#کالم

پیپلز پارٹی مفاہمت کا شکار اور جیالے مایوس۔۔۔!!

Untitlesssdddd 1

تحریر: پیر مشتاق رضوی

پاکستان کی موجودہ سیاست کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اقتدار کی "فٹی ففٹی” شراکت نے پیپلز پارٹی کو فائدہ دیا یا نقصان؟ صدر آصف علی زرداری کی مفاہمت کی سیاست نے مرکز میں نون لیگ کی حکومت بنوائی، خود دوسری بار ایوان صدر کی زینت بنے، سندھ اور بلوچستان میں حکومتیں لیں اور تین صوبوں میں گورنر شپ حاصل کیں۔ کاغذ پر یہ "کنگ میکر” کا رول ہے۔ لیکن زمینی حقائق کچھ اور کہانی سنا رہے ہیں۔زرداری صاحب سمجھتے ہیں کہ شہباز شریف کو دو بار وزیراعظم بنوانا اور نواز شریف کی تیسری بار وزارت عظمیٰ کی راہ ہموار کرنا ان کی مرہونِ منت ہے۔ نون لیگ کی حکومت پی پی کی سپورٹ کے بغیر دو دن نہیں چل سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ صدر زرداری نے "مفاہمت” کو اپنی بنیادی پالیسی بنایا۔ ان کے نزدیک ملک کے استحکام کے لیے قربانی دینا ضروری تھا۔لیکن دوسری طرف نون لیگ نے بھی بہت کچھ سیکھ لیا۔ 2017ءکے "سولو فلائٹ” والے تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے نون لیگ نے بتدریج پارلیمنٹ میں اپنی پوزیشن مضبوط کی 2024ءکے بعد قومی اسمبلی میں نمبر پورے کر کے انہوں نے زرداری کی "چھتری” سے نکلنے اور سیاسی بلیک میلنگ سے بچنے کی کوشش کی۔ مفاہمت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے بعد اب نون لیگ کا بیانیہ یہ ہے کہ "ہمارے پاس نمبر پورے ہیں” اصل نقصان پیپلز پارٹی کا ہوا بلکہ جمہوریت کو بھی ناقابل تلافی نقصان ہوا کیونکہ اس دوران پیپلز پارٹی عوامی اور جمہوری کردار ادا کرنے سے قاصر رہی، اقتدار کی میز پر بیٹھ کر پیپلز پارٹی نے اپنا سب سے بڑا سرمایہ گنوا دیا اور وہ ہے "عوامی ساکھ”۔ پیپلز پارٹی کی سیاست ہمیشہ مزاحمت، عوامی حقوق اور اپوزیشن کے بیانیے پر چلی ہے۔ جب آپ ددہائیوں سے سندھ میں برسر اقتدار ہوں اور مرکز میں بھی حکومت کے شراکت دار بن جائیں تو پھر مہنگائی اور بے روزگاری پر احتجاج کس منہ سے کریں گے؟ جیالا یہی پوچھتا ہے کہ "ہم حکومت میں بھی ہیں اور مسائل بھی ہمارے دور میں ہیں تو فرق کیا رہ گیا؟” آزادکشمیر کےحالیہ انتخابات اس کا واضح ثبوت ہیں۔ آزاد کشمیر پیپلز پارٹی کا روایتی گڑھ رہا ہے۔ لیکن "مفاہمت” کی پالیسی کے تحت وہاں بھی نون لیگ کے ساتھ مفاہمت کی کوش نےکارکنوں کو مایوس کیا۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ آزاد کشمیر کے الیکشن دراصل مستقبل کے سیاسی انڈیکیٹرز ہیں اور وہ یہ بتا رہے ہیں کہ پی کا ووٹ بینک مفاہمت کی بھینٹ چڑھ رہا ہے۔آج پیپلز پارٹی دو راہوں پر کھڑی ہے۔ ایک طرف صدر زرداری ہیں جنہوں نے اقتدار کی ففٹی ففٹی ڈیل کر کے صدارت، گورنریاں اور حکومتیں حاصل کیں۔ دوسری طرف بلاول بھٹو ہیں جو دھاندلی اور عوامی مسائل کا بیانیہ دینا چاہتے ہیں لیکن حکومت کا حصہ ہونے کی وجہ سے وہ بیانیہ کمزور پڑ جاتا ہے۔ مسٹر زرداری نے سیاسی طور پر "سب کچھ” لے لیا لیکن پارٹی نے "سب سے قیمتی چیز” کھو دی۔ وہ قیمتی چیز عوام کا اعتماد اور جیالوں کا جذبہ ہے۔ اگر پیپلز پارٹی نے جلد فیصلہ نہ کیا تو آنے والے دنوں میں پیپلز پارٹی کا سیاسی مستقبل مزید مخدوش ہو سکتا ہے۔سیاست میں ایک اصول ہے کہ آپ یا تو حکومت میں رہیں یا اپوزیشن میں۔ آدھا تیتر آدھا بٹیر والا فارمولا وقتی فائدہ تو دے سکتا ہے لیکن طویل مدت میں پارٹی کی شناخت ختم کر دیتا ہے۔ ففٹی ففٹی اقتدار نے پیپلز پارٹی کو ایوان تو دے دیا، لیکن عوامی رشتہ چھین لیا۔ اور جو پارٹی عوام میں اپنی قبولیت کھو دے اس کا مستقبل ہمیشہ خطرے میں رہتا ہے۔اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ بلاول بھٹو صدر زرداری کے سیاسی انکیوبیٹر سے نکل کر پیپلز پارٹی کو دوبارہ "بھٹو اور بے نظیر کی پارٹی” بنا پائیں گے؟ اس کے لیے انہیں بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا جب تک پی پی حکومت کا حصہ رہے گی، بلاول کا "عوامی مسائل” اور "دھاندلی” کا بیانیہ عوام سنجیدہ نہیں لیں گے۔ پہلے حکومت سے الگ ہونا پڑے گا۔ گذشتہ 16 سال کی مفاہمت نے کارکنوں کو مایوس کیا ہے۔ انہیں دوبارہ سڑکوں پر لانا، انہیں یہ یقین دلانا پڑے گا کہ پارٹی ملی بھگت یا "کچھ لو اور دونہیں” بلکہ عوامی سیاست کرے گی۔کہا جاتا ہے کہ پی پی پی اب سندھ تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ پنجاب، کے پی اور آزاد کشمیر میں کھویا ہوا ووٹ بنک واپس لانے کے لیے بلاول کو ذاتی طور پر جدوجہد کرنا ہوگی۔مستقبل میں بلاول کو بہت لمبی جدوجہد کرنا پڑے گی۔ انہیں مفاہمت اورمزاحمت کےدرمیان لکیر کھینچنی ہوگی۔ اگر وہ کامیاب ہوئے تو پی پھر سے قومی پارٹی بن سکتی ہے۔ اب فیصلہ اب بلاول کے ہاتھ میں ہے۔جبکہ نون لیگ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر 18ویں آئینی ترمیم کو نشانہ بنا کر پیپلز پارٹی کے "سندھ قلعہ” میں دراڑ ڈالنا چاہتی ہے اور کیا اس کا حتمی مقصد صدر زرداری کی "ایک زرداری سب پر بھاری”والی سیاسی برتری کو ختم کرنا ہے نون لیگ کا موقف شروع سے واضح رہا ہے۔ 2013ءسے 2018ءتک کی حکومت میں بھی وہ کہتی رہی کہ "صوبائی خودمختاری کی آڑ میں مرکز مفلوج ہو گیا ہے”۔ معیشت، توانائی، کرنسی اور قومی پالیسی پر جب صوبوں کی اپنی مرضی چلے تو ملک کیسے چلے گا؟اسٹیبلشمنٹ کا موقف بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ایک ملک، ایک پالیسی، ایک معیشت۔ اس لیے مرکز کو بااختیار بنانے کی بات دونوں کے ایجنڈے پر ہے۔پیپلز پارٹی کی 90 فیصد طاقت سندھ میں ہے۔ اور سندھ میں ان کی حکومت کی ریڑھ کی ہڈی 18ویں ترمیم ہے۔ اسی ترمیم نے سندھ کو فنڈز، صحت، تعلیم اور لوکل گورنمنٹ کا اختیار دیا۔اگر 18ویں ترمیم میں تبدیلی ہوئی تو سندھ حکومت کا بھی بجٹ کم ہوگا، صوبائی اختیارات واپس جائیں گے اور پی پی کا بنیادی بیانیہ "ہم نے صوبوں کو حقوق دلوائے” ختم ہو جائے گا۔صدر آصف زرداری کی ساری سیاست "مفاہمت” اور "صوبوں کے ذریعے مرکز پر دباو¿” پر کھڑی ہے۔ وہ کمزور مرکز میں طاقتور صوبوں کے ساتھ سودے بازی کر کے "کنگ میکر” بنے ہوئے ہیں۔اگر مرکز کو واقعی بااختیار کر دیا گیا تو پھر فیصلے بلاول ہاو¿س میں نہیں، اسلام آباد میں ہوں گے۔ پھر "ایک زرداری سب پر بھاری” کا فارمولا ناکام ہو جائے گا۔ نون لیگ کے لیے یہ سنہری موقع ہوگا کہ وہ زرداری کی چھتری سے مکمل نکل کر "سولو فلائٹ” کریے یہی سب سے بڑا سوال ہے کہ 18ویں ترمیم بچانے کے لیے پی کو سیاسی قربانیاں دینی پڑ سکتی ہیں مرکز میں نون لیگ کی حکومت کی "فٹی ففٹی” شراکت ختم کرنا پڑے گی۔ اپوزیشن میں جا کر ہی وہ 18ویں ترمیم کا مورچہ مضبوط بنا سکتی ہے۔ بجٹ، آئینی ترامیم اور اہم بلوں پر نون لیگ کا ساتھ چھوڑنا ہوگا۔ ورنہ "حکومت کا حصہ ہو کر 18ویں ترمیم کا دفاع” والا بیانیہ کمزور رہے گا۔ جیالوں کو دوبارہ متحرک کر کے "صوبائی خودمختاری مارچ” کرنا پڑے گا۔ ایوانوں کی بجائے عوام میں جا کر بیانیہ بنانا ہوگا۔ 18ویں ترمیم بچانی ہے تو "اقتدار کا تخت” چھوڑنا پڑے گایہاں سیاسی خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے۔ 2007ئ -2008ئ میں مشرف دور کے بعد نون لیگ اور پی پی "چارٹر آف ڈیموکریسی” کے تحت متحد تھیں، لیکن پھر اختیارات اور پنجاب پر اختلافات نے انہیں آمنے سامنے کھڑا کر دیا۔آج حالات 2018ئ کے معروضی حالات سے ملتے جلتے ہیں۔ ایک طرف نون لیگ "مضبوط مرکز” چاہتی ہے۔ دوسری طرف پی پی "مضبوط صوبے”۔ ایک طرف نون لیگ زرداری کی چھتری سے نکلنا چاہتی ہے، دوسری طرف زرداری نون لیگ کو بلیک میل کر رہے ہیں۔اگر 18ویں ترمیم کا "پنڈورا باکس” کھل گیا تو یہ دونوں پھر 2007ئ والی "محاذ آرائی کے سیٹ” پر آ جائیں گی۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس بار ثالث کوئی نہیں ہوگا۔ اس بار مقابلہ براہ راست "مرکز بمقابلہ صوبے” کا ہوگا۔سوال یہ نہیں کہ مرکز مضبوط ہونا چاہیے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ مرکز کو مضبوط کرنے کی قیمت کون ادا کرے گا؟ اگر ایسا ہوا تو اس کی سب سے بڑی قیمت پیپلز پارٹی کو چکانی پڑے گی۔ ان کا سندھ کا قلعہ کمزور ہوگا اور زرداری کی سیاسی برتری ختم ہوگی۔نون لیگ کو مضبوط مرکز چاہیے، اسٹیبلشمنٹ کو بھی یکساں پالیسی چاہیے، اب گیند پی پی کے کورٹ میں ہے۔ یا تو وہ اقتدار بچائیں یا 18ویں ترمیم کیونکہ دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔جبکہ پیپلز پارٹی کے مستقبل کا سوال بھی بہت اھم ہے، حالیہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی صدر زرداری کی مفاہمت کی بھینٹ چڑھ گئی نون لیگ اس مفاہمت سے بھر پور سیاسی فائدہ اٹھایا اس لیے کہا جاتا ہے کہ بلاول زرداری کا انتخابات میں دھاندلی کوئی جواز نہیں بنتا پیپلزپارٹی کا احتجاج مفاہمتی پالیسیوں پر ہونا چاہئے کہ صدر زرداری خود دوسری بار صدارت کے مزے لوٹ رہے ہیں اور پیپلز پارٹی کو نون لیگ کے رحم وکرم پر چھوڑ رکھا ہے#

پیپلز پارٹی مفاہمت کا شکار اور جیالے مایوس۔۔۔!!

جھنڈے بھی، پودے بھی!

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے