصور کرتا ہے. تو پھر ان ممالک کے حکمران انسانیت کے دشمن کیوں بنے ہوئے ہیں. امریکہ کے صدر بتا سکتے ہیں. کہ ایران کی عوام نے ان کے خلاف کیا جارحیت کی ہے. یا اس کو ایران سے کیا خطرہ لاحق ہے. اسرائیل ایک یہودی ریاست ہے. اس کا وجود جیسے بھی قائم ہوا. وہ ایک الگ بحث ہے. اس کو اپنے پڑوسی ممالک سے کیا خدشات ہیں. یہ کیوں فلسطین کے بیگناہ مسلمانوں کا خون بہا رہا ہے. ہزاروں سال کی جدوجہد کے بعد ان ممالک نے اپنے شہروں کو جدید ترین سہولیات سے آراستہ کیا ہے. اسرائیل کو دیکھنے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا. کیونکہ پاکستان نے اسے تسلیم نہیں کیا. اس لیے اس کی کوئی خبر یا تصویر ہمارے تک نہیں پہنچ پاتی. اب ایران اور اسرائیل کی حالیہ جنگ کے تناظر میں میڈیا اسرائیل کے شہروں کی تصاویر شائع کرتا ہے. تو دیکھ کر حیرانگی ہوتی ہے. اور انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے. کہ اسرائیل کسی بھی لحاظ سے امریکہ اور یورپ سے کم نہیں. عالیشان عمارتیں، جدید ترین آسائش زندگی سب یورپ اور امریکہ سے بہتر ہے. اس نے یہ سب کچھ تعمیر کرنے میں پتہ نہیں کتنے برس لگائے ہوگے. مگر اس کے جنگی جنون نے پلک جھپکنے میں اس کے جدید ترین شہروں کو ملبہ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے. اس نے ایران کا نقصان کرنے کے چکر میں اپنا نقصان کروا لیا ہے. کیا ہی اچھا ہو. کہ تمام ممالک اپنے اپنے عوام کی ترقی کے لیے کام کرے. اور اپنے ممالک کو دوسروں کے لیے مثال بنا دیں. جنگ کسی بھی صورت کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں. کیونکہ جنگ میں دونوں طرف خون بہتا ہے. وہ مسلمان کا ہو یا یہودی کا. خون تو انسان ہی کا ہے. کاش ہم دنیاوی ترقی کے ساتھ ساتھ ذہنی ترقی کی منازل بھی طے کر پاتے. تو آج دنیا امن کا گہوارہ ہوتی. ذہنی طور پر ہم آج بھی زمانہ قدیم میں ہی کھڑے ہیں. جہاں دوسروں کے دنیاوی وسائل اور خطہ زمین پر قابض ہونا. سب سے بڑی کامیابی تصور کیا جاتا تھا. فلسطین، ایران، اسرائیل اور امریکہ میں بسنے والے انسان امن کے داعی ہیں. وہ سب مل جل کر رہنا چاہتے ہیں. مگر اسرائیل کے حکمران پتہ نہیں کس حماقت کا شکار ہے. وہ دنیا کے امن کو برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں. وہ اپنی عوام کے جان و مال کے بھی دشمن بنے ہوئے ہیں. امریکہ جو خود کو دنیا کی سپر پاور سمجھتا ہے. وہ اس کو سمجھانے کی بجائے. اس کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے. اسرائیل اور امریکہ کی عوام اپنے اپنے حکمرانوں سے سوال کرے. کہ وہ جنگ سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں. آج اسرائیل کی عوام اپنے عالیشان گھروں کو چھوڑ کر زیر زمین بنکروں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے. امریکہ اور اسرائیل ایران کے پیڑول کے ذخائر پر میزائل برسا رہے ہیں. ایران بھی جواب میں اسرائیل میں پیٹرول کے ذخائر کو تباہ کر رہا ہے. جس سے دنیا میں پیٹرول نایاب ہوتا جا رہا ہے. دنیا بھر کے ممالک پیٹرول کی کمی کے سبب مختلف قسم کی مشکلات سے دوچار ہیں. افراط زر میں بے پناہ اضافہ

جنگی جنون

عید اور بھائ

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے