#کالم

خوابوں کے مدار میں جھلملاتی کہکشائیں

amjad ali

مبصر: امجد علی

بچوں کا ادب ابتدا میں تفریح و دل بستگی کا وسیلہ تھا، مگر وقت کے ساتھ اس نے تربیت، تعلیم اور فکری بالیدگی کی صورت اختیار کر لی۔ آج یہ محض قصہ گوئی نہیں، بلکہ ننھے ذہنوں میں سوال، تخیل، جستجو اور شعور کے چراغ روشن کرنے کا مو¿ثر ذریعہ ہے۔ عصر حاضر کا کامیاب ادب اطفال وہ ہے جو حیرت, فکر، تجسس, تحقیق اور تخیل کو علم سے نہ صرف ہم قدم کرے بلکہ سب کو مجتمع کر دے۔ ندیم اختر غزالی کی نیشنل بک فاو¿نڈیشن سے شائع شدہ تصنیف ”سونورا” سونو کے خلائی سفر کی دلچسپ ڈائری، اسی فکری و تخلیقی روایت کا حیرتکدہ بن جاتی ہے۔ جس میں مصنف بچوں کو کائنات کے اسرار، سیاروں کی دنیا اور سائنسی حقائق کو دلچسپ طلسماتی کہانی کے ذریعے روشناس کراتے ہیں۔ کہانی ان کے اذہان میں فکر و جستجو کے نئے دریچے وا کرتی ہے۔

ندیم اختر غزالی سرکاری فرائض کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ ایک صاحب اسلوب کالم نگار کی حیثیت سے بھی اپنی منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ ان کے رشحات قلم کا نمایاں وصف شخصیات و کتب کا عمیق مطالعہ، فکری محاکمہ اور تحسین و تجزیے کا سلیقہ ہے۔ ادب اطفال کے میدان میں بچوں کے لیے بامقصد، تربیتی اور فکری افادیت سے مملو کہانی نویسی کے تجربات بھی ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا معتبر حوالہ ہیں۔ زیر نظر کتاب اسی تخلیقی ریاضت، علمی ذوق و مقصدیت کی آئینہ دار ہے۔ ایک ایسی کاوش جو اس حقیقت کی نشان دہی کرتی ہے کہ جب تخیل، جستجو اور تربیت یکجا ہو جائیں تو یہ تحریر نئی نسل کی فکری آبیاری اور ذہنی بالیدگی کا مو¿ثر وسیلہ بن جاتی ہے۔

اس کتاب پر تقاریظ رقم کرنے والی ممتاز شخصیات میں معروف سیرت نگار جناب پروفیسر تفاخر محمود گوندل اور نامور کالم نگار، ادیب و مدیر جناب پروفیسر یوسف عالمگیرین کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔ کتاب کے علمی و ادبی مقام، فکری قدر و قیمت اور معیار و مرتبے کے تعین کے لیے ان جیسے مستند اہل علم و قلم کی تحریریں خود ایک معتبر حوالہ ہیں۔ ان کی آرا، تبصرے اور تحسین پر مبنی کلمات تحریر اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ کتاب کا تعارف اور اس کی قدر و منزلت واضح کرنے کے لیے ان اہل دانش کی آرا ہی ایک مستند سند کی حیثیت رکھتی ہیں۔ طلوع سورج کے بعد چراغ کے لیے تو کوئی گنجائش نہیں نکلتی پھر بھی بطور حاظری چند سطور سونورا کی نظر ہیں۔

مصنف نے سائنسی موضوعات کو محض خشک معلومات کے سپرد کرنے کے بجائے تخیل کی رنگا رنگی، مہم جوئی کے تجسس اور کرداروں کی دل چسپی سے ہم آہنگ کرکے ایک دل کش اور بھرپور کہانی تخلیق کی ہے۔ یوں نظام شمسی کی وسعتوں اور اسرار سے آشنا کرانے والی یہ تحریر بچوں کے ذہنوں میں سوالات کی شمع روشن کرنے، سائنسی شعور کو مہمیز دینے اور انہیں عصر حاضر کے تیز رفتار معلوماتی و تکنیکی منظرنامے سے مربوط کرنے کی ایک قابل تحسین ادبی و تعلیمی سعی بن کر سامنے آتی ہے۔ بنیادی طور پر سونورا کی کہانی ادبی کائنات
میں جدیدیت کی نمائندہ کہانی محسوس ہوتی ہے۔ بلاشبہ سونورا ادب کے دبستاں میں نئی کھلی ہوا، رنگینیاں، لطافتیں اور خوشبوئیں بکھیرتی نادر کلی ہے۔

کتاب کا مرکزی کردار سونو آٹھویں جماعت کا ایک
ذہین، متجسس اور تخیل آفریں طالب علم ہے۔ خیالی جہان آباد کر کے ستاروں کی محفلیں سجاتا ہے۔ سائنس فکشن اور سائنسی،
معلوماتی ویڈیوز میں گم رہتا ہے۔ ان میں موجود جمع شدہ معلومات (ڈیٹا) اکٹھی کرتا ہے۔ جس کے ذہن میں کائنات، ستاروں اور سیاروں کے اسرار جاننے کی شدید جستجو موجزن رہتی ہے۔ یہی تجسس اسے فلکیان نامی ایک دور افتادہ تخیلاتی سیارے کے پراسرار سفر پر لے جاتا ہے، جہاں اس کے رفیق سفر، خلائی کردار سٹیلارین اور زینورا، اس کی علمی و سائنسی جستجو کو نئی جہتیں عطا کرنے میں مددگار بن جاتے ہیں۔ کیپسول نما خلائی جہاز، فلش ٹائم ماڈیولر میں سیاروی مسافتوں پر روانہ ہوتے ہیں۔ ہولوگرافک مشین اور وقت کو قابو میں رکھنے والی تصوراتی گھڑی ٹیمپورا جیسے تخلیقی عناصر کہانی میں سائنسی فکشن کی دل کش فضا قائم کرتے ہیں۔ یوں مصنف نے تجسس، تخیل اور سائنسی تصورات کو یکجا کر کے ایک ایسی داستان تشکیل دی ہے جو کم سن قارئین کی دلچسپی برقرار رکھنے کے ساتھ ان میں کائنات کی وسعتوں کو جاننے، سوال اٹھانے اور امکانات کی تلاش کی تڑپ بھی بیدار کرتی ہے۔

یہ لامحدود امکانات سے لبریز کہکشاو¿ں کو زینہئ عروج بنائے، کائنات کی پہنائیوں میں پرواز کرتا ہوا ایک ایسا فکری سفر ہے، جس کی وسعتوں میں نیورانز کی کہکشائیں جگمگاتی ہیں اور ان کی ہر برقی چنگاری میں افکار کے لاتعداد تابندہ جہان کروٹیں لیتے ہیں۔ یہ نیورانز بھی عجب طلسم کار ہیں۔ ہر لمحہ تخیل کی بھٹی میں کوئی نیا فارمولہ تراشتے، ادراک کی کسی نئی جہت سے پردہ اٹھاتے اور طلوع آفتاب کے ساتھ ہی کائنات کو ایک نئے معنی اور ایک نئے چہرے سے شناسا کرواتے ہیں۔

سونورا بھی افکار کی انہی پراسرار وادیوں میں سرگرداں رہتا ہے، جہاں سوال نئے جہانوں کی دریافت کا دروازہ بن جاتے ہیں۔ جس میں جواب، آخری منزل نہیں،بلکہ مزید حیرتوں اور لامتناہی امکانات سامنے لاتا ہیں۔ وہ ہر سوال کے بطن سے جنم لیتے کسی نئے سوال اور ہر جواب کی تہہ میں پوشیدہ کسی نئی حقیقت کا متلاشی ہے۔

اسے کسی بزرگ نے کہا تھا کہ دماغ محض گوشت پوست کا ٹکڑا نہیں، بلکہ ایک ایسی بلند و بالا فکری پہاڑی ہے جس کی تہوں میں نیورانز کے ازلی و ابدی چشمے رواں دواں ہیں۔ یہاں ادراک کی چٹانوں سے سوال پھوٹ کر شعور کی وادیوں میں نمو کرتا ہے اور پھر علم و تخلیق کی ندی میں بہہ کر انسانی آرزوو¿ں کی تشنہ زمین کو سیراب کرتا ہے۔

کہانی کا ہیرو کوئی روایتی مہم جو نہیں، بلکہ ایک ایسا جستجو پسند بچہ ہے جو ہر نئی شے کو دیکھ کر سوال اٹھاتا، ہر نامعلوم چیز کو ٹٹولتا ہے اس کے اسرار کھوجتا ہے۔ اپنے ذہن میں ابھرنے والے تصورات کو مشاہدے اور آزمائش کی کسوٹی پر پرکھ کر فہم و یقین کی منزل تک پہنچنے کا خواہاں ہے۔ سٹیلارین اور زینورا اس کے دوست اور ہم سفر بنتے ہیں، جب کہ ٹیمپورا گھڑی اور جدید خلائی آلات اس کی فکری جستجو کو تخیلاتی مہم جوئی کی حرکیات عطا کرتے ہیں۔ یوں کرداروں کی باہمی رفاقت، پراسرار ماحول اور سائنسی آلات کی تخلیقی آمیزش ایک ایسی دل کش فسونی فضا تشکیل دیتی ہے جہاں سفر کی اصل معنویت منزل تک پہنچنے میں نہیں، بلکہ سوال سے انکشاف، تجسس سے تفہیم اور تخیل سے علم تک رسائی کے مسلسل عمل میں پنہاں ہے۔ وہ اس نقطہ کو سمجھ چکا تھا کہ تجسس اور سعی ہی کہکشانی کائنات کو تاریکیوں سے نکال کر فکر کی روشن ہتھیلیوں پر لا رکھتا ہے۔ سونو کا فکر ایک جوہری بن کر گردوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر ستارے تلاشتا ہے۔ جیسے اسے اقبال نے کہا ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سبق ملا ہے یہ معراج مصطفیٰ? سے مجھے
کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتاب کی ایک دل کش فنی خصوصیت یہ بھی ہے کہ سونو کی ڈائری کو مختلف ابواب اور موضوعات میں سلائس کیا گیا ہے، جس سے قاری پر گویا ایک ایک کر کے سیاروی کائنات کے در وا ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ہر باب کا عنوان صرف موضوع کی نشان دہی نہیں کرتا، بلکہ اپنے اندر ایک نئی دنیا کی جھلک، پراسرار مناظر کی کشش اور آگے بڑھنے کی دعوت سموئے ہوئے ہے۔ مثلاً ”عطارد کی دنیا، سورج کے دروازے پر“ کا عنوان ہی قاری کے تخیل کو زمین سے اٹھا کر سورج کے قریب ترین سیارے کی دہلیز تک پہنچا دیتا ہے۔ اسی طرح ”صبح کا سیارہ زہرہ“ اور ”چندا ماموں کے آنگن میں“ اپنے موضوع کے اندر ہی ایک کشش لیے ہے۔ دوسرے موضوعات میں "مریخ کی سرگوشیاں”, "آسمان کا عظیم دیوتا-یورینس” اور "سیارہ نیپچون- ایک برفانی تودہ” جیسے عنوانات سائنسی حقائق کو بچوں کی مانوس زبان، جمالیاتی احساس اور تخیلاتی فضا کو باہم جوڑ دیتے ہیں۔ موضوعات کی یہ عنواناتی ترتیب سونو کے خلائی سفر کو محض معلوماتی مطالعہ نہیں رہنے دیتی، بلکہ اسے ایک مسلسل داستانی مہم میں ڈھال دیتی ہے، جہاں ہر نیا باب ایک نئی منزل، ہر سیارہ ایک نیا منظر اور علم و آگہی کے نئے دریچے کھولتا ہے۔ یوں قاری کی دلچسپی برقرار رہتی ہے اور وہ ایک سیارے سے دوسرے سیارے کی جانب بڑھتے ہوئے خود کو بھی اس حیرت انگیز خلائی سفر کا ہم رکاب محسوس کرنے لگتا ہے۔

بلاشبہ مصنف نے آج کے بچوں کی آنکھوں میں رنگین خوابوں کے ایسے ستارے سجائے ہیں، جو ممکن ہے کل کی حقیقی دنیا کے روشن امکانات بن کر طلوع ہوں۔ یہی تو خواب سے حقیقت تک کا سفر ہے، جس کی پہلی منزل تخیل، دوسری جستجو اور آخری منزل علم و دریافت ہے۔ ”سونو کے خلائی سفر کی دلچسپ ڈائری“ بچوں کو اسی سفر پر گامزن کرنے کی ایک خوب صورت تخلیقی کاوش ہے۔ درحقیقت، مصنف نے بچوں کے دل بہلانے کے لیے انہیں محض کھلونے نہیں تھمائے، بلکہ ستاروں، سیاروں کی حیرتیں اور کائنات کے اسرار ان کے تخیل کے حوالے کر دیے ہیں۔ یہ وہ تحفہ ہے جو تفریح کے ساتھ ساتھ تجسس، تخیل، تفکر، خواب تعبیر بھی عطا کرتا ہے۔

قوی امید ہے کہ ”سونورا“ شہر، شہر، سکول، سکول کا کر بچوں کے فارغ اوقات کو مفید، بامقصد اور تعمیری سرگرمی میں ڈھالنے کے ساتھ ان کی علمی پیاس بجھانے، فکری ذوق کو جلا بخشنے اور ذہنی مسرتوں کو مہمیز دینے میں بھی مو¿ثر کردار ادا کرے گی۔ ایسی تخلیقات بچوں کو محض خواب دیکھنا نہیں سکھاتیں، بلکہ خوابوں کی تعبیر کے لیے سوال اٹھانے، سوچنے اور جاننے کی راہیں بھی دکھاتی ہیں۔

میں مصنف کو بچوں کے ادب میں اس خوب صورت، تعمیری اور علم آفریں کاوش پر دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں، اور نیشنل بک فاو¿نڈیشن کو بھی عمدہ، بامقصد اور نسل نو کی فکری و تخلیقی تربیت سے ہم آہنگ مواد کے انتخاب اور اشاعت پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ کتاب کے خوبصورت ٹائٹل سرورق، پیپر اور اعلی بہترین معیاری اشاعت کا کریڈٹ بھی نیشنل بک فاو¿نڈیشن کو ہی جاتا ہے کہ جنہوں نے کمال ہنر مندی سے بچوں کے ہاتھوں میں موبائل کی جگہ دلچسپ گلدستہ افکار جیسی خوبصورت سونورا تھما دی ہے۔ دعا ہے کہ ”سونو کے خلائی سفر کی دلچسپ ڈائری“ بچوں کے اذہان میں علم و آگہی کے چراغ روشن کرے، ان کے تخیل کو نئی پرواز عطا کرے اور مستقبل کے خواب گر ذہنوں کی آبیاری کا وسیلہ بنے۔ ”سونو“ کی مقبولیت، پذیرائی اور کامیابی کے لیے نیک تمنائیں، ڈھیروں دعائیں۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے