#کالم

لیجنڈ شاعر کو قومی سطح پر شاندار خراجِ تحسین

Untitled 1

جشنِ نذیر قیصر
لفظ، وقار اور وفا کی روشن محفل

منشا قاضی حسبِ منشا

ادب کے افق پر ایک درخشاں ستارہ ، پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ یافتہ شاعر نذیر قیصر کے اعزاز میں منعقد ہونے والی پروقار تقریب “جشنِ نذیر قیصر” نہ صرف ایک ادبی اجتماع تھی بلکہ یہ تخلیقی شعور، فکری استقامت اور جمالیاتی وفا کی ایسی شاندار علامت بن کر ابھری جس نے اہلِ قلم کے دلوں میں احترام، عقیدت ،مہرووفا اور فخر کے چراغ روشن کر دیئے۔
یہ تقریب لفظوں کی خوشبو، خیال کی روشنی اور تہذیبی وقار کا حسین امتزاج لیئےہوئے تھی جس میں نذیر قیصر کی ادبی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
پہلا سیشن: فکری وقار اور تخلیقی اعتراف
تقریب کے پہلے سیشن کی صدارت ممتاز دانشور ڈاکٹر نجیب جمال نے کی، جبکہ مہمانانِ خصوصی میں ڈاکٹر محمد کامران، مسعود علی خان، بلقیس ریاض، سعیدہ دیپ، کوثر جمال چیمہ اور عبدالوحید چغتائی شامل تھے۔ ان معزز شخصیات نے نذیر قیصر کی شاعری کو عہدِ حاضر کی روح، کلاسیکی روایت کی خوشبو اور فکری بصیرت کا حسین سنگم قرار دیا۔
اظہارِ خیال کرنے والوں میں محمد عباس مرزا، آصف عمران، ارشد نعیم علی آصف، صفیہ کوثر، رخشندہ نوید، زوبیہ انور، ڈاکٹر فضیلت بانو، ڈاکٹر صائمہ کامران، پونم نورین ۔ ڈاکٹر زرقا نسیم غالب اور آفتاب جاوید شامل تھے۔ ان سب نے نذیر قیصر کے فن کو انسانی جذبات، سماجی شعور اور تہذیبی تسلسل کا آئینہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی شاعری محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ عہد کی دھڑکن ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے ڈین ڈاکٹر محمد کامران اور ان کی شریکِ حیات ڈاکٹر سیدہ صائمہ کامران تقریبات میں مسعود علی خان کی طرح کم دکھائی دیتے ہیں آج انہیں نذیر قیصر کی محبت کشاں کشاں لے آئی ہے ڈاکٹر سیدہ صائمہ کامران جرمنی میں ایک چینل سے وابستہ ہیں اور پاکستان میں عبقری شخصیات کے انٹرویو کرتی ہیں اور بیرونی دنیا میں پاکستان کا روشن چہرہ عالمی منظر نامے پر کہکشاں کی مسجع اور مقفع عبارتوں کی طرح دکھلا دیتی ہیں یہ ان کا شاندار کارنامہ ہے عربی زبان میں آفتاب مونث ہے اور مہتاب مذکر ہے اس لیئے تذکیر و تانیث کو کوئی امتیاز حاصل نہیں ہے سوائے اس کے اس کا کام بولتا ہے ڈاکٹر سیدہ صائمہ کامران کی کامرانی کے عقب میں مثبت خیالات کا بحرِ ذخار موجود ہے اور موصوفہ کا کام بولتا ہے ۔ سی ٹی این فورم کے سربراہ مسعود علی خان بھی ادبی تقریبات میں خال خال نظر آتے ہیں لیکن آج وہ پورے وقار کے ساتھ سٹیج پر جلوہ افروز تھے ۔ مسعود علی خان اس وقت حیرت سے تحیر کی وادی میں چلے گئے جب ان کے سامنے شناسا ادیب ۔ شاعر محقق مصنف موجود تھے جنہیں وہ گلبرگ سی ٹی این ہال میں خیر مقدمی کلمات میں خوش آمدید کہتے تھے اور آج وہ اپنے آپ کو ان کے درمیان پا کر مسرت محسوس کر رہے تھے ۔ آپ نے نذیر قیصر کو عہد حاضر کا عظیم المرتبت شاعر ہی نہیں قرار دیا بلکہ آپ نے انہیں ایک عظیم انسان قرار دیا ۔ ہال میں شاعر ۔ ادیب ۔ مصنف اور محقق مسعود علی خاں کے نام اور ان کے کام کو جانتے ہیں کیونکہ مسعود علی خان ادب دوست ادیب پرور اور فنون لطیفہ کی ہر اصناف کے فروغ کے لیئے تیار رہتے ہیں ۔
ادبی تنظیم نئے خواب کی سربراہ مقدس مجید اور معروف شاعرہ کلثوم نے خوبصورت کلام پیش کیا جس میں نذیر قیصر کے فکری آہنگ کو شعری خراجِ تحسین کی صورت میں سمویا گیا۔
اس باوقار تقریب کی چمک اور جمال میں اس وقت مزید اضافہ ہوگیا جب معروف بصری فنکار اور آرٹسٹ ھارون الرشید کا خصوصی طور پر تخلیق کردہ ایک شاہکار پورٹریٹ صاحب مجلس لیجنڈ شاعر جناب نذیر قیصر صاحب کو جناب مسعود علی خان اور محمد زبیر شیخ کے دستِ مبارک سے پیش کیا گیا جسے سامعین نے بہت سراہا۔۔ مسعود علی خان نے نذیر قیصر کی شاعری میں یقین کی قوت کو محسوس کیا اور حوصلہ افزائی میں مسیحائی کی تاثیر پائی ۔ مسعود علی خان نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ نذیر قیصر کی شاعری میں مایوسی نہیں ایک آس اور امید کا چراغ روشن ہے جس سے نسلِ نو کے سینوں میں عزم و ہمت کی قندیلیں فروزاں ہیں ۔
اسی موقع پر شہرِ ادب کے صدر نذیر قیصر اور سینئر وائس پریزیڈنٹ ڈاکٹر کوثر جمال چیمہ اور عابدہ قیصر کے ہاتھوں ادبی مقابلے میں کامیاب ہونے والے تین نوجوان لکھاریوں میں اسناد اور کیش انعامات تقسیم کیئے گئے۔ یہ لمحہ نئی نسل کے لیئے حوصلہ، اعتماد اور تخلیقی سفر کے آغاز کی علامت بن گیا۔ پروفیسر کوثر جمال چیمہ کوثر و تسنیم سے دہلی ہوئی زبان میں جب گفتگو کرتی ہے تو سامعین کی آرزو جاگ اٹھتی ہے۔
دوسرا سیشن: روایت، محبت اور اعترافِ عظمت
دوسرے سیشن کی صدارت معروف ادیب ڈاکٹر امجد طفیل نے کی۔ مہمانانِ خصوصی میں شہزادہ شبیر احمد صدیقی، غلام حسین ساجد، بابا نجمی اور ڈاکٹر عرفان الحق شامل تھے۔ اس سیشن میں بھی نذیر قیصر کی شخصیت اور شاعری کے مختلف پہلوؤں پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ شہزادہ شبیر احمد صدیقی نے کہا نذیر قیصر جیسے لوگ ہمارے معاشرے میں خال خال نظر آتے ہیں نذیر قیصر جیسے انسانوں کی شدید ترین ضرورت ہے دنیا کو اگر آپ خوبصورت دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ کو نذیر قیصر کے پاکیزہ خیالات کو لفظوں کا جامہ پہنانا ہوگا ۔ شہزادہ شبیر احمد صدیقی نے میرے دل کی باتیں کہی ہیں اگر میں وہاں بولتا تو میں بھی یہی بات کہتا نذیر قیصر کو اپنی ذات سے لے کر پوری کائنات حسین نظر آتی ہے وہ انسانوں سے محبت کرتا ہے محبت گو اندھی ہوتی ہے لیکن اس کی آنکھیں بڑی حسین ہوتی ہیں اور وہ حسین دنیا کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ دیگر
اظہارِ خیال کرنے والوں میں شہزاد نیر، نوید صادق، رضا رومی، آسناتھ کنول، صبا انیل، افشین اور ایس آر پروڈکشن کے مینجنگ ڈائریکٹر انیل لارنس شامل تھے۔ سیمی رمنیٹ فراخ دل

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے