خالد علیم ۔۔۔۔اردو ادب کا سچا فنکار
روبرو۔۔۔محمد نوید مرزا
اردو کے معروف شاعر ،ادیب اور کئی رسائل کے مدیر خالد علیم مرحوم کو اس دنیائے فانی سے رخصت ہوئے ایک برس بیت چکا ہے۔آپ کا اصل نام خالد ریاض اور قلمی نام خالد علیم تھا۔خالد صاحب 30 اگست 1956ء کو کراچی میں معروف نعت گو شاعر علیم الدین علیم ناصری کے گھر پیدا ہوئے اور 10فروری 2025ء کو لاہور میں وفات پائی۔
خالد علیم بیک وقت شعری و نثری ادب میں ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں۔اردو شاعری میں ان کے مجموعوں میں شام ،شفق ،تنہائی،بغداد آشوب،نعتیہ مجموعہ ،محامد ،نعت نما،اوصاف،تمثال اور طویل نظمیں جاں آشوب،اے آسماں کے تارو شامل ہیں۔اس کے علاؤہ کلیات نما جس میں ان کے چند مجموعے یکجا کئے گئے شامل ہیں۔نثری ادب میں ان کا افسانوی مجموعہ مردہ آنکھیں زندہ چہرہ اور ناولٹ دائرے میں قدم شامل ہیں۔اس کے علاؤہ انھوں نے چند کتب مرتب بھی کی ہیں۔جب کہ بطور مدیر انھوں نے سیارہ اور فانوس کی ادارت کی ہے۔
خالد علیم کی شاعری میں زندگی کے تمام رنگ نظر آتے ہیں۔ان کے ہاں موضوعات کی فراوانی کے ساتھ ساتھ فکری پختگی ،گہرائی اور آفاقیت دکھائی دیتی ہے۔محبت کے موضوعات پر کمی کے باوجود وہ انسان اور انسانیت سے محبت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔لیکن ان کے ہاں عصری مسائل ،سماجی،سیاسی ،معاشی اور معاشرتی مسائل کی نشان دہی بڑی خوبصورتی سے کی گئی ہے۔خالد علیم نے شاعری کی تمام اصناف حمد،نعت ،رباعی ،غزل اور نظم میں طبع آزمائی کی ہے۔بقول جناب نوید صادق،،خالد علیم ان لوگوں میں سے نہیں جو ایک سنگ میل کے ہو کر رہ جائیں،وہ تو مسلسل سفر کے قائل ہیں ۔شعر میں بھی اور فکر میں بھی۔،،آگے چل کر مزید لکھتے ہیں،خالد علیم شعر برائے شعر کے قائل نہیں ، ان کے ہاں حیات اعلیٰ اقدار اور موجود کے تجزیہ کی روش بہت نمایاں ہے۔وہ ماضی کی بات کرتے ہوئے بھی تجزیانہ و محاکمانہ طرز کو پیش نظر رکھتے ہیں۔ان کے ہاں مضمون آفرینی ،فنی پختگی اور معروضیت کی روش ان کے اشعار کو زیادہ پر تاثیر بناتی ہے،،
نوید صادق کی یہ سطریں ان کی خالد علیم کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے لکھی گئی کتاب،اردو ادب کے معمار،خالد علیم ،فکر و فن سے لی گئی ہیں،جس میں انھوں نے اس عظیم فن کار کے شعری و نثری کارناموں پر سیر حاصل بحث کی ہے۔بقول سلیم کوثر،،خالد علیم انتہائی بشاش شاعر ،باشعور ادیب،اور بہت سرگرم تجزیہ کار ہے جو عین حقائق سے ہی آگاہی نہیں رکھتا ،زندہ رہنے کا حوصلہ بھی فراہم کرتا ہے،،
ایک شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ خالد علیم ایک نفیس انسان ،نرم گفتار شخصیت اور دوستوں سے محبت نبھانے والی شخصیت بھی تھے۔میرا ان سے تعلق والد محترم شاعر درویش بشیر رحمانی اور یار عزیز جاوید قاسم کی وجہ سے بنا پھر پیارا اشرف سلیم بھی مجھے ان کے قریب لایا۔ایک ایک کرکے یہ سب ہستیاں دنیا سے چلی گئیں۔میں جب بھی خالد علیم صاحب سے ملا انھیں محبتوں کی خوشبو میں مہکتا ہوا پایا،وہ ایک پرخلوص شخصیت تھے۔آخر میں خالد علیم مرحوم کے لئے دعائے مغفرت کرتا ہوں ۔اللہ تعالیٰ انھیں جنت الفردوس میں اعلیٰ عطا فرمائے ،آمین
اب آئیے اس بڑے شاعر کے مختلف اصناف میں لکھے گئے اشعار دیکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
تو سید عالی نسب و سرور عالم
بعثت میں مؤثر تو سیادت میں مقدم
بے خانہء اوھام کو کر کے متزلزل
انسان کا ایمان سے رشتہ کیا کامل
وہ سلطان مدینہ سید کون و مکاں ہے
ازل سے تاابد اس کا کوئی ہم سر کہاں ہے
تری جانب تیری آواز پہ جاتا ہوں میں
راہ میں بیٹھ رہا خاک اڑاتا ہوا میں
رہ گئے کے کے ترے ہجر کے گرداب میں ہم
ورنہ یہ زور سمندر میں کہاں ایسا تھا
ایک لمحہ ہی گذر جائے کہاں تیرے بغیر
دل کو سمجھایا تو ہے،لیکن سمجھتا کون ہے
دیوار کوئی نہیں ہے خالد
کچھ اور ہی اپنے درمیاں ہے
کس درد کی آنچ ہے کہ اب تک
اندر سے بدن پگھل رہا ہے






