برف کا کفن اور حکمرانوں کی بے حسی
ڈیرے دار سہیل بشیر منج
جنوری کی وہ سرد اور سیاہ رات مری کے برفیلے پہاڑوں پر قیامت بن کر ٹوٹی جب آسمان سے گرتی سفید برف معصوم سیاحوں کے لیے کفن بن گئی اس وقت کی تحریک انصاف حکومت کی مجرمانہ غفلت اور سنگدلی کا یہ عالم تھا کہ مری کے راستوں پر انسانی جانیں سسک رہی تھیں اور حکمران اپنی عیاشیوں اور خواب خرگوش میں مگن تھے وہ مائیں وہ بہنیں اور وہ ننھے بچے جو خوشیاں منانے گئے تھے برف کے بے رحم طوفان میں اپنی گاڑیوں کے اندر ہی منجمد ہو کر رہ گئے انتظامیہ کی نااہلی کا یہ حال تھا کہ ہزاروں گاڑیاں پھنسی ہونے کے باوجود کوئی بچاؤ کا راستہ نہیں بنایا گیا اور نہ ہی برف ہٹانے والی مشینری وقت پر پہنچی معصوم پاکستانی اس امید پر دم توڑ گئے کہ شاید ریاست انہیں بچانے آئے مگر ریاست کے کارندے اور پی ٹی آئی کے وزراء تو اس المناک سانحے کو سیاحت کے فروغ کا نام دے کر اپنی بے حسی کا ثبوت دے رہے تھے بائیس سے زائد قیمتی جانوں کا ضیا ع صرف ایک قدرتی آفت نہیں تھی بلکہ یہ اس وقت کے حکمرانوں کی بے تدبیری اور انسانی جانوں سے بیزاری کا منہ بولتا ثبوت تھا جس نے کئی گھروں کے چراغ ہمیشہ کے لیے گل کر دیے تھے مری کی وہ برفیلی سڑکیں آج بھی ان بے گناہ مقتولین کی چیخوں کی گواہی دیتی ہیں جنہیں حکومتی غفلت نے جیتے جی برف میں دفن کر دیا اب دونوں سیاسی جماعتوں کی طرز حکمرانی کا فرق ملاحظہ فرمائیے
مری کی حسین وادیوں میں رواں سال سیاحوں کی آمد پر پنجاب حکومت کی جانب سے کیے گئے انتظامات نے نظم و ضبط کی ایک نئی اور روشن مثال قائم کی ماضی کے تلخ تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے اس بار انتظامیہ پہلے سے کہیں زیادہ منظم اور متحرک نظر آئی جس کی وجہ سے سیاحوں کو کسی بڑی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا محترمہ مریم نواز کی قیادت میں صوبائی حکومت نے مری کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر ٹریفک پلان کو انتہائی مربوط بنایا اور برف باری کے دوران مشینری کی بروقت موجودگی کو یقینی بنایا تاکہ راستے بلا تعطل کھلے رہیں سیاحوں کی سہولت کے لیے جگہ جگہ ہیلپ ڈیسک قائم کیے گئے اور ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل دیا جا سکے ہوٹل مالکان کی جانب سے اضافی کرایوں کی وصولی پر کڑی نظر رکھی گئی اور ضلعی انتظامیہ نے خود میدان میں اتر کر سیاحوں کی داد رسی کی جو کہ ایک خوش آئند قدم ہے تاہم ان بہترین انتظامات کو مزید بہتر بنانے کے لیے مری میں پارکنگ کے مسائل کا مستقل حل نکالنے کی ضرورت ہے اور جدید ترین شٹل سروس کا آغاز کیا جا سکتا ہے تاکہ مری کے اندر گاڑیوں کا دباؤ کم ہو سکے اس کے ساتھ ساتھ سیاحتی مقامات پر ڈیجیٹل انفارمیشن ڈسپلے مری اور گرد و نوا ح میں موجود موبائل فونز پر ایس ایم ایس الرٹ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے آگاہ کرنے کے لیے اسمارٹ ایپ کو مزید فعال بنا کر سیاحوں کے تجربے کو یادگار بنایا جا سکتا ہے عوامی شعور کی بیداری کے لیے مہم چلا کر سیاحوں کو کوڑا کرکٹ پھیلانے سے روکنے اور ماحول کی حفاظت پر آمادہ کرنا بھی وقت کی ضرورت ہے تاکہ مری کا قدرتی حسن بھی برقرار رہے اور سیاح بھی مکمل تحفظ کے ساتھ ان خوبصورت نظاروں سے لطف اندوز ہو سکیں پنجاب حکومت کے ان بروقت اقدامات نے ثابت کیا ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور عزم پختہ ہو تو کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹا جا سکتا ہے اور عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکتا ہے
ترقی یافتہ ممالک میں برف باری کو محض ایک قدرتی نظارہ نہیں بلکہ ایک بڑی انتظامی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے جہاں ریاست اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی اور پیشگی منصوبہ بندی کا سہارا لیتی ہےان ممالک میں برف باری کا آغاز ہوتے ہی اسمارٹ مانیٹرنگ سسٹم متحرک ہو جاتا ہے اور سڑکوں پر خودکار مشینری کے ذریعے نمک کا چھڑکاؤ اور برف کی صفائی کا کام منٹوں میں مکمل کر لیا جاتا ہےتاکہ نظام زندگی معطل نہ ہو وہاں کی حکومتیں موسم کی شدت سے نمٹنے کے لیے جی پی ایس ٹریکنگ اور لائیو ٹریفک اپ ڈیٹس کے ذریعے عوام کو لمحہ بہ لمحہ باخبر رکھتی ہیں اور ہنگامی صورتحال کے لیے خاص طور پر تربیت یافتہ ریسکیو ٹیمیں ہر وقت موجود رہتی ہیں جو کسی بھی گاڑی کے پھنسنے یا طبی امداد کی ضرورت پڑنے پر فوری جائے وقوعہ پر پہنچ جاتی ہیں سیاحتی مقامات پر ہیٹنگ سسٹم
سے لیس پناہ گاہیں اور مفت گرم مشروبات کی فراہمی جیسے اقدامات شہریوں کے لیے ریاست کی محبت اور ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہیں ان ممالک میں قانون کی گرفت اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ ہوٹل یا ٹرانسپورٹ مالکان مشکل وقت میں کسی کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر زائد کرایہ وصول کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتےکیونکہ وہاں انسانی جان اور وقار کو ہر چیز پر مقدم رکھا جاتا ہے یہی وہ منظم طرز حکمرانی ہے جو ان اقوام کو دنیا بھر میں ممتاز بناتا ہے اور ان کے شہریوں کے دل میں ریاست کے لیے اعتماد پیدا کرتا ہےحکومت پنجاب سیاحت کو معیشت کا
کلیدی ستون بنانے کے لیے صوبے کے چھپے ہوئے قدرتی اور تاریخی خزانوں کو عالمی معیار کے مطابق ڈھال کر کثیر زرمبادلہ کما سکتی ہے مری اور گلیات کے ساتھ ساتھ سون سکیسر کی وادیوں فورٹ منرو کے پرفضا مقام اور جہلم کے نمک کے پہاڑوں کو جدید سیاحتی مراکز کے طور پر سجایا جا سکتا ہےجبکہ لاہور ملتان ہڑپہ اور ٹیکسلا جیسی قدیم تہذیبوں کے آثار کو بین الاقوامی سطح پر پروموٹ کر کے مذہبی اور ثقافتی سیاحت کے نئے پوائنٹس کھولے جا سکتے ہیں حکومت کو چاہیے کہ ان مقامات پر تھری اسٹار ہوٹلز بین الاقوامی معیار کی سڑکیں فوڈ سٹریٹس چیئر لفٹ کیبل کار اور تیز رفتار انٹرنیٹ جیسی سہولیات فراہم کرےتاکہ






