#اداریہ

قومی کرکٹ ٹیم کو بھارت کیخلاف کھیلنے کی اجازت

Fahad 01

آج کا اداریہ

حکومت نے قومی کرکٹ ٹیم کو 15 فروری کو بھارت کے خلاف ٹی ٹوئٹی ورلڈ کپ کا میچ کھیلنے کی اجازت دے دی ہے اور کہا ہے کہ یہ فیصلہ دوست ممالک کی درخواست پر کیا گیا ہے۔
اس سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین جناب محسن نقوی نے پی سی بی، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے نمائندوں اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطحی مشاورت کے نتائج کے بارے میں باضابطہ طور پر بریفنگ دی گئی۔
حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے پی سی بی کو دی گئی رسمی درخواستوں کے ساتھ ساتھ سری لنکا، متحدہ عرب امارات، اور دیگر رکن ممالک کی معاون مواصلات کا جائزہ لیا ہے۔
حکومت نے بی سی بی کے صدر امین الاسلام کے بیان کا خیر مقدم کیا۔

بیان کے مطابق پیر کی شام وزیر اعظم شہباز شریف نے نے سری لنکا کے صدر انورا کمارا دیسانائیکے سے ٹیلیفون پر بات کی۔ جس کے دوران انھوں نے تسلیم کلیا کہ ’پاکستان اور سری لنکا ہمیشہ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے رہے ہیں، خاص طور پر مشکل وقتوں میں۔ سری لنکا کے صدر نے وزیر اعظم سے درخواست کی کہ وہ موجودہ تعطل کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کے لیے سنجیدہ غور کریں۔‘
حکومتی بیان کے مطابق ’دوست ممالک کی درخواست کے پیش نظر، حکومت پاکستان نے پاکستانی ٹیم کو ہدایت دیتی ہے کہ وہ 15 فروری 2026 کو آئی سی سی مردوں کے ٹی20 ورلڈ کپ کے شیڈول میچ کے لیے میدان میں اترے۔‘ بیان کے مطابق ’یہ فیصلہ کرکٹ کی روح کے تحفظ اور تمام شریک ممالک میں اس عالمی کھیل کے تسلسل کی حمایت کے مقصد سے کیا گیا
قبل ازیں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے پاکستان سے درخواست کی تھی کہ وہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے دوران 15 فروری کو طے شدہ اپنا میچ انڈیا کے خلاف ضرور کھیلے۔
ایک بیان میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن رضا نقوی، پی سی بی اور پاکستان کے کرکٹ شائقین کا دل سے شکریہ ادا کیا۔ اور کہا کہ ’اس عرصے کے دوران، پی سی بی نے مثالی سپورٹس مینشپ اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔‘
بی سی بی کے صدر محمد امین الاسلام نے بیان میں کہا کہ ’ہم اس عرصے میں پاکستان کی بنگلہ دیش کی حمایت میں حد سے بڑھ کر کوششوں سے بہت متاثر ہیں۔ دعا ہے کہ ہمارا بھائی چارہ طویل عرصے تک پروان چڑھے۔‘
اپنے بیان میں بی سی پی کے صدر نے کہا کہ ’کل پاکستان کے مختصر دورے کے بعد اور ہماری بات چیت کے آئندہ نتائج کے پیش نظر، میں پاکستان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ کرکٹ کے فائدے کے لیے 15 فروری کو آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ میچ انڈیا کے خلاف کھیلے۔‘
دریں اثنا سری لنکا کے صدر انورا کمارا ڈسانائیکے نے پیر کو پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سے ٹیلی فونک رابطہ کیا تھااور پاکستانی کرکٹ ٹیم کو انڈیا کے خلاف میچ کھیلنے کی اجازت دینے کی درخواست کی تھی
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سری لنکن صدر کو ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان اور انڈیا کے میچ کے حوالے سے مشاورت کے بعد حتمی فیصلے سے آگاہ کرنے کو کہا تھا
وزیر اعظم آفس کے مطابق سری لنکن صدر نے کہا کہ سری لنکا میں دہشت گردی کے دوران پاکستان نے سری لنکن کرکٹ بورڈ سے بھرپور تعاون کیا تھا۔
وزیر اعظم آفس کے مطابق سری لنکن صدر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے سری لنکا کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو ہر چیز پر فوقیت دی اور پاکستانی کرکٹ ٹیم نے دہشتگردی کے باوجود سری لنکا میں کرکٹ کھیلنے کے لیے دورے جاری رکھے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بھی مشکل ادوار میں سری لنکا نے بھرپور ساتھ دیا اور پاکستان میں کرکٹ جاری رکھی۔

اُن کا کہنا تھا کہ حال ہی میں سری لنکن ٹیم نے پاکستان کا دورہ منسوخ نہ کرکے پاکستانی قوم اور کرکٹ شائقین کے لیے ایک ناقابلِ فراموش اقدام اٹھایا۔
واضح رہے کہ سری لنکن صدر نے پاکستانی وزیر اعظم سے ایسے وقت میں رابطہ کیا ، جب اس سے قبل سری لنکن کرکٹ بورڈ بھی پاکستان کرکٹ بورڈ سے اپیل کر چکا ہے کہ وہ انڈیا کے ساتھ 15 فروری کو کولمبو میں شیڈول میچ کھیلے۔
سری لنکن کرکٹ بورڈ کا موقف ہے کہ میچ نہ ہونے کی وجہ سے سری لنکن کرکٹ بورڈ کو بھی بھاری مالی نقصان ہو گا۔
پاکستان کی جانب سے انڈیا کے ساتھ میچ نہ کھیلنے کے فیصلے پر بات چیت کے لیے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ بھِی اتوار کو پاکستان آئے تھے۔ اس سے قبل بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے چیئرمین امین الاسلام نے بھی پاکستان کا دورہ کیا تھا۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام کی اتوار کو لاہور میں ملاقات ہوئی جس میں پاکستان کی جانب سے انڈیا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچ کے بائیکاٹ پر بات چیت ہوئی تاہم اس کا نتیجہ اب تک واضح نہیں۔
آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ اور ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن مبشر عثمانی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی سے ملاقات کی اور اس اجلاس میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام بھی موجود تھے
واضح رہے کہ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا تھا جب بنگلہ دیش نے اپنی ٹیم کی سکیورٹی کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے میچز انڈیا سے باہر منتقل کرنے کی درخواست کی تھی۔ تاہم ان کی درخواست کو آئی سی سی نے مسترد کر دیا تھا۔ جس کے بعد حکومت پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ ان کی ٹیم 15 فروری کو انڈیا کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرے گی۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بعد میں کہا تھا کہ یہ فیصلہ بنگلہ دیش کی حمایت میں لیا گیا۔
بھارت اور سری لنکا میں 7 فروری کو شروع ہونے والا آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی

قومی کرکٹ ٹیم کو بھارت کیخلاف کھیلنے کی اجازت

11/02/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے