پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ۔ ایک نیا دفاعی بلاک
کیا دنیا ایک “اسلامک نیٹو” کے ابتدائی خدوخال دیکھ رہی ہے؟
تحریر: شبانہ ایاز (انقرہ، ترکیہ)
جنوری 2026 کے آغاز پر عالمی سیاست میں ایک ایسی خبر سامنے آئی جس نے سفارتی حلقوں، عسکری تجزیہ کاروں اور بین الاقوامی میڈیا کو چونکا دیا۔ بلومبرگ نے 9 جنوری کو انکشاف کیا کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے ایک اسٹریٹجک دفاعی فریم ورک میں شمولیت کے لیے سنجیدہ مشاورت کر رہا ہے۔ یہ وہی معاہدہ ہے جس پر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ستمبر 2025 میں ابتدائی اتفاق ہوا تھا۔
چند دن بعد، 15 جنوری کو پاکستان کے وزیرِ دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج نے رائٹرز سے گفتگو میں تصدیق کی کہ تقریباً ایک سال کی مسلسل بات چیت کے بعد تینوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے کا مکمل مسودہ تیار ہو چکا ہے۔ اب یہ دستاویز اسلام آباد، ریاض اور انقرہ میں حتمی سیاسی منظوری اور دستخط کی منتظر ہے۔
اگر سب کچھ طے شدہ سمت میں آگے بڑھا تو آئندہ چند ہفتوں میں یہ معاہدہ باقاعدہ شکل اختیار کر سکتا ہے۔
ترک وزیرِ خارجہ حاقان فیدان نے بھی استنبول میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اس پیش رفت کی تصدیق کی، تاہم محتاط لہجے میں کہا کہ “مذاکرات جاری ہیں، معاہدہ ابھی دستخط کے مرحلے میں نہیں پہنچا۔” ان کے مطابق یہ تصور صدر رجب طیب ایردوآن کے اس وژن کا حصہ ہے جس کا مقصد خطے میں اعتماد، استحکام اور مشترکہ سلامتی کا نیا ڈھانچہ کھڑا کرنا ہے۔
نیٹو کے بعد… ایک نیا تصور؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ مجوزہ معاہدہ نیٹو کے معروف آرٹیکل 5 سے مشابہ سمجھا جا رہا ہے، یعنی کسی ایک رکن پر حملہ، پورے اتحاد پر حملہ تصور ہو گا۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ کی واپسی کے بعد نیٹو کی افادیت اور امریکی سلامتی ضمانتوں پر خود مغربی دنیا میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ترکیہ، جو نیٹو کا دوسرا بڑا عسکری ملک ہے، طویل عرصے سے ایک ایسے خودمختار دفاعی راستے کی تلاش میں ہے جو مکمل طور پر مغربی بلاکس کا محتاج نہ ہو۔
یہ تینوں ایک دوسرے کے لیے کیوں اہم ہیں؟ __
یہ مجوزہ اتحاد محض علامتی نہیں، بلکہ عملی اعتبار سے بھی ایک دوسرے کی کمزوریوں کو طاقت میں بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پاکستان اسلامی دنیا کی واحد جوہری طاقت ہے، جس کی فوج دہائیوں سے عملی جنگی تجربہ رکھتی ہے، جدید میزائل صلاحیت اور ہائبرڈ وارفیئر میں مہارت رکھتی ہے۔
ترکیہ جدید دفاعی صنعت میں تیزی سے ابھرتا ہوا نام ہے۔ Bayraktar ڈرونز سے لے کر KAAN فائٹر جیٹ اور Kızılelma جیسے منصوبے اسے عسکری ٹیکنالوجی میں خود کفیل بنا رہے ہیں۔
سعودی عرب کے پاس مالی وسائل، عالمی سرمایہ کاری اور بڑے پیمانے پر عملی نفاذ کی صلاحیت ہے، جو کسی بھی دفاعی اتحاد کے لیے ناگزیر عنصر ہے۔
یہ امتزاج اگر درست انداز میں کام کرے تو ایک ایسا توازن قائم ہو سکتا ہے جو نہ صرف طاقتور بلکہ دیرپا بھی ہو۔
کیا یہ اتحاد مزید پھیل سکتا ہے؟
اگرچہ فی الحال یہ ایک تین ملکی فریم ورک ہے، مگر سفارتی حلقوں میں مصر، انڈونیشیا، قطر اور الجزائر کے نام شدت سے زیرِ بحث ہیں۔ قطر کے سابق وزیراعظم حمد بن جاسم بن جبر آل ثانی بھی اس امکان کو ایک “فوری ضرورت” قرار دے چکے ہیں۔
مصر عرب دنیا کی سب سے بڑی فوج رکھتا ہے اور سوئز کینال کے باعث اس کی جغرافیائی حیثیت غیر معمولی ہے۔
انڈونیشیا دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی والا ملک اور G20 کا رکن ہے، جس کی شمولیت اتحاد کو ایشیائی وسعت دے سکتی ہے۔
قطر اگرچہ رقبے میں چھوٹا ہے، مگر مالی اور سفارتی اثرورسوخ میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔
الجزائر شمالی افریقہ کی مضبوط عسکری قوت اور غیر وابستہ خارجہ پالیسی کا حامل ملک ہے۔
اگر یہ ممالک شامل ہو گئے تو یہ اتحاد آبادی، جغرافیہ اور عسکری صلاحیت کے اعتبار سے واقعی ایک اسلامک نیٹو کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔
اسرائیل اور بھارت کی تشویش
یہی وہ نکتہ ہے جہاں اسرائیل اور بھارت میں تشویش کی گھنٹیاں بجنا شروع ہو گئی ہیں۔ اسرائیلی تجزیہ کار خاص طور پر مصر کی ممکنہ شمولیت کو جنوبی محاذ کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کا مشترکہ کردار اسرائیل کے لیے ایک نئے اسٹریٹجک چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بھارت میں بھی اس اتحاد کو پاک-بھارت تناؤ کے تناظر میں نہایت سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے، جہاں بعض حلقے اسے “دو محاذوں” کی ممکنہ صورتِ حال سے جوڑ رہے ہیں۔
ایران کا زاویہ
ایران میں اس پیش رفت کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ تہران کے تجزیہ کار اسے اپنے خلاف ایک نیا محور سمجھتے ہیں، جس کے نتیجے میں ایران ممکنہ طور پر اپنی بحری مشقوں، میزائل پروگرام اور روس و چین سے تعلقات کو مزید مضبوط کر سکتا ہے۔
اگر یہ دفاعی بلاک حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے تو یہ عالمی اور علاقائی طاقت کے توازن میں ایک بنیادی تبدیلی ثابت ہو سکتا ہے۔ فلسطین، کشمیر اور دیگر مسلم تنازعات پر ایک مشترکہ اور مضبوط آواز ابھر سکتی ہے۔
تاہم حقیقت یہ بھی ہے کہ ماضی کے اختلافات، مختلف قومی ترجیحات اور عملی نفاذ کے مسائل اس راستے میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔
اگر ان چیلنجز پر قابو پا لیا گیا تو یہ اتحاد محض ایک معاہدہ نہیں، بلکہ مسلم دنیا کی خود اعتمادی اور خود انحصاری کی علامت بن سکتا ہے۔
وقت ہی بتائے گا کہ یہ خواب حقیقت بنتا ہے یا تاریخ کے صفحات میں ایک ادھورا تصور بن کر رہ جاتا ہے.






