سیاسی دنگل
اورنگزیب اعوان
ملک پاکستان میں 80 سال سے سیاسی دنگل کی صورتحال ہے. بیچاری عوام سمجھنے سے قاصر ہے. کہ اس سیاسی اکھاڑے کا اصل پہلوان کون ہے. عوام کو ذہنی طور پر الجھانے رکھنے کے لیے متعدد سیاسی و لسانی جماعتیں بنا دی گئی ہیں. سب اپنی اپنی بولی بولتی ہیں. عوام ان سیاسی جماعتوں میں تقسیم ہو کر رہ گءہیں. اس لیے عوام کی طرف سے کوئی جامع اور جاندار آواز ابھر کر سامنے نہیں آتی. اسی میں جمہوریت کی نام نہاد چیمپئن قوتوں کی کامیابی ہے. وہ اپنے حصہ کا کھیل اس خوبصورتی سے کھیلتے ہیں. کہ تماشائیوں کو سمجھ نہیں آتی. کہ ہو کیا رہا ہے. وہ سیاسی جماعتوں اور ان کے ورکرز کو آپس میں دست گریباں کیے رکھتے ہیں. ان میں سے جب کسی بھی سیاسی جماعت کو ملک کی باگ دوڑ کا موقع ملتا ہے. باقی سب اس کے دشمن بن جاتے ہیں. اور شور مچانا شروع کر دیتے ہیں. کہ اس کو غلط طریقہ سے اقتدار کے ایوان میں پہنچایا گیا ہے. کیونکہ یہ ہم سے زیادہ طاقتور اور بہتر نہیں. یہی غلط فہمی انہیں آج تک ایک قوم نہیں بنے دیتی. سب کے سب چاپلوسی، خوشآمد پرستی کا اس قدر شکار ہو چکے ہیں. کہ یہ اس فن و ہنر میں ایک دوسرے کو مات دینے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں. سیاسی اکھاڑے کے اصل مالک ان کی اسی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر ان کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتے ہیں. یہ سیاسی دنگل ہمارے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرتا جا رہا ہے. سیاسی اکھاڑے کے حقیقی مالکان سے ہاتھ جوڑ کر التجا ہے. کہ اب اس من گھڑت سیاسی دنگل کو روک دیں. اور اپنے ہاتھ میں سب کچھ لے لیں. بیچاری عوام اس سیاسی دنگل سے اکتا چکی ہے. اب تو اس کی حالت زار دیکھی نہیں جاتی. وہ دو وقت کی روٹی کو ترس رہی ہے. سیاسی جماعتوں کی بہتات نے عوام کو چھوٹے چھوٹے گروہوں میں تقسیم کر کے رکھ دیا ہے. سب اپنی اپنی بولی بولتے ہیں. مشترکہ مفاد کی کسی کو فکر نہیں. ان کے لیے اپنی اپنی سیاسی جماعت کا سربراہ سب سے بہتر ہے. اس کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ ان کے لیے حرف آخر ہیں. یہ اس حقیقت کو جانے بنا کہ ان کی پسندیدہ سیاسی جماعت کا سربراہ بھی سیاسی اکھاڑے کے مالکان کا ذاتی ملازم ہے. فرق صرف اتنا ہے. کہ وقت کے ساتھ ساتھ سیاسی اکھاڑے کا پہلوان بدلتا رہتا ہے. کبھی کوئی ان کا منظور نظر ہوتا ہے. تو کبھی کوئی. طاقت کا یہی اصول ہے. کہ کوئی ہمیشہ کے لیے کسی منصب پر براجمان نہیں رہتا. حالیہ الیکشن میں سیاسی اکھاڑے کے مالکان نے عجیب اور شاندار کھیل کھیلا. جس کی کسی کو سمجھ نہیں آئی. انہوں نے چاروں صوبوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کو حکومت سونپ دی. اور مرکز میں مخلوط حکومت قائم کر دی. جس سے سیاسی جماعتیں اور عوام ذہنی طور پر الجھ کر رہ گئی ہیں. پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ ن ،سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی ،خیبر پختون خواہ میں پاکستان تحریک انصاف ،بلوچستان میں ملی جلی حکومت قائم کر دی گئی. اسی طرح سے مرکز میں کیچڑی پکا دی گئ. مطلب سیاسی نظام اتنا کمزور استوار کیا گیا ہے. جو خود کو بچانے کے چکر میں ہی لگا رہے. اس کمزور سیاسی نظام کی بدولت ملک کی معاشی حالت اس قدر ابتر ہوگئی ہے. کہ لوگ دو وقت کی روٹی کو بھی ترس رہے ہیں. روزگار نہ ہونے کے برابر ہے. سیاسی اکھاڑے کے حقیقی مالکان کا اس سے بھی دل نہیں بھرا. تو انہوں نے عوام کو ذہنی طور پر مزید تقسیم کرنے کے لیے نئے صوبوں کی تشکیل کا شوشہ چھوڑ دیا ہے. وہ ہر صورت عوام کو تقسیم کیے رکھنا چاہتے ہیں. کیونکہ انہیں بخوبی اندازہ ہے. کہ جس دن عوام یکجا ہو گئی. ان کے اقتدار کا سورج غروب ہو جائے گا. وہ اپنے اقتدار کو بچانے رکھنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار بیٹھے ہیں. عوام اس قدر معصوم ہے. کہ وہ سیاسی رہنماو¿ں کے پیچھے لگ کر اپنا نقصان خود کرتی ہے. آج جو ان کے خیر خواہ بنے ہوئے ہیں. جب ان کے پاس اقتدار کی باگ دوڑ تھی. یہی فرعون بنے ہوئے تھے. آج عوام جس کی رہائی کے لیے جدوجہد کر رہی ہے. جب وہ اقتدار میں تھا. تو باقی تمام سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماو¿ں کی تذلیل کرنا اس کا پسندیدہ شیوہ تھا. کیونکہ وہ سیاسی اکھاڑے کے مالکان کا منظور نظر رہنا چاہتا تھا. اسے معلوم نہیں تھا. کہ اس اکھاڑے نے بڑے بڑے نامی گرامی سیاسی کھلاڑیوں کو بچھاڑ کر رکھ دیا ہے. یہ کیا چیز ہے. وہ سر پر چادر اوڑھ کر جس کی نقل اتارتا تھا. آج وہی شخص اس کی جماعت کو لیکر چل رہا ہے. جن مولانا کو غلط القابات سے پکارا جاتا تھا. آج انہیں سے مدد کی اپیل کی جا رہی ہے. یہ مکافات عمل ہے. جس کی سمجھ دیر سے آتی ہے. اس سیاسی اکھاڑے کے چمپئن بدلتے رہتے ہیں. کوئی ہمیشہ کے لیے اس اکھاڑے میں کھڑا نہیں رہا. آج جب ان پر برا وقت چل رہا ہے. تو پاکستان کی عوام کو مدد کے لیے پکار رہے ہیں. مگر انہوں نے ماضی کی غلطیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا. یہ ذہنی طور پر آج بھی سیاسی ناپختگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں. جس صوبہ میں انہیں حکومت سونپی گئی ہے. یہ اسی میں انتشار پیدا کر رہے ہیں. ان کی عوام بھوک سے مر رہی ہے. اور یہ فرد واحد کی آزادی کے لیے کہرام مچا رہے ہیں. کیا ہی اچھا ہوتا. کہ اگر ان کا لانگ مارچ اور دھرنا مہنگائی، بے روزگاری ،پیڑول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف ہوتا. عوام کو بھی سمجھ آتی. کہ یہ ہمارے لیے نکلے ہیں. مگر یہ تو فرد واحد کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے سیاسی ہنگامہ برپا کر رہے ہیں. وفاقی حکومت نے خیبر پختون خواہ میں گورنر راج لگا دیا ہے. کیونکہ ان کی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے ملک کو روزانہ اربوں روپیہ کا نقصان ہو رہا تھا. ان کی ناقص سیاسی حکمت عملی اور سیاسی لڑکپن کی وجہ ان کا اپنا نقصان تو ہوا ہی ہے. انہوں نے اپنے صوبے کی عوام کی زندگیوں کو بھی اجیرن بنا کر رکھ دیا ہے. آنے والے دن ملکی سیاست کے لیے بڑے اہم ثابت ہوگے. سیاسی اکھاڑے کے مالکان سے التجا ہے. کہ سیاسی جماعتوں اور نئے صوبوں کی بجائے. آپ ہی ملک کی بھاگ دوڑ سنبھال لیں. کیونکہ پیچھے رہ کر بھی آپ ہی سب کچھ کرتے ہیں. ان کو تو محض عوام کو دیکھانے کے لیے اقتدار میں لایا جاتا ہے. طاقت کا اصل سرچشمہ تو آپ ہی ہیں. تو کیوں نہ براہ راست ملک کی بھاگ دوڑ آپ ہی سنبھال لیں. اس طرح سے کم از کم کھانے والے تو کم ہو گے. عوام کو تو کچھ ملے گا. اور اس طرح سے ملک میں سیاسی استحکام بھی پیدا ہوگا. ورنہ چوں چوں کا مربہ والی صورتحال چلتی رہی گی. پاکستان کی عوام بھی بڑی معصوم ہے. یہ ہر کسی کے بہکاوے میں اجاتی ہے. اب وقت آگیا ہے. کہ اس سیاسی دنگل سے جان چھڑائیں. اور حقیقی سیاسی قیادت کو ملک کی باگ دوڑ سنبھال دیں.





