چنن پیر کا میلہ امن کا میلہ
احساس کے انداز. تحریر ۔جاویدایازخان
حضرت چنن پیر ؒ چولستان اور روہی کے بے تاج بادشاہ ہیں
میرا تعلق ریاست بہاولپور کے دارلخلافہ صادق گڑھ پیلس ڈیرہ نواب صاحب سے ہے جو چولستان اور روہی کا گیٹ وے ہے۔ بچپن میں ہمارے علاقہ کی سب سے بڑی تفریح اور تہوار چنن پیر کا میلہ تھا۔ چنن پیر کے زا ئرین دور دراز سے مسلسل سات جمعرات وہاں جاتے ہوے پہلا قیام یہاں پر کرتے اور پیدل ، سایکلوں ،اونٹوں ،اونٹ گاڑیوں اور گھوڑے تانگوں کا یہ بڑا پڑاوُ بذات خود ایک پر رونق میلے میں بدل جاتا تھا شتر بانوں کے قافلے اپنی منزل سے چل کر رات کے ملگجے اندھیروں یا نیم صبح یہاں پہنچتے تو ڈاچیوں کی گھنٹیاں اور گھوڑوں کی ٹاپیں عقیدت مندوں کی آمد کا اعلان کرتیں ۔دیہاتی مرد وخواتین رنگ برنگ لباس اور زیورات میں ملبوس یہاں پہلا پڑاو ڈالتے تھے یہ ٹولیاں باقاعدہ ڈھول تاشے کی تھاپ پر رقص کرتے یہاں سے گذرتے اور ہم دور تک ان کے نعروں کی آوزیں سنتے تھے ۔ہم لوگ پورے سال اس میلے کا انتظار اور تیاری کرتے تھے۔کیونکہ اس میلے کے دوران موٹر سایکل ،تانگوں ،اونٹوں کی دوڑ بھی شامل ہوتی اور ساتھ ساتھ اونٹوں کا رقص ،اونٹوں کی لڑائی اور دوڑ کے ساتھ ساتھ کبڈی،کشتی، اور مقامی کھیلوں کے مظاہرے بھی دیکھنے سے تعلق رکھتے ۔ میلے کی روائتی تفریح اور خریدو فروخت کے ساتھ ساتھ چولستانی زیور،لباس ، صحرائی زندگی سے وابستہ ہر سامان کی دستیابی بھی اس میلے کا ایک حسن ہے ۔یہ میلہ پانچویں جمعرات کو اپنے عروج پر پہنچ جاتاہے۔میلہ اب بھی ہوتا ہے مگر وہ رونق سڑکیں بننے اور تیز رفتار سواریوں کے آجانے سے بہت کچھ بدل چکا ہے ۔اب صحرا کے ساتھ ساتھ آبا د زمینیں اور سرسبز فصلیں لہلاتی نظر آتی ہیں ۔ڈیرہ نواب صاحب سے چنن پیر تک پہلے کھتڑی بنگلہ اور پھر مٹھڑا بنگلہ قیام ہوتا یہ سارا روہی چولستا ن کہلاتا تھا راستے میں ایک بڑا ڈاہر یعنی پلین میدانی سرزمین آتی تھی یہاں دوڑیں ہوتی تھیں ۔سب سے مشہور تانگہ دوڑ ہوتی تھی ۔جس پر بہت بڑی بڑی شرطیں لگتی تھیں ۔یہ سماں اب چولستان جیپ ریلی میں نظر آتا ہے ۔چنن پیر کے میلے پر ہر بوڑھا ،جوان،عورت اور بچہ بلا خوف وخطر شریک ہوتا تھا ۔اس سے طویل ،پرامن تہوار اور میلہ مجھے کہیں نظر نہ آیا ۔چنن پیر کے مزار پر لق ودق صحرا کے چاروں جانب سے تا حد نظر آنے والے قافلوں کا نظارہ آج بھی اتنا خوبصورت اور دیدہ زیب ہوتا ہے کہ انسان کو ریگستان کا یہ حسن اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ یہ قافلے رات کو جب الاو ُ جلاتے ہیں تو روہی جگمگا اُٹھتی ہے اور ہر جمعرات کو روشنیوں کا ایک شہر آباد ہو جاتا ہے اور پورا علاقہ مقامی موسیقی کے سحر میں ڈوب جاتا ہے شہنائی اور بانسری کی خوبصورت دھنیں اور ڈھول کی تھاپ پر سرائیکی جھومر کی کشش آپکو مسحور کر دیتی ہے ۔جانور قربان کئے جاتے ہیں کھانے پکاے اور تقسیم کئے جاتے ہیں ۔اب رفتہ رفتہ ریگستان آباد ہوتے جارہے ہیں ۔پکی سڑکوں کے جال بچھ چکے ہیں ۔مگر میلہ اب بھی جاری ہے تانگوں ،اونٹوں ،کی جگہ اب جیب کاروں نے لے لی ہے ۔جس کی وجہ سے سفر کی خوبصورتی اب وہ نہیں رہی ۔ یہ واحد تہوار ہے جہاں مسلمانوں کے ساتھ ہندو بھی مزار پر حاضری دیتے اور منت مانتے اور منت اتارنے آتے ہیں ۔ سابق ریاست بہاولپورمیں سینکڑوں بزرگان دین اشاعت اسلام کی تبلیغ اور روحانی اصلاح کےلیے تشریف لاے ُ ان بزرگان کی بدولت بہاولپور دین کا گہوارہ بن گیا ۔یہاں کے ماحول میں دین اور مذہب سے دلی اور جذباتی وابستگی ان ہی کی مرہوں منت ہے ۔ان بزرگوں میں سے ایک حضرت چنن پیر جیسلمیر کے بادشاہ کی اولاد تھے جن کے سالانہ عسرس پر یہ میلہ سجتا ہے ۔حضرت چنن پیر سے لوگوں کی عقیدت اور محبت ہر سال انہیں یہاں کھنچ لاتی ہے۔ میلوں لمبے چوڑے چولستان میں انسانوں کا سمندر جنگل میں منگل کا منظر پیش کرتا ہے یوں تو چنن پیر کے بارے میں کئی روایات اور قصے مشہور ہیں لیکن بچپن میں مجھے ایک بزرگ نے بتایا اور پھر میں نے پڑھا بھی کہ جب مشہور بزرگ حضرت جلال الدین سرخ پوش یہاں سے گزرے تو یہاں کےبے اولاد بادشاہ سادھارن نے آپ سے اولاد کے لیے دعا کی درخواست کی جس پر آپکی دعا سے بادشاہ کے ہاں شہزادہ پیدا ہوا جو اتنا خوبصورت تھا کی لوگ اسے چاند سے تشبہہ دیکر چنن پکارنے لگے ۔جب بولنے کی عمر کوپہنچا تو کلمہ پرھنے لگا جس پر رعایا میں مشہور ہوا کہ بادشاہ کا بیٹا مسلمان ہے ۔تو بادشاہ نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا لیکن ملکہ نے جان بخشی کےلیے منت کی جو اس شرط پر قبول ہوئی کہ اب چنن کو محل کی بجاے صحرا میں رہنا پڑے گا ۔اسطرح روتی بلکتی ملکہ کے بیٹے کو صحرا میں تنہا چھوڑ دیا گیا۔جہاں لوگوں نے دیکھا کہ ایک ہرنی چنن کو دودھ پلا رہی ہے ۔یہ خبر ملکہ تک پہنچی تو وہ بھی محل چھوڑ کر صحرامیں آگئی ۔جس پر بادشاہ نے دونوں کے قتل کا حکم دیا مگر جب شاہی سپاہی اس ٹیلے پر پہنچے تو چنن وہاں سے غائب ہوچکے تھے۔ ایک روایت ہے کہ آپ وہاں سے اوچشریف تشریف لے گئے اور سلسلہ بخاریہ کے عظیم پیشوا مخدوم حضرت جہانیاں جہاں گشت ؒ کے دست بیعت ہوے اور پھر واپس وہیں لوٹ آے اور رشد وہدایت کا سلسلہ شروع کردیا اور بہت بڑے عالم دین و مبلغ اسلام ثابت ہوے ُ اور چولستان کے ایک بڑے حلقے کو مرید بنا کر مسلمان کیا ۔یہ بھی روایت ہے کہ چنن پیر کا مزار ریت کے اسی ٹیلے پر واقع ہے جب بھی اس پر عمارت قائم کرنے کی کوشش ہوئی ناکام ہوئی البتہ مزار سے کچھ فاصلے پر مسجد تعمیر ہو چکی ہے ۔مزار کے احاطے میں ایک درخت ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ چنن ؒکی والدہ یہاں دفن ہیں ۔زائرین اپنی منت یا حاجت بیان کرکے اس درخت سے کپڑے کی کتر






