دعاوں کی خوشبو اور لاہور کی زندہ دلی
سید تقی رضا بخاری
یہ جو لاہور سے محبت ہے ،
یہ کسی اور سے محبت ہے !
لاہور والوں کی محبت بھی نرالی ہے۔ یہاں دل کسی سے مل جائے تو قصہ بنتا ہے، لیکن اگر دل کھانے سے مل جائے تو تاریخ بن جاتی ہے۔ یہ وہ شہر ہے جہاں کھانے کی میز پر بیٹھ کر رشتے بنتے ہیں، چائے کی پیالی پر دوستیاں پروان چڑھتی ہیں اور کسی کے لیے دسترخوان سجانا محبت کے اظہار کا ایک خوب صورت طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن جب یہی دسترخوان ان بزرگ ماو¿ں کے لیے سجایا جائے جنہیں زندگی کے کسی موڑ پر تنہائی کا سامنا ہو، تو کھانا محض کھانا نہیں رہتا بلکہ محبت، احترام اور انسانیت کا پیغام بن جاتا ہے۔اسی جذبہ انسان دوستی کی ایک قابلِ تحسین مثال صدیق سنز کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی وہ خصوصی تقریب تھی جس میں اولڈ ایج ہوم سے آنے والی سینکڑوں بزرگ خواتین کو مہمانِ خصوصی کا درجہ دیا گیا۔ یہ محفل روایتی ضیافت سے بڑھ کر بزرگ خواتین کی عزت افزائی، دل جوئی اور ان کے ساتھ اپنائیت کا رشتہ استوار کرنے کی ایک خوب صورت کوشش تھی۔ ان محترم مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا گیا، ان کی آمد کو خوشی کا موقع بنایا گیا اور محبت و احترام کے ساتھ ان کی میزبانی کی گئی۔ذرا تصور کیجیے، وہ مائیں جنہوں نے زندگی کا بڑا حصہ اپنے پیاروں کی پرورش، گھر کی رونق اور خاندان کی خوشیوں کے لیے وقف کر دیا ہو، جب خود کسی محفل میں خصوصی مہمان بن کر پہنچیں، ان کے استقبال کے لیے مسکراتے چہرے موجود ہوں اور انہیں عزت و محبت سے نوازا جائے، تو ان کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟ بعض خوشیاں لفظوں کی محتاج نہیں ہوتیں۔ آنکھوں کی نمی، چہرے کی مسکراہٹ اور لبوں سے نکلنے والی دعا ہی ان کی پوری داستان سنا دیتی ہے۔تقریب میں صدیق سنز کی جانب سے پرتکلف کھانوں کا اہتمام کیا گیا۔ مختلف لذیذ پکوانوں سے سجے دسترخوان نے مہمانوں کی تواضع کو یادگار بنایا، تاہم اس محفل کا اصل حسن کھانوں کی کثرت نہیں بلکہ خدمت کا وہ جذبہ تھا جس نے ہر انتظام کو محبت کے رنگ میں رنگ دیا۔ صدیق سنز کے عملے نے بزرگ خواتین کی دیکھ بھال اور میزبانی میں جس خلوص اور توجہ کا مظاہرہ کیا، اس نے تقریب کو محض ایک رسمی سرگرمی کے بجائے ایک جذباتی اور بامقصد یادگار بنا دیا۔یہاں لاہور کا ذکر ہو اور کھانوں کی بات نہ ہو، ایسا کیسے ممکن ہے! لاہور تو وہ شہر ہے جہاں صبح لکشمی چوک کی پوری اور نہاری سے ہوتی ہے، شام گوالمنڈی اور انارکلی کی رونقوں میں ڈھلتی ہے اور رات کڑاہی، تکوں اور کبابوں کی خوشبو کے ساتھ جوان رہتی ہے۔ لاہوریوں کے لیے کھانا زندگی کی خوشیوں کا ایک اہم حصہ ہے۔ مگر اس تقریب نے ایک خوب صورت پیغام دیا کہ دسترخوان کی حقیقی وسعت اس کے پکوانوں سے نہیں بلکہ اس پر بیٹھنے والوں کے احترام سے ناپی جاتی ہے۔صدیق سنز لاہور کی فوڈ اور کیٹرنگ کی صنعت میں اپنی شناخت رکھنے والا نام ہے۔ گلبرگ میں ایم ایم عالم روڈ اور غالب روڈ کے قریب بلاک سی ون میں واقع اس کا منصوبہ ”ص بائے صدیق سنز“، جسے ”سواد پریمیم“ کے نام سے بھی متعارف کرایا جاتا ہے، اپنے شاہی مٹن بوفے، روایتی پکوانوں اور براہِ راست پکوان کی تیاری کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے۔ شادی بیاہ، کارپوریٹ تقریبات اور بڑی دعوتوں کے لیے کیٹرنگ کی خدمات بھی اس کے کام کا حصہ ہیں۔ تاہم کسی بھی ادارے کی کامیابی کا ایک خوب صورت پہلو اس وقت سامنے آتا ہے جب وہ اپنے کاروباری دائرے سے آگے بڑھ کر سماجی ذمہ داری اور انسان دوستی کو بھی اہمیت دے۔اولڈ ایج ہوم کی بزرگ خواتین کے اعزاز میں منعقدہ یہ تقریب اس سوچ کی عکاس تھی کہ معاشرے کے بزرگ افراد توجہ، عزت اور محبت کے حق دار ہیں۔ ان کی زندگیوں میں خوشی کے مواقع پیدا کرنا، انہیں تنہائی کے احساس سے نکالنے کی کوشش کرنا اور یہ باور کرانا کہ معاشرہ انہیں فراموش نہیں کر چکا، ایک قابلِ قدر سماجی عمل ہے۔تقریب کے اختتامی لمحات بھی جذبات سے بھرپور تھے۔ جب ان بزرگ خواتین کو محبت، خلوص اور دعاو¿ں کے ساتھ رخصت کیا گیا تو یہ الوداعی منظر محفل کی یادوں میں ایک خاص مقام لے گیا۔ بزرگ ماو¿ں کی دعائیں اور ان کے چہروں پر خوشی کی جھلک اس شام کا وہ حاصل تھیں جنہیں کسی مالی پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ بلاشبہ، کسی دل کو خوشی دینا اور کسی تنہا انسان کو اپنائیت کا احساس دلانا ایسی نیکی ہے جس کے اثرات دیر تک باقی رہتے ہیں۔البتہ ایسی تقریبات کا حقیقی پیغام تبھی مکمل ہوتا ہے جب خصوصی مواقع پر ہونے والی محبت روزمرہ زندگی میں بھی جاری رہے۔ بزرگوں کی خبرگیری، ان کے پاس بیٹھنا، ان کی بات سننا اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ کسی ایک شام کی خوشی اگر مستقل رابطے اور احترام میں بدل جائے تو اس کا ثمر کہیں زیادہ گہرا ہو سکتا ہے۔صدیق سنز کی یہ تقریب اس حقیقت کی خوب صورت یاد دہانی تھی کہ ذائقے زبان کو خوش کرتے ہیں، مگر خلوص دلوں میں جگہ بناتا ہے۔ لاہور کی اصل زندہ دلی بھی یہی ہے کہ یہاں کھانے کے ساتھ محبت بانٹی جائے اور دسترخوان پر کھانوں کے ساتھ عزت و احترام بھی پیش کیا جائے۔سو، لاہور والو! اپنے شہر کے ذائقوں پر فخر کیجیے، اس کی ثقافت کو اپنائیے اور اس کی انسان دوستی کی روایت کو آگے بڑھائیے، کیونکہ شہر صرف عمارتوں اور بازاروں سے نہیں بلکہ ان جذبوں سے عظیم بنتے ہیں جو انسان کو انسان کے قریب لاتے ہیں۔
یہ جو لاہور سے محبت ہے، یہ کسی اور سے محبت ہے!





