#کالم

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام: مالی سہارا، بدلتی زندگیاں

Untitled gtyf1

ن و القم۔۔۔مدثر قدیر

پاکستان میں غربت اور معاشی عدم استحکام نے دہائیوں سے کم آمدن والے خاندانوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں زندگی کا گزارا ایک مستقل جدوجہد ہے، جہاں گھرانہ ایک بار نقصان اٹھا لے تو اگلے دن کا سوچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی پس منظر میں سن 2008 میں پاکستان حکومت نے ایک بڑا سماجی تحفظاتی پروگرام شروع کیا — بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP)۔ اس کا بنیادی مقصد تھا غریب اور کمزور خاندانوں، خاص طور پر خواتین، کو براہِ راست مالی امداد فراہم کرنا تاکہ وہ اپنے روزمرہ کے اخراجات، بچوں کی تعلیم اور بنیادی ضروریات پوری کر سکیں۔
شروع میں اس پروگرام کو نقد امداد تک محدود رکھا گیا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں کئی اصلاحات کی گئیں، شفافیت پر زور دیا گیا اور مستحق افراد تک مدد پہنچانے کے نظام کو مضبوط کیا گیا۔ آج BISP پاکستان کا سب سے بڑا سماجی تحفظاتی پروگرام بن چکا ہے، جس میں نہ صرف نقد امداد شامل ہے بلکہ تعلیمی وظائف، صحت اور بچوں کی دیکھ بھال جیسے متعدد معاون اقدامات بھی شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
لاہور کے نواحی علاقے باٹا پور کی رہائشی ثریا اسی پروگرام کی حقیقی تصویر ہے۔ ثریا کے گھر میں محدود آمدن ہے، اس کے شوہر مزدوری کرتے ہیں اور بچوں کی فیس، راشن اور بجلی کا بل اکثر پریشانی کا سبب بنتا ہے۔ ایک دن اس کے تحصیل شالیمار میں رہنے والے رشتہ دار نے اسے بتایا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مستحق خاندانوں کے اندراج کا نیا عمل شروع ہوا ہے اور وہ بھی اپنا اندراج کروا سکتی ہے۔
ثریا کی ایماندار کوشش یہ تھی کہ وہ شناختی کارڈ اور بچوں کے ب فارم کے ساتھ اپنے قریبی رجسٹریشن مرکز پہنچی جہاں اسے بتایا گیا کہ اب ڈائنامک سروے کے ذریعے خاندانوں کے حقیقی معاشی حالات کا جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ امداد صرف واقعی مستحق افراد تک پہنچے۔ اسے یہ بھی سمجھایا گیا کہ یہ امداد کسی سفارش یا تعلق کی بنیاد پر نہیں دی جاتی اور اس کا مقصد صرف غریب خاندانوں کو مالی سہارا پہنچانا ہے۔
چند دن بعد جب ثریا کو 8171 سے پیغام موصول ہوا کہ وہ بے نظیر کفالت پروگرام کے لیے اہل قرار پا گئی ہے تو وہ خوشی سے بے خود ہو گئی۔ یہ پیغام نہ صرف ایک مالی امداد کی نوید تھا بلکہ اس کے دل میں یہ احساس بھی بٹھا گیا کہ مشکل حالات میں وہ تنہا نہیں ہے۔ اسے بتایا گیا کہ صرف 8171 سے آنے والے پیغامات قابلِ اعتبار ہیں اور کسی دوسرے نمبر یا ایجنٹ پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔
حکومت کی تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق بی آئی ایس پی اب پاکستان بھر میں تقریباً 9.4 ملین مستحق خاندانوں کو شامل کر چکا ہے اور مالی سال 2023-24 کے دوران 313.4 ارب روپے سے زائد رقم ان خاندانوں میں تقسیم کی جا چکی ہے، جس میں 257.5 ارب روپے غیر مشروط نقد امداد اور 56 ارب روپے مشروط سیکٹر (تعلیمی وظائف وغیرہ) کے تحت دیے گئے۔یہ تاریخی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پروگرام نے کس قدر وسعت اختیار کی ہے۔ ابتدائی سالوں میں چند لاکھ خاندان مستفید تھے، مگر موجودہ دور میں یہ تعداد تقریباً نوجوان اور بزرگ، خواتین اور بچے سب شامل کرتے ہوئے 9 ملین سے تجاوز کر چکی ہے۔ حکومت نے معاشی سال 2025-26 کے بجٹ میں بھی 716 ارب روپے پروگرام کے لیے مختص کرنے کی تجویز دی ہے، جس سے نہ صرف رقم میں اضافہ ممکن ہوگا بلکہ مزید خاندانوں کو بھی شامل کیا جا سکے گا۔
BISP کے تحت فراہم کی جانے والی امداد کا طریقہ کار واضح اور شفاف رکھا گیا ہے۔ ہر سہ ماہی پر اہل خاندانوں کو نقد رقم موصول ہوتی ہے، جو موجودہ دور میں تقریباً 10,500 روپے سے بڑھ کر 13,500 روپے فی سہ ماہی تک پہنچ گئی ہے۔ یہ رقم گھر کے اخراجات، یومیہ ضروریات، بچوں کی کتابوں اور دیگر مطالبات کو پورا کرنے میں مدد دیتی ہے، خاص طور پر جب عام مہنگائی نے ہر چیز کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہو۔
ثریا جیسے خاندانوں کے لیے یہ رقم محض نقد امداد نہیں، بلکہ ایک نفسیاتی اور سماجی سہارا بھی ہے۔ اس کے بچے اسکول جا رہے ہیں، اس کے گھر میں کچھ سکون آیا ہے اور اسے معلوم ہے کہ ہر تین ماہ بعد امداد کا ایک سلسلہ برقرار رہے گا۔ ساتھ ہی، پروگرام کے ذریعے بچوں کے تعلیمی وظائف اور بچوں کی نشوونما کے منصوبے ان کے مستقبل میں اضافی مدد فراہم کر رہے ہیں، بشرطیکہ اسکول میں شرکت اور دیگر شرائط پوری کی جائیں۔ اس کے باوجود بعض ناقدین اس پروگرام میں تعطل، فراڈ اور مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔ ایک آڈٹ رپورٹ میں 141 ارب روپے سے زائد مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا، جس میں کچھ معاملات میں غیر ضروری ادائیگیاں سامنے آئیں، جس نے پروگرام کے انتظامی امور میں مزید شفافیت کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اگرچہ غربت کا مکمل حل نہیں ہے، مگر یہ یقینی طور پر ایک مضبوط سماجی تحفظ کا نظام ہے جس نے لاکھوں خاندانوں کو مالی دباؤ سے نکالنے میں مدد کی ہے۔ یہ صرف کسی ایک مقام تک محدود معاہدہ نہیں، بلکہ ملک بھر میں غریب خاندانوں کے روزمرہ مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کی ایک مسلسل کوشش ہے۔
ثریا کی کہانی ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ جب ریاستی پالیسیاں شفاف، منظم اور لوگوں تک پہنچنے کے قابل ہوں تو وہ نہ صرف اعداد و شمار بنتی ہیں بلکہ حقیقی زندگیوں میں تبدیلی کا سبب بن سکتی ہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام بھی اسی سوچ کا مظہر ہے، جو خاموشی سے پاکستان کے غریب خاندانوں کو مدد پہنچاتا ہے، انہیں مالی تحفظ فراہم کرتا ہے اور مستقبل کے بارے میں ایک امید جگاتا ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے