مسئلہ کشمیر پس منظر و پیش منظر
از حکیم راحت نسیم سوہدروی
1947 میں جب تقسیم ہند کے نتجے میں دو ازاد ریاستیں ہندوستان اور پاکستان کے قیام کا فیصلہ ہوا تو قرار پایا کہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان کا حصہ ہوں گے جب کہ پانچ سو کے لگ بھگ ازاد اور نیم خود مختار ریاستوں کے بارے طے پایا کہ مسلم اکثریتی آبادی والی ریاستیں پاکستان سے ملحق ہونے میں ازاد ہوں گی البتہ اگر کسی ریاست میں مسلمانوں کی اکثریت ہو اور حکمران غیر مسلم ہو تو ایسی صورت میں فیصلہ جغرافیائی حالات اور عوام کی مرضی سے ھوگا مگر ایک سازش کے تحت ریڈ کلف ایوارڈ کے جانبدارانہ فیصلہ سے ہندوستان کو گورداسپور ضلع کی بعض تحصیلوں دے کر ہندوستان کی کشمیر تک غیر قدرتی راہ پیدا کر دی گئ اس سلسلے میں اس وقت کے وائسرے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا کردار اور ریڈ کلف کی سازش اب تاریخ کے صفحات پر پوری طرح عیاں ہو چکی ہے اور ریڈ کلف کے سیکرٹری کرسٹن فر جو اس کا عینی شاہد تھا نے بھی اپنے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں اس کی تصدیق کردی تھی
وادی کشمیر جسے جنت ارضی کہا جاتا ہے اور جس کے متعلق بادشاہ جہانگیر نے تزک جہانگیری میں لکھا ھے کہ اگر روح زمین پر جنت نظیر خطہ ہے تو وہ وادی کشمیر ہے یہ وادی ہمیشہ سے اسلام کا گہوارہ رہی ہے مغلوں کے دور میں اسے صوبے کا درجہ حاصل رہا پھر جب انگریز حکمران بنے تو بھی اس کی الگ حثیت قائم رہی ایک سو سال کے اقتدار کے بعد 1846 میں معائدہ امرتسر کے تحت مہا راجہ گلاب سنگھ ڈوگر کو 75 لاکھ نانک شاھی ( روپے) اور سالانہ چند بکریوں اور شالوں کے عوض فروخت کردیا گیا تھا- جس کے بعدگلاب سنگھ نے کشمیریوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے پھر اس کے پوتے ہری سنگھ نے بھی یہی سلوک روا رکھا یہاں تک کہ کشمیری خود کو اس خاندان کا غلام سمجھنے لگے اس ڈوگرہ خاندان کا دور حکومت مسلمانوں کے لئے سیاہ دور ثابت ھوا مسلمانوں کو سیاسی معاشی تعلیمی اور سماجی طور پر ختم کرنے کی سعی ہوئ جبکہ برہمنوں کو جو کشمیری پنڈت کہلاتے تھے ہر طرح سے مضبوط بنایا گیا جس سےمسلمانوں کے صبر کاپیمانہ لبریز ہوگیا اور 1924 میں وائسرے ہند لارڈ ریڈنگ کو یاداشت پیش کی کہ ان کے مسائل کا مدوا کیا جاے لارڈ ریڈنگ نے اس پر کمیٹی بنائ مگر اس کے جانے کے بعد مہاراجہ ہری سنگھ نے یہ کمیٹی ھی ختم کردی جس پر مسلمانوں نے بھرپور احتجاج کیا مسلمان راہنما عبدالقدیر نے قیادت کی اور ریلی سے خطاب کیا جس پر اسے گرفتار کرلیا گیا 13 جولائ 1931 کو اس کے خلاف سری نگر جیل میں مقدمہ کی سماعت ہوئ تو مسلمانوں نے جیل کے باھر دھرنا دے دیا مگر ڈوگرہ حکمرانوں نے تشدد کی انتہا کردی اور گولیاں چلا دئیں 13 افراد شہید ہوئے اور بے شمار نذرزندان ہوے جس پر پورے ہندوستان کے مسلمان اظہار یک جہتی کے لئے نکل ائے اور ایک کمیٹی بنائی اور آزادی کشمیر کےلئے جدوجہد کا آغاز کردیا 1943 میں قائد اعظم نے بھی کشمیر کا دورہ کیا 1947 میں جب تقسیم ہند کا فیصلہ ہوا تو کشمیر جو ھر اصولی قانونی اخلاقی اور جغرافیائی لحاظ سے اور تقسیم ہند کے فارمولے کے مطابق پاکستان کا حصہ بنتا تھا کو متنازعہ بنا دیاگیا جس پر طے یہ پایا کہ صورت حال کو اسی طرح رکھا جاےمگر ریڈ کلف کے غلط اور جانبدارانہ فیصلہ کی وجہ سے ہندوستان نے گورداسپور کے راستے سے رسائ حاصل کرلی اور مہاراجہ ھر ی سنگھ کو معزول کرکے اپنی افواج کشمیر میں داخل کرکے قبضہ کر لیا اور جواز یہ دیا کہ ہری سنگھ نے دوماہ قبل تحریری طور پر ہندوستان سے الحاق کی درخواست کی تھی جو قبول کر لی گی ہے جب کہ ہری سنگھ دوماہ گیارہ روز قبل حالات کو فی الحال جوں کا توں رکھنے کا معائدہ کرچکا تھا ویسے بھی ہری سنگھ عوام کا نمائندہ نہیں تھا اور اسے اقتدار اپنے دادا سے وراثت میں ملا تھا جس نے اقتدار انگریز سے معائدہ امرتسر کے تحت خریدا تھا ہندوستان اس نام نہاد دستاویز کی اڑ میں اپنی افواج کشمیر میں لے آیا اور قبضہ کرلیا حکومت پاکستان نئ نئ بنی تھی اور انتظامی مسائل میں الجھی ہوئ تھی کسی طرح مستحکم نہ تھی بے شمار مالی سیاسی انتظامی
ی فوجی اور اقتصادی مسائل تھے جب کہ کشمیری عوام اٹھ کھڑے ھوے اور کچھ حصہ ازاد کراکے ازاد کشمیر حکومت قائم کردی تو ہندوستان خود ھی اقوام متحدہ میں چلا گیا جہاں تسلیم کیا کہ یہ متنازعہ علاقہ ہے جس کا تصفیہ ہونا ھے اس کی افواج عارضی طور گئ ہے اور کشمیریوں کو اپنے مستقبل کے فیصلہ کا اختیار ہوگا کہ وہ ہندوستان یا پاکستان جس کے ساتھ مناسب سمجھیں الحاق کریں اس سلسلے میں باقاعدہ راے شماری ہوگی جس پر اقوام متحدہ نے راے شماری کی قرارداد منظور کرلی مگر ہندوستان چانکیہ کے اصول سیاست کے تحت کہ مفاد کے لئےد ھوکا اور جھوٹ جائز ہے اس طرح اپنے ہی اعلان سے منکر ہوگیا اور اب تک مسلسل ٹال رہا ہے اہل کشمیر دیکھتے اور سوچتے رہے مگر جب کوئ داد رسی نہ ہوئ تو اٹھ کھڑے ہوئے کشمیری مسلمانوں کی سعی ناکام بنانے کے لئے ان کی تنظیم ال جموں و کشمیری کانفرنس کے چوہدری غلام عباس کے سامنے نیشنل جموں کشمیر کانفرنس کے شیخ عبداللہ کو وزیراعظم نامزد کردیا اس طرح شیخ عبداللہ پنڈت نہرو کے ہم رنگ دام میں آگئے اور ہندوستان کی سازش کامیاب ہوگئ اگر شیخ عبداللہ غداری کا مرتکب نہ ہوتا تو اج کشمیر ازاد ہوتا مگر شیخ عبداللہ کا انجام وہی ہوا جو غداروں کا ہوتا ھے کہ وہ استعمال ہونے کے بعد جیل بھیج دئیے گئے اب تو ہری سنگھ کے بیٹے بھی تاریخ کی سچائیاں ہندوستان کی پارلیمنٹ میں بیان کرچکے ہیں
مسئلہ کشمیر پر ہندوستان اور پاکستان میں 1948 ، 1965 ، اور1971 میں تین جنگیں ہو چکی ہیں مگر بھارت ٹس سے مس نہیں ہوا اور اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے یوں یہ مسئلہ اج بھی معلق اور اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر ہے بلکہ اسے






