پاکستانی بینک: جہاں وقت صرف بریک کا پابند ہے
تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی – قلمِ حق (engr.bakht@gmail.com)
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)
پاکستان میں بینک اور سرکاری دفاتر کا ایک المیہ یہ ہے کہ اگر کوئی ایک کام ایسا ہے جو ہمیشہ وقت پر، پوری پابندی اور غیر معمولی نظم و ضبط کے ساتھ انجام پاتا ہے تو وہ ہے وقفہ یعنی بریک۔ اس معاملے میں نہ ملک کے حالات آڑے آتے ہیں، نہ عوام کی مجبوری، نہ سسٹم کی خرابی اور نہ ہی کسی ہنگامی صورتِ حال کا بہانہ۔ بریک اپنے مقررہ وقت پر ایسے آتا ہے جیسے یہ پاکستان کے سرکاری نظام کا واحد مضبوط ستون ہو، جس میں ایک منٹ کی بھی گنجائش نہیں ہوتی۔
اس کے برعکس جب کوئی عام شہری اپنے کسی جائز اور قانونی کام کے لیے ان دفاتر کا رخ کرتا ہے تو منظر یکسر مختلف ہوتا ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے لنک خراب ہے، کبھی سرور ڈاؤن ہے، کبھی فائل نہیں مل رہی اور کبھی متعلقہ افسر دستیاب نہیں۔ بعض اوقات تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ مسئلہ مشینوں کا نہیں بلکہ وہ لوگ خود ڈاؤن ہو چکے ہوتے ہیں جو مشینیں چلانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
یہی سب باتیں ذہن میں گردش کر رہی تھی جب مجھے پچھلے سال کا ایک واقعہ شدت سے یاد آیا۔ میں اپنی والدہ کے ساتھ نیشنل بینک ڈگر بونیر خیبر پختونخوا گیا تھا۔ میرے والد کے انتقال کے بعد والدہ کے نام پر پنشن آتی ہے، اور اسی سلسلے میں ہمیں بینک جانا پڑا تاکہ ضروری کاغذی کارروائی مکمل کی جا سکے۔
ہم صبح کے وقت بینک پہنچے تھے تاکہ رش سے بچ سکیں، مگر وہاں پہنچ کر اندازہ ہوا کہ رش وقت اور گھڑی کا پابند نہیں ہوتا۔ لوگ آ جا رہے تھے، کچھ کا کام ہو رہا تھا اور کچھ ہماری طرح انتظار کی اذیت میں مبتلا تھے۔ میں ایک طرف کھڑا خاموشی سے پورا منظر دیکھ رہا تھا۔
میں یہ بھی غور کر رہا تھا کہ کن لوگوں کا کام فوراً ہو جاتا ہے اور کن کو بار بار انتظار کا کہا جاتا ہے۔ کچھ چہرے ایسے تھے جو بغیر کسی تاخیر کے اندر جا رہے تھے، شاید جان پہچان یا تعلق کی بنیاد پر، اور کچھ لوگ ایسے تھے جنہیں محض صبر کی تلقین کی جا رہی تھی۔
اس دن ایک اور بات بھی نمایاں تھی کہ عید قریب تھی۔ ایسے مواقع پر ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کا کام جلدی نمٹ جائے تاکہ عید کی تیاریوں میں آسانی ہو، مگر بینک کے اندر اس احساسِ ذمہ داری کی کوئی جھلک نظر نہیں آ رہی تھی۔
ایک گھنٹہ گزر گیا۔ میں نے خود کو یہ کہہ کر تسلی دی کہ سرکاری اور بینکاری کاموں میں وقت لگ ہی جاتا ہے، صبر کرنا چاہیے۔ مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، یہ تسلی کمزور پڑتی چلی گئی۔
لوگ آتے جاتے رہے، مگر ہمیں بار بار یہی جواب دیا جاتا رہا کہ “سرور ڈاؤن ہے، ذرا انتظار کریں۔” یہ جملہ اتنی بار سنا گیا کہ اب یہ ایک رسمی بہانے سے زیادہ کچھ نہیں لگ رہا تھا۔
دوسرا گھنٹہ بھی اسی انتظار میں گزر گیا۔ والدہ کے چہرے پر تھکن اور آنکھوں میں بے بسی صاف نظر آ رہی تھی۔ اس لمحے مجھے احساس ہوا کہ خاموشی بعض اوقات مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسئلے کو مزید بڑھا دیتی ہے۔
بالآخر جب صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تو میں سیدھا مینیجر کے دفتر کی طرف بڑھا۔ میں نے سوچا کہ شاید براہِ راست بات کرنے سے کوئی حل نکل آئے اور ہمارا کام آگے بڑھ سکے۔دفتر میں پہنچ کر معلوم ہوا کہ مینیجر صاحب ابھی ابھی نکلے ہیں۔ میں نے پوچھا کہاں گئے ہیں تو بڑے اطمینان سے جواب ملا کہ “ایک دعا تھی، اس کے لیے گئے ہیں۔”
یہ سن کر حیرت بھی ہوئی اور افسوس بھی۔ دعا یقیناً ایک عظیم عمل ہے، مگر کیا بینکاری ڈیوٹی کے اوقات میں دفتر چھوڑ دینا درست ہے؟ کیا دعا کا وقت صرف اسی لمحے آ سکتا تھا؟ دل میں یہ سوال بھی ابھرا کہ کیا مینیجر صاحب پانچ بجے کے بعد دعا کے لیے نہیں جا سکتے تھے؟ مگر شاید یہاں وقت کی پابندی صرف عوام کے لیے مخصوص ہے، افسران کے لیے نہیں۔
اسی دوران ایک اور حیران کن بات سامنے آئی کہ مینیجر کا کمپیوٹر سسٹم آن تھا اور لاگ اِن بھی تھا۔ دفتر کھلا ہوا تھا، جیسے کسی کو بھی اسے استعمال کرنے کی اجازت ہو۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ تھی کہ ایک چپڑاسی کو اس سسٹم کا پاس ورڈ معلوم تھا۔ وہ پورے اعتماد کے ساتھ کہنے لگا، “آپ صبر کریں، میں چیک کرتا ہوں۔”
یہ سن کر میں واقعی ہکا بکا رہ گیا، کیونکہ میں خود انگلینڈ کے ایک معروف اور بڑے بینک میں کام کرتا ہوں۔ وہاں ایک چپڑاسی کا سسٹم تک پہنچنے کا تصور بھی ممکن نہیں، مگر یہاں معاملہ بالکل الٹ تھا۔
جہاں میں کام کرتا ہوں وہاں ہر لاگ اِن، ہر پاس ورڈ اور ہر رسائی سخت ضابطوں کے تحت ہوتی ہے۔ سکیورٹی، ذمہ داری اور احتساب بنیادی اصول ہیں، مگر یہاں یہ سب چیزیں کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھیں۔
اس ایک جملے نے نہ صرف مجھے حیران کیا بلکہ پورے نظام کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کر دیا۔ ایسے میں یہ سوال خود بخود پیدا ہوتا ہے کہ اگر حساس سسٹمز اس طرح کھلے چھوڑ دیے جائیں تو اعتماد کیسے قائم رہ سکتا ہے؟
اس پورے انتظار کے دوران سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو عام شہری کی بے قدری تھی۔ خاص طور پر جب ساتھ ایک ماں ہو، جو عمر اور حالات کے بوجھ تلے پہلے ہی کمزور ہو چکی ہو۔
ایسے لمحات میں انسان کے دل سے بے اختیار نکلتا ہے کہ اس ملک میں عام آدمی کے لیے سہولت کم اور آزمائش زیادہ ہے، اور یہاں صبر کو سب سے بڑی خوبی بنا دیا گیا ہے۔
یہ سب کچھ دیکھ کر مجھے شدت سے احساس ہوا کہ ہم نے اپنے اداروں کو افراد کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ اصول، قوانین اور ضابطے صرف فائلوں اور دیواروں تک محدود ہو گئے ہیں۔
اگر کوئی چیز






