کہ آ رہی ہے دمادم صدائے کن فیکوں
دشتِ امکاں بشیر احمد حبیب
ہم جس وسیع و عریض کائنات میں سانس لے رہے ہیں وہ خلا یا space کے اندر معلق ہے ، یہ ستارے، سیارے اور کہکشائیں جو ہمیں اب تک معلوم ہو چکی ہیں اور جو نا معلوم ہیں اور ہم جن کی چمک دمک اور دیو ہیکل جسامت سے ہمیشہ مرعوب رہتے ہیں، اس حقیقت کو اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ یہ تمام وسعتیں جس جگہ کے اندر سمٹ کے رہ گئی ہیں ، وہ "خلا” ہے۔ خلا بظاہر ایک لامتناہی وسعت ہے مگر حقیقت میں ایک ایسا فعال وجود جس کے بغیر کائنات کا تصور ہی ممکن نہیں۔ سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ خلا محض ایک خالی برتن نہیں جس میں مادہ بکھرا ہوا پڑا ہے بلکہ یہ خود ایک الگ وجود ہے۔ قدیم طبیعیات میں نیوٹن کا خیال تھا کہ خلا ایک ساکن منظر ہے، لیکن البرٹ آئن سٹائن کے نظریۂ اضافیت نے اس تصور کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ آئن سٹائن نے ثابت کیا کہ اسپیس (خلا) اور ٹائم (وقت) الگ الگ نہیں بلکہ ایک متحد حقیقت "اسپیس ٹائم” ہیں۔ کششِ ثقل کوئی جادوئی قوت نہیں جو دو اجسام کو دور سے کھینچتی ہے، بلکہ یہ خلا کا وہ "خم” یا موڑ ہے جو کسی بھاری جسم کی موجودگی سے پیدا ہوتا ہے۔ سیارے اس مڑے ہوئے خلا میں سیدھا چلنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن خلا کی ساخت انہیں مدار میں گھومنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ یوں، اس طرح دیکھا جائے تو اصل کردار سیارہ نہیں رہتا، اصل کردار وہ "خلا” بن جاتا ہے جس کی لچک پر پوری کائنات کا رقص جاری ہے۔ جدید کوانٹم فزکس اس سے بھی حیران کن بات بتاتی ہے کہ "کوانٹم ویکیوم” کبھی خالی نہیں ہوتا۔ وہاں ہر لمحہ ذرات پیدا ہوتے اور فنا ہوتے رہتے ہیں۔ اور جسے ہم "خالی مکان” سمجھتے ہیں، وہ دراصل توانائی کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ کائنات کا 95 فیصد حصہ ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی پر مشتمل ہے، جو نظر نہیں آتے اور جس پر فزکس کے لاز کا اطلاق نہیں ہوتا وہ اسی خلا کے سینے اندر موجود ہیں اور کائنات کی تمام مادی دنیاؤں کو نہ صرف اٹھائے ہوئے ہیں بلکہ ان کو پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں۔
قرآنِ حکیم نے صدیوں پہلے اس غیر مرئی مگر مستحکم نظام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ "وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کو ایسے ستونوں کے بغیر قائم کیا جو تمہیں نظر آئیں”۔ یہ "بغیر ستونوں کے” والا اشارہ دراصل اسپیس ٹائم کی وہی ساخت اور کششِ ثقل کا وہ توازن ہے جس نے اربوں ٹن وزنی ستاروں کو خلا میں معلق کر رکھا ہے۔ اسی طرح کائنات کی حرکت کو بیان کرتے ہوئے جب یہ کہا گیا کہ "ہر ایک اپنے اپنے مدار میں تیر رہا ہے” تو تیرنے کا لفظ واضح کرتا ہے کہ خلا کوئی "عدم” یا "کچھ نہیں” نہیں ہے، بلکہ ایک ایسا میڈیم ہے جو حرکت کو ممکن بناتا ہے۔ یہاں فلسفہ سائنس کے ساتھ قدم ملاتا نظر آتا ہے۔ امام غزالیؒ نے زمان و مکان کو "مخلوق” قرار دیا، جبکہ جرمن فلسفی ایمانوئل کانٹ کے نزدیک سپیس اور وقت مادی اشیاء نہیں بلکہ ہمارے ادراک کے وہ "خانے” ہیں جن کے بغیر ہم کسی بھی چیز کا تصور نہیں کر سکتے۔ ہیگل کے ہاں سپیس ایک جامد شے نہیں بلکہ ایک جدلیاتی عمل ہے جو وقت کے ساتھ مسلسل وسعت پا رہا ہے۔
جب ہم کائنات کی وسعتوں سے نظر ہٹا کر انسان کی طرف دیکھتے ہیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ "خلا” صرف باہر نہیں، ہمارے اندر بھی ہے۔ انسانی دماغ کے اربوں نیورونز کا جال بالکل ویسا ہی ہے جیسا کائنات میں کہکشاؤں کا کونیاتی جال۔ قرآن سوال کرتا ہے کہ "کیا تم اپنے اندر نہیں دیکھتے؟”۔ انسان کا شعور بھی ایک ایسا ہی میدان ہے جس میں خیالات، جذبات اور یادیں ستاروں کی طرح ابھرتی اور ڈوبتی ہیں۔ جس طرح کائنات کا بڑا حصہ "ڈارک میٹر” ہے، اسی طرح انسانی شخصیت کا بڑا حصہ اس کا "لاشعور” ہے۔ ہمارے فیصلے، ہماری پسند و ناپسند اور ہماری جبلتیں اسی اندھیرے غار سے توانائی لیتی ہیں جو ہماری شعوری گرفت سے باہر ہے۔ انسان کے اندر کا "خلا” جب تک کسی مقصد یا کسی مرکز سے نہیں جڑتا، وہ اضطراب کا شکار رہتا ہے۔ جس طرح سیارے کو مدار میں رہنے کے لیے سورج کی کشش چاہیے، انسانی روح کو بکھرنے سے بچنے کے لیے کسی اعلیٰ نصب العین کی کشش درکار ہوتی ہے۔
جدید نفسیات اور نیوروسائنس اب اس بات پر متفق ہیں کہ ذہنی صحت کے لیے "خالی جگہ” یا مینٹل اسپیس ضروری ہے۔ اگر ذہن خیالات سے ہر وقت بھرا رہے تو وہ بوجھل ہو کر ٹوٹ جاتا ہے۔ تخلیق ہمیشہ "خلا” میں جنم لیتی ہے۔ خاموشی، مراقبہ اور خلوت دراصل وہ ذہنی خلا ہیں جہاں نئے خیالات کے ستارے جنم لیتے ہیں۔ مولانا رومیؒ نے اسی لیے خاموشی کو سمندر اور گفتگو کو ندی قرار دیا تھا کہ خاموشی سمندر ہے اور گفتگو ندی، اگر سمندر کو پانا چاہتے ہو تو ندی میں مت الجھو۔ یہ سمندر وہی "خلا” ہے جہاں انسان اپنی اصل سے ملتا ہے۔ جب انسان بیرونی شور سے کٹ کر اپنے اندر کے خلا میں اترتا ہے، تو اسے وہاں "عدم” نہیں بلکہ "وجودِ مطلق” کا سراغ ملتا ہے۔ طبیعیات کی طرح انسانی تجربے میں بھی وقت اور خلا ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ گہری سوچ میں ہمارے شعور کا "خلا” اتنا پھیل جاتا ہے کہ وقت کی رفتار سست محسوس ہونے لگتی ہے، جبکہ اضطراب میں یہی خلا سکڑ جاتا ہے اور وقت تیزی سے گزرتا محسوس ہوتا ہے۔
آخرکار یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ خلا کوئی کمی، محرومی یا خالی پن نہیں ہے۔ خلا تو وہ "امکان” ہے جس کے بغیر کوئی وجود بھی ممکن نہیں ۔ اگر دو ایٹموں کے درمیان خلا نہ ہو تو مادہ وجود نہیں پا سکتا؛ اگر دو لفظوں کے درمیان خلا نہ ہو تو جملہ بامعنی نہیں بن سکتا؛ اور اگر انسان کے اندر خاموشی کا خلا نہ ہو تو وہ "خود” کو






