#کالم

زندہ رہنے کا ثبوت

Untitled 5

تحریر :۔ جاویدایازخان

میرے قریبی ہمسائے ظہور ندیم صاحب جو محکمہ تعلیم سے ریٹائرمنٹ کے بعد پینشن پر اپنا گزارہ کرتے ہیں۔ایک روز بڑے پریشان دکھائی دیے پوچھنے پر بتایا کہ اس ماہ بینک سے پینشن نہیں مل سکی اس لیےتھوڑی مالی پریشانی ہے اور وجہ یہ بتائی کہ وہ بنک کو ہر چھ ماہ بعد زندہ رہنے کا سرٹیفیکیٹ فراہم نہیں کرسکے ۔مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ جب پینشن لینے والا خود سامنے موجود ہے تو اس کی شناخت کی بجائے زندگی کا سرٹیفیکیٹ کیوں طلب کیا جاتا ہے ؟ تو معلوم ہوا کہ پینشن لینا بھی آسان نہیں ہے۔پنشنرز کے مسائل میں ایک ایسا پہلو بھی ہے جو نہ صرف تکلیف دہ بلکہ ان کی عزتِ نفس کو بھی مجروح کرتا ہے۔ ہر چھ ماہ بعد "لائف سرٹیفکیٹ” یا زندہ ہونے کا ثبوت جمع کرانا لازم قرار دیا جاتا ہے، بصورتِ دیگر پنشن روک دی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس شخص نے اپنی پوری زندگی ریاست کی خدمت کی، کیا بڑھاپے میں اسے اپنی موجودگی کے باوجود بار بار یہ کسی دوسرے سے ثابت کروانا ضروری ہے کہ وہ ابھی زندہ ہے؟ عمر رسیدہ افراد میں بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو بیماری، معذوری یا نقل و حرکت کی دشواری کے باعث بینک یا متعلقہ دفتر تک پہنچنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ بعض اوقات صرف ایک سرٹیفکیٹ بروقت جمع نہ ہونے کی وجہ سے ان کی پنشن روک دی جاتی ہے، حالانکہ یہی رقم ان کے علاج، ادویات اور روزمرہ اخراجات کا واحد سہارا ہوتی ہے۔ اگر کسی وجہ سے بروقت یہ زندگی کا ثبوت پیش نہ کیا جاسکے تو پچھلی تاریخوں سے اپنے زندہ ہونے کو ایک کاغذی تصدیق نامے سے ثابت کرنا ہوتا ہے۔جبکہ ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں یہ مسئلہ آسانی سے حل کیا جا سکتا ہے۔ نادرا کے ڈیٹا، بایومیٹرک تصدیق، موبائل ایپ، ویڈیو ویری فکیشن یا گھر بیٹھے ڈیجیٹل تصدیقی نظام کے ذریعے پنشنرز کو غیر ضروری مشقت سے بچایا جا سکتا ہے۔ اگر ریاست ٹیکس وصول کرنے اور شناختی نظام کو ڈیجیٹل بنا سکتی ہے تو پنشنرز کی زندگی آسان بنانا بھی یقیناً ممکن ہے۔ ایک مہذب ریاست اپنے بزرگ شہریوں سے ہر چند ماہ بعد ان کے زندہ ہونے کا ثبوت نہیں مانگتی بلکہ ایسا نظام بناتی ہے جو ان کی عزتِ نفس، سہولت اور وقار کو مقدم رکھے۔ پنشن احسان نہیں، بلکہ عمر بھر کی دیانت دارانہ خدمات کا قانونی اور اخلاقی حق ہے، اور اس حق کے حصول میں غیر ضروری رکاوٹیں کسی بھی فلاحی ریاست کے شایانِ شان نہیں ہوتا۔ظہور ندیم صاحب نے یہ بھی بتایا کہ انہیں ہر ماہ پینشن لینے میاں چنوں جانا پڑتا ہے۔آپ کسی بینک والے کو کہہ کر مجھے یہاں پر ہی پینشن دلا دیں تو کم ازکم میرا کرایہ بچ سکتا ہے۔ان کی باتیں درست تھیں واقعی ایک بوڑھے آدمی کو یہ سب کچھ کرنا بڑا مشکل نظر آتا ہے۔ان کی کل پینشن ہی اگر تیس ہزار روپے ہے تو وہ اس میں سے تیسرا حصہ تو کرایے اور ان تصدیقوں میں صرف ہوجاتا ہے۔ کسی بھی مہذب معاشرے کی پہچان اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ اپنے بزرگوں، ریٹائرڈ ملازمین اور پنشنرز کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جوانی، صلاحیت اور عمر کا بہترین حصہ ریاستی اداروں کی خدمت میں صرف کیا۔ مگر جب وہ ریٹائر ہوتے ہیں تو اکثر ان کے لیے سکون کا دور شروع ہونے کے بجائے نئے مسائل کا آغاز ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں لاکھوں پنشنرز آج مہنگائی، کم ہوتی قوتِ خرید، بڑھتے طبی اخراجات اور پیچیدہ سرکاری طریقہ کار کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ پنشن میں ہونے والا معمولی اضافہ اکثر مہنگائی کی رفتار کا ساتھ نہیں دے پاتا۔ نتیجتاً وہ شخص جس نے پوری زندگی ایمانداری سے خدمات انجام دیں، بڑھاپے میں اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے پریشان دکھائی دیتا ہے۔ صحت کا مسئلہ پنشنرز کی سب سے بڑی آزمائش ہے۔ عمر کے اس حصے میں ادویات، ٹیسٹ، ہسپتال اور علاج پر اخراجات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں، جبکہ بہت سے پنشنرز کے پاس جامع ہیلتھ انشورنس یا مو¿ثر طبی سہولیات موجود نہیں ہوتیں۔ کئی افراد اپنی پنشن کا بڑا حصہ صرف علاج پر خرچ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ایک اور اہم مسئلہ پنشن کے اجرا، تصدیق اور دیگر سرکاری مراحل میں غیر ضروری تاخیر اور پیچیدگیاں ہیں۔ بزرگ افراد کو بار بار دفاتر کے چکر لگانا پڑتے ہیں، حالانکہ اس عمر میں انہیں سہولت ملنی چاہیے، زحمت نہیں۔ ڈیجیٹل نظام، ایک ون ونڈو سہولت اور بزرگ دوست انتظامات ان مشکلات کو نمایاں حد تک کم کر سکتے ہیں۔ نفسیاتی اور سماجی تنہائی بھی ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہے۔ ملازمت کے دوران جو شخص ادارے کا اہم حصہ ہوتا ہے، ریٹائرمنٹ کے بعد خود کو غیر ضروری محسوس کرنے لگتا ہے۔ معاشرے اور خاندان کو چاہیے کہ وہ پنشنرز کے تجربے، دانش اور خدمات سے فائدہ اٹھائیں، کیونکہ تجربہ کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ ہوتا ہے۔یہ لوگ صرف عمر کی وجہ سے ریٹائرڈ ہو جاتے ہیں وگرنہ ان کی صلاحیتوں میں کوئی کمی نہیں آتی بلکہ ان کا تجربہ رہنمائی کے لیے ایک قیمتی خزانے سے کم نہیں ہوتا۔ ان مسائل کے حل کے لیے چند عملی اور فوری اقدامات ناگزیر ہیں:پنشن میں مہنگائی کے تناسب سے باقاعدہ اور شفاف اضافہ کیا جائے۔ پنشنرز کے لیے جامع اور باوقار ہیلتھ انشورنس یا مفت علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ پنشن کے اجرا اور تصدیقی عمل کو مکمل طور پر ڈیجیٹل، آسان اور شفاف بنایا جائے۔ ہر ضلع میں پنشنرز سہولت مراکز قائم کیے جائیں تاکہ بزرگ افراد کو مختلف دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔ ریٹائرڈ ماہرین کی صلاحیتوں سے مشاورت، تربیت اور رضاکارانہ قومی خدمات میں فائدہ اٹھانے کے لیے باقاعدہ پروگرام ترتیب دیے جائیں۔ پنشن سے متعلق پالیسی سازی میں پنشنرز کی نمائندہ تنظیموں کو بھی شامل کیا جائے۔ریاست صرف ملازمت کے دوران اپنے ملازمین کی ذمہ دار نہیں ہوتی بلکہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان کی عزت، تحفظ اور بنیادی ضروریات کی ضامن ہوتی ہے۔ اگر ایک سرکاری ملازم اپنی پوری زندگی ملک کی خدمت کرتا ہے تو بڑھاپے میں اس کی عزتِ نفس اور معاشی تحفظ بھی ریاست کی ذمہ داری ہے، احسان نہیں۔ آخر میں سوال یہ ہے: کیا ہم اپنے بزرگوں کو صرف پنشن کی ایک رقم دے کر اپنی ذمہ داری پوری سمجھ سکتے ہیں، یا اب وقت آ گیا ہے کہ پنشن کو محض مالی ادائیگی نہیں بلکہ ایک باوقار اور محفوظ زندگی کی ضمانت سمجھا جائے؟ یہ بوڑھے پینشنرز ہمارےملک اور قوم کے محسن ہوتے ہیں اور جو قوم اپنے محسنوں کو فراموش کر دیتی ہے، وہ اپنی آنے والی نسلوں کو خدمت کا جذبہ نہیں دے سکتی۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے